محمدیوسف رحیم بیدری،بیدر،کرناٹک
۱۔ لازمہ 
محبت میں محبت نہیں ہے، اور شرافت میں سے شرافت عنقاہے۔ ون مائنس ون ایز ایکول ٹو زیرو کا معاملہ زمانے بھر میں چل رہاہے۔ تھوڑا سامنہ ٹیڑھاکردیا تو یہ وہاں سے پھرآئے ۔زندگی نہ ہوئی چچا غالب ؔ کاکعبہ ہوگیا۔
اوریہ دلی والے بھی نا، عجب لوگ ہیں، آگرہ کے غالب ؔ کی مزار اور ان کے کلام پرناز کئے پھرتے ہیں۔ اپناکوئی استاد ذوق یاپھر ظفرؔ انھوں نے اپنے لئے بچا نہیں رکھاہے۔ انگریزوں کے حوالے کیاکردیاکہ ظفر ؔکوپوری طرح بھول بیٹھے۔ اپنوں کی اسی قدر ناقدری کااثر سمجھئے کہ زہر میں زہرکا جوہر ِ اصلی نہیں ہے تو تریاق سے کیاپوچھو ہوکہ کام آؤگے یاکام سے ہاتھ دھولوگے ؟
انھوں نے اپنی بکھری سانسوں کومجتمع کیا ۔بڑھاپا دستک دے رہاتھا ، اسلئے سانسیں بریک چاہتی تھیں۔ انھوں نے  ادھر اُدھر دیکھا۔ ہری ہری گھاس تھی۔ پیڑبھی جھوم جھام رہے تھے۔پرندے اڑے جارہے تھے۔ دھوپ نے اپناکنواراپن جگہ جگہ نثارکررکھاتھا ۔ان سب سے نظر ہٹاکر موصوف نے طلبہ وطالبات کی طرف دیکھااور گویاہوئے’’جو نہیں ہے ، زمانے کو اسی کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے ۔ شرافت دِکھانااور انسانوں میں محبت تقسیم کرنا سیکھ لیں ،اِن دونوں کاقحط ہے ، اگر ایسا کروگے تو انسانوں کے مسیحا بنوگے ۔ ورنہ بے وفائی تو شیطانیت کالازمہ ہے ‘‘
۲۔ سنگساریت کی لت 
حافظ صاحب نے بتایاکہ’’ ہم ذلیل ہونا نہیں چاہتے مگرذلیل ہوگئے، انھوں نے خوب مارا پیٹا، ابھی تک بدن دُکھ رہاہے ، زخم بھی نکل آیاہے‘‘ مجھے ان کی معصوم باتوںپر غصہ تو بہت آیا لیکن اس کو ضبط کرتے ہوئے صرف اتناکہا’’غلط کام کا نتیجہ حافظ صاحب غلط ہی ہوتاہے ‘‘ حافظ صاحب چالاک آدمی تھے۔ کچھ سوچتے ہوئے بولے ’’ہمیں تووہ لوگ سنگسار کردینا چاہیے تھالیکن چوں کہ یہاں اسلامی قانون نہیں ہے، اسلئے ہم بچ گئے ‘‘
اُس دِن کے بعد سے میری اور مولاناکی کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔ سناہے کہ ممبئی میں کہیں ملازمت کرتے ہوئے دوسری دفعہ سنگسار ہونے سے پھر بچ گئے ہیں۔
۳۔ فدالوگ 
ڈبہ گول ہوچکاتھااور میں اس چوکور ڈبہ میں چور کو ڈھونڈ رہاہوں۔اس کمال کی معصومیت پر سبھی فدا ہوگئے۔ ہاتھ نکل آیا۔ سبھی کام کے لوگ مل گئے
۴۔ لقویٰ شدہ حقیقت 
سارے بت گرادئے گئے۔ اور جو زندہ بت دفاتر میں بیٹھے ہوئے تھے ، انہیں بھی نیچے اترنے پر مجبور کردیاگیا۔ اس نے توکہابھی تھاکہ سوڈیڑھ سو شہریوں کی موت انقلاب نہیں لاسکتی، کوئی ہاتھ ضرور ہے بت گرانے اور تخت پلٹانے کے پیچھے۔ آج پتہ چلاکہ انکل سام کاہاتھ ہے۔ یقین نہیں آتاکہ انکل سام کا لقویٰ شدہ ہاتھ اس قدر طاقتور ہوگا۔دوسری جانب اسلام کا نعرہ لگانے والے بھی تو طاقتور نظر نہیں آرہے ہیں۔ آخر حقیقت کہاں پوشیدہ ہے ؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے