مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی 
نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھاڑکھنڈ 
 امریکہ میں آئے دن گولی باری کے واقعات ہوتے رہتے ہیں اور کوئی بھی سر پھر اکسی مار کیٹ میں اور کہیں بھی گھس کر بے گناہوں کو قتل کر کے چلتا بنتا ہے، وہاں بندوق کا حاصل کرنا دوسری چیزوں کی طرح آسان ہے اور بندوق رکھنا فرد کی آزادی کے ذیل میں آتا ہے اس لیے اس پر کوئی قانونی قد غن اور پابندی نہیں ہے، جب بھی کوئی واقعہ ہوتا ہے تو بحث چلتی ہے اور پھر جلدہی فرد کی آزادی کے حوالہ سے یہ سلسلہ رک جاتا ہے۔
تازہ واقعہ سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ پر حملے کا ہے، ان پر ایک انتخابی جلسہ میں اونچی عمارت سے گولی چلائی گئی جو ان کے کان کو چھوتی ہوئی گذر گئی ان کے محافظوں نے انہیں جلدی سے نیچے کر دیا، اور وہ بال بال بچ گیے،چار سکنڈ میں ایک سو بیس میٹر کی دوری سے ان پر آٹھ گولیا چلائی گئیں، لیکن صرف پچھہتر سکنڈ میں ٹرمپ نے اپنے ہوش وحواس اکھٹے کیے اور حامیوں کو مکا دکھا کر یہ بتانے کی کوشش کی کہ وہ گھبرائے ہوئے نہیں ہیں اور یہ کہ ان کے اندر مقابلے کی قوت ہے۔
 حملہ آور کی شناخت تھامس کرک کے طور پر کی گئی ہے وہ پن سلوینیا کے بیتھل پارک کا رہنے والا ہے، وہ ٹرمپ کی ری پبلک پارٹی کا رجسٹرڈ ووٹر ہے، اور پارٹی کو چندہ بھی دیتا رہا ہے، اس کی عمر صرف بیس سال ہے۔
 وہ امریکہ کے موجودہ صدر جوبائیڈن کے خلاف صدارتی انتخاب میں مضبوط امیدوار کے طور پر ابھرے ہیں اور عوامی مباحثہ میں ٹرمپ ان پر بھاری پڑے تھے، جس کی وجہ سے جوبائیڈن پر امیدواری واپس لینے کا دباؤ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے، گولی باری کرنے والے دو میں سے ایک کو کسی نے گولی مارکر ہلاک کر دیا اور ایک پولیس کی گرفت میں آیا، جان بچانے کے لیے گولی چلنے کے بعد جلسہ میں افرا تفری مچ گئی، کئی لوگ زمین پر لیٹے نظر آئے، پوری دنیا میں اس واقعہ کی مذمت کی گئی، خود جو بائیڈن اور بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی اس حملے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ جمہوریت میں تشدد کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔اس واقعہ نے امریکہ کے حفاظی انتظامات پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے اور پوری دنیا میں مضبوط نظام تحفظ کی ایسی کرکری ہوئی ہے کہ اس کے ذمہ دار کے لیے اسے برداشت کرجانا آسان نہیں ہے، چنانچہ جانچ شروع کر دی ہے، اور حفاظتی نظام کے ذمہ دار کو سمن بھیجا گیا ہے کہ وہ اس حادثے کی وجوہات بتائیں۔
 امریکہ میں صدارتی امیدوار پر حملے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے، اسکے قبل صدارتی امیدوار رابرٹ ایف کینڈی کو 1968ء میں کیلی فورنیا کے لاس انجیلس واقع ایمبیسڈر ہوٹل میں گولی مار کر ہلا ک کر دیا گیا تھا، قاتل سرہن تھا، جسے عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
 ٹرمپ کی طرح کئی خوش قسمت صدر حملہ میں بال بال بچ گیے، امریکہ کے بتیسویں صدر فرنک لین ڈی روزویلٹ1933ء میں ہری ایس ٹومین، 1950ء میں اڑتیسویں صدر گورالڈ فورڈ1975ء میں رونالڈریگن پر 1981ء میں، اور جارج ڈبلو بش پر 2005ء میں حملے ہوئے اور وہ بچ گیے۔
لیکن ان لوگوں کی طرح بعض امریکی صدر خوش قسمت نہیں ثابت ہوئے اور انہیں حملوں میں جان سے ہاتھ دھونا پڑا، ان میں پہلا نام ابراہم لنکن کا آتا ہے، وہ امریکہ کے پہلے صدر تھے، انہیں جان واٹکس بوتھ نے 14/ اپریل 1965ء کو گولی مار کر قتل کر دیا تھا، بعد میں قاتل کو بھی جب وہ گرین کے ایک کھیت میں چھپا ہوا تھا 26/ اپریل 1965ء کو صرف بارہ روز کے بعد گولی مار دی گئی تھی۔
یہ سلسلہ یہیں پر رکا نہیں بلکہ امریکہ کے دوسرے صدر ایمس گارفیلڈ کو اقتدار سنبھالنے کے صرف چھ ماہ بعد قتل کر دیا گیا، وہ واشنگٹن ڈی سی کے بلمار اسٹیشن پر نیو انگلینڈ جانے کے لیے ٹرین کا انتظار کر رہے تھے کہ 2/ جولائی 1981ء میں ان پر جان لیوا حملہ ہوا، یہ حملہ ”چارلس گیتے او“ نامی شخص نے کیا تھا، 1982ء میں اس حملہ کی وجہ سے قاتل کوسزائے موت دی گئی۔
 اس فہرست میں ویلیم میکنلے بھی شامل ہیں، جنہیں نیو یارک کے بفیلو میں بہت قریب سے دو گولی ان کے سینے پر ماری گئی، جس کی وجہ سے ستمبر1901ء کو ان کی موت ہو گئی، ان کا قاتل ایک اٹھائیس سالہ لیون ایف تھا، جسے 29/ اکتوبر 1901ء کو کرنٹ کے ذریعہ سزائے موت دی گئی۔
حملہ میں مرنے والے اب تک کے آخری صدر جان ایف کینڈی ہیں، جو امریکہ کے پینتیسویں صدر تھے، 1963ء میں ان کا قتل ہوا، قاتل لی ہاروے اوسوالڈ تھا، صرف دو دن بعد جیل لے جاتے وقت اس کو بھی کسی نے گولی مار دی اور یہ قصہ تمام ہو گیا۔
 ظاہر ہے امریکہ میں یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے، پوری دنیا کو اسلحے کی سپلائی اور مختلف ملکوں میں تشدد بھڑکانے والا یہ ملک خود اپنی آگ میں جلتا رہا، ”چاہ کن را چاہ در پیش“ اسی موقع کے لیے کہا گیا ہے، ”جس کرنی تس بھوگ“ کا محاورہ بھی لوگ استعمال کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے