محمدیوسف رحیم بیدری 
۱۔ چھلاوہ راستہ 
اس نے اپنے تجربات بتاتے ہوئے کہا کہ کبھی کبھی تو اپنانام پہلے لکھ کربعد میں افسانچہ لکھنے کے چکرمیں بہت سے خیال مرجاتے ہیں۔ اور ایسا کئی دفعہ ہوچکاہے ، جس کے نتیجہ میں کئی ایک افسانچے وجود میں نہ آسکے۔ اس قدر تیز دھار اور رفتار والا راستہ ہوتاہے۔ مل گیا تو مل گیا ورنہ کھوناتو طئے ہی سمجھاجائے۔
۲۔ مطلوبہ ضرورت 
وہ اُس رات اٹھ بیٹھاتھا۔ اس کو اوپر والے سے تین چیزیں مانگنی تھیں۔ صحیح راستہ، نوکری اور خوب خوب پیسہ ۔
وہ رات کوجب اٹھا تو کچھ زیادہ ہی روتارہا۔ نوکری اور پیسہ تو مانگ نہ سکا۔ صحیح راستہ مانگتے مانگتے وہیں سوئی اٹک کر رہ گئی اورآخرکار فجر کی اذان سنائی دی ۔
۳۔ تفریح کی جانب 
رائل پارک میںملاتھا۔ پوچھ رہاتھاکہ ’’سناہے آج کل دینداری چھوڑ بیٹھے ہو‘‘جواب تو دیناتھا۔میں نے بتایاکہ ’’ہاںیار، جب دینداری کرتے ہوئے بھی جہنم کے حوالے ہونا ہی ہے تو پھر کیوں نہ اس دنیا میں تفریح کرلی جائے۔ اس لئے آجکل تفریح پرہوں ‘‘
اس نے حیرت سے پوچھا’’وہ دین ِ اسلام کاقیام وغیرہ؟‘‘ میں ہنس پڑا۔ پھرمیں نے کہا’’اب دین کے قیام کی بات کرنے کے بجائے سماجی خدمت ہی دین کی قائم مقام بن گئی ہے ‘‘
وہ مزید حیرت سے پوچھا’’یہ میں کیاسن رہاہوں ؟‘‘ میں نے کہا’’مجھے نہیں پتہ ،تو کیاسن رہاہے ، میں تیرے کان میں بیٹھا وہ باتیں سن تو نہیں رہاہوں نا، ورنہ تجھے ضرور بتاتاکہ توکیاسن رہاہے ؟‘‘
میرا خیال ہے کہ رائل پارک اچھی جگہ نہیں ہے۔ آپ لو گ بھی جایا نہ کریں۔حیرت زدگی میں مبتلا لوگ وہاں ملتے ہیں۔چند لوگ بہرے بھی ہیں ۔
۴۔ نصیحت سیشن
سبھی کے پاس 24گھنٹے والا وقت ہی ہوتاہے لیکن سبھی کے پاس صلاحیتیں البتہ مختلف ہوتی ہیں۔ جو کام میں نہیں کرسکتا، وہ کام دوسراکرنے کی ہمت اور صلاحیت رکھتا ہے ۔ اسلئے آج دیکھ رہاہوں کہ سب کچھ دوسروں کے پاس چلاگیاہے۔ پیسہ ، روٹی، عزت ، ہوشیاری وغیرہ وغیرہ ۔اور اپنے پاس وہی نصیحت سیشن رہ گیاہے۔اس سیشن کو کوئی اٹینڈ نہیں کرتا۔اس سیشن کی بدولت دووقت کی روٹی بھی نہیں مل سکتی۔ البتہ اپنی بے لوثی اور قناعت پسندی کے چرچے جہاں بھر میں بہت ہوں گے ۔
کوشش کریں کہ ہماری طرف آپ نوجوان نہ آئیں۔ پہاڑ جیسی زندگی کاٹنی ہے آپ لو گوں کو۔ اور جانے کیسی بیویاں مل جائیں ۔ زندگی بنادیں کہ اجیرن کردیں۔ ٹھیک کہہ رہاہوں نا؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے