ذکی طارق بارہ بنکوی
سعادتگنج،بارہ بنکی،انڈیا
جب دھوپ اُگی ہوٸی ہو تو پرچھاٸیاں پرکھ
چہرہ نہ پڑھ خیال کی سچاٸیاں پرکھ
جو سانس سانس درد سے مہکاٸیں جسم کو
اے طالبِ شمیم وہ پرواٸیاں پرکھ
مانا نڈھال کر گٸی ساون تری پھوار
تحریک دے رہی ہیں جو انگڑاٸیاں پرکھ
ان سے ہی شش جہات میں ہیں میری شہرتیں
اس ز ا و یے سے تو مری رسواٸیاں پرکھ
راتوں کی تیرگی میں ہی تارے چمکتے ہیں
ویرانیوں میں انجمن آراٸیاں پرکھ
نورِ سحر ہی آمدِ شب کی دلیل ہے
وقتِ وصال آٸے تو تنہاٸیاں پرکھ
تو صرف ان پہاڑوں کی اونچاٸیاں نہ جانچ
پہلے ذر ا ند ی کی بھی گہر ا ٸیاں پرکھ
