بھلا ہم وہ کہاں حق بات کہنے سے جو ڈر جائیں
یہ شانوں پرجو سر رکھا ہے یہ کس کام آئیگا!
یہ شانوں پرجو سر رکھا ہے یہ کس کام آئیگا!
سہارنپور(احمد رضا): سہارنپور ضلع ملک کا ایک ایسا ضلع ہے کہ جس کے دینی اور ادبی علوم کی خوشبوئیں دینا بھر کو علم کی دولت سے سرفراز كئے ہوئے ہیں وہیں دوسری جانب سے دیکھیں تو ہمارے سہارنپور کی خاص اہمیت کی حامل اور مقدس سرزمین پر دین اسلام کی بڑی بڑی ہستیاں پیدا ہوئی اور پوری دنیا میں نام روشن کیا اسی ضمن میں یہاں اردو ادب کو بلندیوں تک پہنچا نے میں بھی گزشتہ دو صدی کے دوران بہت سے ادبی ہستیون اداروں نے اپنی کامیابی کا لوہا منوایا اور خوب محنت انجام ڈی ہے وہ ہماری عزت کو چار چاند لگانے کے لئے کافی ہے۔
یہ سرزمین صدیوں سے اردو ادب اور اردو زبان سے محبتِ رکھنے والے افراد کی سرزمین رہی ہے ہم کو اپنی اس زمین پر فخر ہے، اردو زبان کی محبت اور عقیدت کی اسی چاہت اور محبت کے لئے یہاں 1984 کے بعد جس ادارہ نے مستقل طور پر اردو زبان اور اردو ادب کے لئے مسلسل جدو جہد کرتے ہوئے مستقل مزاجی کے ساتھ اور بے لوث اردو کی خدمت انجام دی ہے ان تنظیموں میں آج بھی ادبی ادارہ اردو مرکز سہارنپور کا نام سر فہرست ہے آپ کو بتاتے چلیں کہ اردو مرکز نےنقوش جاوید اور آبشار کی شکل میں دو تاریخی دستاویزی مجموعہ کلام کے علاوہ بہت سے استاد شعراء کے مجموعے کلام کی اشاعت کرنے کا جو تاریخ ساز کار نامہ انجام دیا ہے وہ ادب کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائیگا نیز اردو مرکز نے لاتعداد نشستیں بے شمار مشاعرے اور نہ جانے کتنے سیمینار کا انعقاد اپنے دم پر انجام دے کر جو کام کیا ہے وہ ضلع کی سنہری ادبی تاریخ بن گئی ہے۔ میں ادبی ادارہ اردو مرکز سہارنپور کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور کوشش کرتا رہوں گا کہ اردو مرکز سہارنپور میری صدارت میں اسی طرح فعال و متحرک رہے اور اپنےتخلیقی تعاون سے سہارنپور اردو ادب کی فضا کو مزید روشن اور خوشنما کرتا رہے!
مندرجِہ بالا خیالات کا اظہار اردو مرکز سہارنپور کے نو منتخب صدر بلال سہارنپوری نے کل دیر رات یہاں اپنے ایک استقبا لیہ تقریب میں کہی!
ادبی ادارہ اردو مرکز سہارنپوری کے عہدیداران کے از سر نو انتخاب کی میٹنگ کا انعقاد خرّم سلطان کی دعوت پر یہاں "کمل نجیب آبادی ہاؤس” شاہ مدار میں کیا گیا تھا جسکی صدارت ہارون صابر فریدی نے کی اور نظا مت خود خرّم سلطان نے کی اس موقع پر پوری کمیٹی کا انتخاب جمہوری طور پر عمل میں آیا خواجہ سلطان انجم ناصری و صابری اور دانش کمال کو سرپرست منتخب کیا گیا فیاض ندیم کو نگراں آصف شمسی کو نائب صدر ہارون صابر فریدی کو جنرل سیکرٹری خرم سلطان کو نائب سیکرٹری حاجی الیاس الم اور اخلاق احمد کو معاون ممبر اور جنید سہارنپوری مومن سہارنپوری شاکر نظر انتظار احمد گل محمد اور ڈاکٹر نوشاد کو خصوصی ممبر منتخب کیا گیا۔
اس موقع پر نو منتخب جنرل سیکریٹری ہارون صابر فریدی نے کہا کہ اردو مرکز ہمیشہ سے فروغِ ادب اور فروغِ زبان کے لیے کوشاں رہا ہے آج بھی اُردو مرکز سہارنپور کے زیرِ اہتمام شائع شدہ کتب سے مورخین فیضیاب ہوتے ہیں اور اپنی کتابوں میں اردو مرکز کی کتابوں کے حوالے دیتے ہیں یہ ہمارے لیے اعزاز بھی ہی اور ہماری خدمت کا اعتراف بھی ہے اب ہم نے اگلے دو سال کے لیے جو ہدف طے کیے ہیں کوشش کی جائیگی انکو بر وقت عملی جاما پہنایا جا سکے اسکے بعد نو منتخب تمام عہدیداران کی گل پوشی کی گئی اس موقع پر ایک مخصوص نشست کا بھی انعقاد کیا گیا جسکی صدارت ہارون صابر فریدی نے کی اور نظامت خرّم سلطان نے کی فیاض ندیم کی نعت سے محفل کا آغاز ہوا جن شعرا کے کلام کو زیادہ پسند کیا گیا انکا ایک شعر حاضر خد مت ہے!
سوچا جب انکی ذات پہ گہرائی سے بہت
ہوش و حواس اڑ گئے عقلِ سلیم کے
فیاض ندیم
عقل نے تھام لیا بڑھ کے جنوں کا دامن
ورنہ قاتل کو جو کرنا تھا مسیحا کرتا
ہارون صابر فریدی
میر و غالب داغ اپنی قدر سب کھونے لگے
قبر پر اردو کی اب تو جشن بھی ہونے لگے
بلال سہارنپوری
بھلا ہم وہ کہاں حق بات کہنے سے جو ڈر جائیں
یہ شانوں پرجو سر رکھا ہے یہ کس کام آئے گا
دانش کمال
زندگی روزِ بدلتی ہے تقاضے اپنے
اس کو میں نے بڑا آسان سفر جانا تھا
خرّم سلطان
جہاں میں فیصلے سارے اسی بنیاد پر ہونگے
تیرے اعمال کے چھینٹے تری اولاد پر ہونگے
آصف شمسی
یہ خشک پتیوں کا ساز سن فضا بھی ہے خموش
اُداس لے میں جیسے نغمئہ بہار کا خیال
ڈاکٹر الیاس الم
ماں کے قدموں سے بہت دیر لپیٹ کر رویا
مدتوں بعد مرے خواب میں جنت آئی
شرر اکملی
اب مرے قتل کا انجام نکل آیا ہے
استخارے میں ترا نام نکل آیا ہے
فیاض ندیم
اس طرح عشق میں روٹھتا کون ہے
مانتا ہوں کہ مجھ سے خطا ہو گئی!
جنید سہارنپوری
زندگی کا یہ حق ادا کرنا
اپنے ماں باپ سے وفا کرنا
مومن رحمان
ان کے علاوہ اس پر وقار تقریب میںگل محمد انتظار احمد انتظار ڈاکٹر نوشاد وغیرہ بھی موجود رہے پروگرام کے آخر میں صنوبر شیریں کی جانب سے بہترین ضیافت پیش کی گئی!
