نئی دہلی: ’’آزادیٔ ہند کی تاریخ میں علمائے کرام نے بہت سرگرم رول ادا کیا ہے اور وہ تحریک آزادیٔ ہند کے ہراول دستہ میں رہے ہیں۔ انہوں نے اس تحریک کو اپنے خون پسینہ سے سینچا،شاہ ولی اللہ، شاہ عبدالعزیز،سید احمد شہید، شاہ اسماعیل شہیداورعلمائے صادق پورکی قربانیوں کا مطالعہ کریں گے تو یہ بات عیاں ہوجائے گی کہ سب سے پہلے انگریزوں کے فتنہ کو ان ہی علمائے کرام نے بھانپا اور ان کے ظلم و زیادتی کے خلاف محاذ آرائی کی اور آزادی کے لئے راستہ ہموار کیا۔‘‘ ان خیالات کا اظہار مولانا محمد اظہر مدنی نے معہد علی بن ابی طالب لتحفیظ القرآن الکریم اور جامعہ ازہر ہندیہ میںبعد نماز عشاء منعقدہ ایک سیمپوزیم میں اپنے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کیا۔
مولانا نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جس طرح آزادی کے لئے علمائے اہلحدیث اور دیگر علمائے کرام نے قربانیاں دیں، دیش کی آزادی کے بعد تعلیم و تربیت اور تعمیر وطن کے لئے بھی اپنی بے مثال کوششیں صرف کیں، آزادی کے معنیٰ اپنے حقوق کے نام فساد و بگاڑ نہیں بلکہ آزادی کے لئے دی گئی اپنی بے مثال قربانیوں کی صرف اس کی ترقی اور تعمیر کے لئے بھی ہرمیدان میں صالح عنصر بن کر قربانیاں پیش کیں اور آج بھی وطن عزیز کے لئے قربانیاں دے رہے ہیںاور ہم یہی درس نونہالوں اور ملک کے جیالوں کو دیتے ہیں۔
مولانا نے اس موقع پراپنے کلیدی خطاب کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ وطن کی تعمیر و ترقی میں ہرشخص کو اپنا فرض نبھانے کی ضرورت ہے تاکہ ہمارا ملک روبہ ترقی ہو، امن و شانتی کا گہوارہ بنارہے اور مذہبی رواداری اور قومی یکجہتی کو فروغ حاصل ہو۔
اس سیمپوزیم میں طلبائے معہد اور جامعہ ازہر ہندیہ نے بھی حب الوطنی، قومی یکجہتی اور مذہبی رواداری پر مبنی ایک بہت ہی عمدہ اور معنیٰ خیز پروگرام پیش کیا جسے حاضرین نے خوب خوب پسند کیا اور طلبہ کے ذریعہ عناوین کے عمدہ انتخاب، انداز خطابت، لہجہ، انداز تکلم وغیرہ کو بے حد سراہا اور بچوں کے بہتر مستقبل کے لئے دعائیں دی۔
پروگرام کی ابتداطالب علم عبدالرؤف کی تلاوت کلام پاک سے ہوئی جس کا اردو ترجمہ ناظر حسین نے اور انگریزی ترجمہ توقیر عالم امان اللہ نے پیش کیا۔شہید الاسلام اور ان کے رفقاء نے نہایت ہی مترنم آواز میں ترانۂ ہندی ’’سارے جہاں سے اچھا‘‘پڑھا، پھر آصف عبیدالرحمن، عتیق اظہر، عبدالرحیم، ناظم سعیدالرحمن اور شہید الاسلام نے بالترتیب انگلش، ہندی، عربی اور اردو زبانوں میں تقاریر پیش کئے جن میں انہوں نے آزادی کے صحیح معنیٰ و مفاہیم کی وضاحت کی اور آزادیٔ ہند کے جیالوں کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیااور ثانویہ متوسطہ کے طالب علم احتشام احمد نے’’ترنگا زندہ باد‘‘ عنوان سے ایک خوبصورت نظم پڑھا۔ اس کے علاوہ مختلف طلبہ نے مختلف مفید مضامین پر مختلف و دل کو چھو لینے والے پروگرام پیش کئے۔
اس پروگرام سے جن اہم شخصیات نے خطاب کیا ان میں محمد نسیم فیضی، محمد بن خورشید مدنی،عبدالمومن سنابلی، معین الدین عثمانی، قاری ولی اختر، پرویز عالم فیضی، معین فلاحی، انجنیئر تسلیم عارف اور خلیل احمد اہم اور قابل ذکر ہیں۔
عبدالمومن سنابلی نے اپنا تاثر پیش کرتے ہوئے اس سیمپوزیم میں معہد علی بن ابی طالب اور جامعہ ازہر کے طلبہ کے کارکردگی کی ستائش کی اور کہا کہ طلبہ نیاس مناسبت سے جو پروگرام پیش کئے ہیں وہ اس بات کا غماز ہے کہ ان کے اساتذہ و ذمہ داران اپنی کوششوں میں حددرجہ مخلص ہیں اور وہ اپنے مقاصد کی حصولیابی میںصحیح سمت میں رواں دواں ہیں۔
مولانا محمد بن خورشید سنابلی نے کہا کہ ہم نے دو روز قبل یوم آزادی منایا ہے اور اس مناسبت سے یہ جشن آزادی کے عنوان سے سیمپوزیم کا انعقاد عمل میں آیا ہے، اس موقع پر ہمیں اپنے آباء و اجداد کی قربانیوں کوازبر رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ تاریخ مسخ کرنے کی سبھی کوششیں ناکام ہوسکیں۔
مولانا محمد نسیم فیضی نے اس مناسبت سے ادارے کے ذمہ داران کو مبارک باد دیا کہ آپ نے جو پودا لگایا کہ وہ بڑی تیزی کے ساتھ تناور ہورہا ہے اور ادارے کے بچے بڑے فراٹے کے ساتھ مختلف زبانوں میں تقاریر پیش کررہے ہیں جو کہ ادارے کے مستقبل کے لئے نہایت ہی خوش آئند ہیں۔
معین الدین عثمانی صاحب نے کہا کہ آپ معہد علی بن ابی طالب لتحفیظ القرآن الکریم اور جامعہ ازہر ہندیہ کے طلبہ کا حب الوطنی سے سرشار پروگرام دیکھ اور سن رہے تھے، یقینا ہمارے مدارس جہاں ایک طرف اسلامی قلعے ہیں، وہیں دوسری طرف سے نسل نو کو بہتر انسان بھی بنایا جاتا ہے تاکہ وہ اپنے اوپر عائد حقوق کے ساتھ ساتھ وطن سے الفت و محبت کا اظہار کرے۔
قاری ولی اختر صاحب نیاپنے مختصر خطاب میںکہا کہ آپ علوم شرعیہ کے طلبہ ہیں، حقیقی معنوں میں آپ ہی کامیاب ہیں بشرطیکہ آپ قرآن کریم کو اپنے لئے حرزجاں بنائیں اور اس کی تعلیمات کو اپنی زندگی میں اتاریں جو سراسر انسانیت نوازی اور حقوق کی پاسداری سکھاتے ہیں۔
مولانا پرویزعالم فیضی نے کہا کہ وطن سے محبت فطری ہے اور یہ محبت ہر ہندوستانی کے دل میں جاگزیں ہوتا ہے،چنانچہ کسی کے وطن پریم میں شک کرنا یا شک کی نگاہوں سے دیکھنا درست نہیں ہے بلکہ وطن اور اہل وطن کو کمزور کردیتا ہے۔
انجینئر تسلیم عارف صاحب نے جامعہ ازہر اور معہد علی کے طلبہ کو کامیاب پروگرام کے انعقاد پر مبارک باد پیش کی۔
اس پروگرام میں جن مشہور شخصیات نے شرکت کی ان میں قاری امروز صاحب، مولانا محمد عرفان تیمی، عبداللہ سلفی، مصطفیٰ سنابلی، محمد وسیم ریاضی، سعیدالرحمن سنابلی، ماسٹر اشفاق صاحب اور علی اختراہم اور قابل ذکر ہیں۔ پروگرام میں نظامت کے فرائض قاری عبدالرحمٰن ثاقبی نے انجام دیا۔
