بیدر۔ 19؍اگست (پریس نوٹ): بزرگ شاعر اور 14سے زائد کتابوں کے مصنف اور مؤلف جناب نثاراحمدکلیم ؔ کو ہم سے بچھڑے ہوئے آج پورے 9سال ہوگئے۔ ان 9؍سال میں سی اے اے ، این آرسی اور کورونا کاقہر ایسا برساکہ نثاراحمدکلیم ؔ حیات ہوتے تو ان واقعات کو بھی منظوم کئے بنا نہ رہتے۔ یہ بات معروف شاعر وادیب جناب محمدیوسف رحیم بیدری نے کہی ہے۔ انھوں نے ایک پریس نوٹ جاری کرتے ہوئے کہاکہ گذشتہ 9سال کے درمیان نثاراحمد کلیم ؔ صاحب کے گھرانے سے ان کے چھوٹے فرزند اور ان کی ادبی سرگرمیوں کادایاں ہاتھ کہلانے والے جناب شفیق احمد کلیم بھی اچانک ہی
اللہ کو پیارے ہوگئے۔ یقین نہیں آتاکہ فرزند اور والددونوں اب ہمارے درمیان نہیں ہیں۔ 19؍اگست 2015؁ء کو بیدر میں ان کے مکان موقوعہ رٹکل پورہ بیدر میں نثاراحمد کلیم نے آخری سانس لی۔ جس کی اطلاع مجھے پروفیسر رؤف خوشتر نے بیجاپور سے صبح 8:47کو دی تھی۔نثاراحمدکلیم محکمہ تعلیمات سے وظیفہ لینے کے بعد پوری طرح اردوادب کی ترقی وترویج میں لگے رہے۔ بیرون بیدر سے آنے والی ادبی شخصیات ان کے ہاں مہمان ہوتیں۔ ان کی مہمان نوازی کرتے ہوئے وہ بڑے خوش نظر آتے۔

آخری دِنوں میں نعت شریف کہنے کی طرف زیادہ متوجہ تھے۔ کوئی بھی کلام کہنے کے بعد خاکسار (محمدیوسف رحیم بیدری) کو سناتے اورمیری رائے طلب کرتے۔ان جیساشاعر اور مہمان نواز ادیب بیدر کونہیں مل سکا۔اس کے لئے انتظار توکرنا پڑے گا۔ یوسف رحیم بیدر ی نے پریس نوٹ کے آخر میں کہاہے کہ نثاراحمد کلیم کی 14سے زائد ادبی کتابیں ان کے لئے صدقہ ء جاریہ ہیں۔ میں مولوی محمد نثاراحمد کلیم کی مغفرت کیلئے دعاگو ہوں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے