بیدر۔ 24؍جولائی (محمدیوسف رحیم بیدری): جناب رضوان تاج، میڈیا سکریٹری ویلفیر پارٹی آف انڈیا کرناٹک نے ایک پریس نوٹ  کے مطابق ریاست میں پچھلی حکومت کی بدعنوانیاں اور فرقہ پرستی سے تنگ آکر عوام نے کانگریس کو بھاری اکثریت سے حکومت کرنے کا موقع دیا ہے،لیکن اس حکومت میں بھی ہر روز ایک نیا بد عنوانی کا معاملہ سامنے آرہا ہے یہ انتہائی افسوسناک ہے ۔ بد عنوانی بھی فرقہ واریت کے برابر ہی ہے۔ان خیالات کا اظہار ویلفیر پارٹی کے ریاستی صدر ایڈوکیٹ طاہر حُسین نے ایک اخباری بیان جاری کرتے ہوئے کیا ہے۔
عوام نے ریاست میں جہاں فرقہ پرستی کو نکال باہر کرنے کے لئے اپنے ووٹ کا استعمال کرتے ہوئے بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کیا تھا،وہیں بد عنوانیوں سے پاک ریاست دیکھنا چاہتی ہے لیکن بد قسمتی سے ریاست میں کانگریس حکومت کے آنے کے بعد بھی بد عنوانیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ان کو موضوع بنا کر بی جے پی اور کا نگریس ایک دوسرے پر کیچڑ اُچھالنے میں لگے ہیں جب کہ ریاست میں مو سلادھار بارش کی وجہ سے عوام اور بالخصوص کسان بے حال ہے۔بی جے پی کی جانب سے کانگریس پر بد عنوانی کا الزام لگائے جانے کے بعد کانگریس نے بی جے پی کے دورِ اقتدار میں کئے گئے تمام بد عنوانیوں کی جانچ کا اعلان کیا ہے،اس سے بوکھلائی بی جے پی نے مرکز سے ای ڈی کو دعوت دے ڈالی ہے ،دوسری جانب ای ڈی جو کے بد عنوانیوں کی جانچ کرنے کے بجائے سیاسی انتقام لینے کا ایک آلہ بن چکی ہے، جانچ کے نام پر کانگریس حکومت بالخصوص وزیرِ اعلیٰ سدرامیا کو کمزور کرنے میں لگی ہے، جس کے نتیجے میں ریاستی حکومت کی جانب سے ای ڈی پر ہی ایف آئی آر کر دیا گیا ہے۔اس طرح نہ حکومت عوام کے مسائل میں دلچسپی لے رہی ہے اور نہ اپوزیشن کو عوام کا کچھ خیال ہے، دونوں پارٹیاں اپنے اپنے لیڈروں اور پارٹیوں کو بچانے کے چکر میں لگی ہیں۔
ریاست میں پچھلے چار پانچ سال سے تقریباً چار سو کروڑ روپیوں کا گھپلہ ہوا ہے،اقلیتوں اور دیگر کمزور طبقات کے لئے مختص رقم میں بھی بڑے پیمانے پر بدعنوانیاں ہوئی ہیں جس کی وجہ سے مستحق لوگوں کو اُن کا حق پہنچا نے کے بجائے گھپلہ خوروں کی جیب میں گیا ہے۔ اب کانگریس حکومت پر بھی اسی طرح کے الزام آرہے ہیں کہ اپنی گیارنٹی اسکیموں کے لئے پیسہ جٹانے کے لئے بورڈ اور کارپوریشنوں کے لئے مختص پیسہ کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ اُنہوں نے کانگریس حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت بیدار ہوجائے،عوام نے جس اعتماد کے ساتھ بھاری اکثریت سے حکومت کرنے کا جو موقع دیا ہے اس کا صحیح استعمال کرے،بارش سے متاثر غریب خاندانوں کو معاوضہ دینے اور بارش کی وجہ سے جن کسانوں کی فصلیں تباہ ہوئی ہیں ان کو فوری راحت پہنچانے کی جانب توجہ دے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے