کتبہ: محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی

أنت في الناس تقاس

بمن اخترت خليلا

فاصحب الأخيار تعلوا

وتنل ذكرا جميلا۔

انسان مدنی الطبع ہے، وحدت وحشت ہے ،صالحین کی مجلس میں شرکت کرنا اچھی بات ہے، سعادت کی بات ہے، صالحین کی مجلسیں بابرکت ہوتی ہیں، غافل قلب بیدار ہوتا ہے، ضعیف نفس قوی ہوتا ہے، انشراح قلب حاصل ہوتا ہے اور خوشی کی لہر دوڑتی ہے نفس و روح کو سکون ملتی ہے ،مردہ ضمیر جاگ اٹھتا ہے ،انسان نشیط ہو جاتا ہے اس لئے کہ جب وہ بزرگوں کو دیکھتا ہے طاعت وبندگی میں منافست کر رہے ہیں ، صوم و صلاۃ میں سبقت کررہے ہیں تو یہ چیزیں ان کیلئے محفز و مشجع کا کام کرتی ہیں، معصیت میں منغمس آدم زاد تائب ہوتا ہے ،ماضی کے گناہوں کو یاد کر آنسو نکل پڑتے ہیں ۔ اذا ذکراللہ خالیا ففاضت عیناہ ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلاف کرام بزرگوں کی مجلسوں کو لازم پکڑتے تھے امام شافعی رحمہ اللہ نے کیا خوب کہا "لولا القيام بالأسحار ،وصحبة الأخيار ،ما اخترت البقاء في هذه الدار”

منكدر رحمه الله نے فرمایا ” ما بقي من لذات الدنيا إلا ثلاث قيام الليل ، ولقاء الإخوان والصلاة في الجماعة ”

علامہ ابن القیم رحمہ اللہ نے فرمایا جب شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ جیل میں تھے اور ہم لوگوں کو خوف محسوس ہوتا ، دل مضطرب و پریشاں ہو جاتا تو ہم استاذ علامہ ابن تیمیہ کے پاس آجاتے اور آپ سے ہمکلام ہوتے ہی ٹینشن دور ہو جاتا اور دل میں خوشی محسوس ہونے لگتی ۔

معلوم ہوا کہ صحبت اخیار و صالحین کے بہت زیادہ فوائد ہیں۔ آج انٹرنیٹ کے دور میں لوگ موبائل فون میں مشغول ہو گئے اور اپنے اذہان و قلوب کو مکدر کرلیا، افکار ونظریات بگڑ گئے۔ بچے جوان سب مست و مگن ہیں اور موبائل کو ہی لذت ودل بہلانے کے لیے استعمال کرنے لگے ہیں نتیجۃ ہمارے بچے و جوان بزرگوں کے تجربات و خبرات سے محروم ہو گئے ہیں، والدین و سرپرستوں کو چاہئے کہ اس جانب بھی توجہ دیں ۔ اور صحبت اشرار سے بچائیں اس لئے کہ ۔

عن المرء لا تسئل وسل عن قرينه

فكل قرين بالمقارن يقتدي

إذا كنت في قوم فصاحب خيارهم

ولا تصحب الأردى فتردى مع الردي،

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے