سہارنپور ( احمد رضا): دادری چرخی ہریانہ میں مسلم افراد پر جا ن ليوا حملہ ایک موقعے پر دم توڑ گیا دوسرا شخص موت سے جنگ لڑ رہا ہے پھر ٹرین میں ستر سالہ مسلم بزرگ کے ساتھ ظلم اور فرعونیت روڑ کی میں وسیم کا پولیس کے ذریعہ گائے کے نام پر قتل جیسی دردناک اور دستورِ ہند کے خلاف رونما ہونے والی اب حرکتوں نے ملک کے مہذب اور سنجیدہ افراد کو دہلا کر رکھ دیا ہے۔ نماز، اذان، مسجد، مدرسہ، قرآن کے ساتھ ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت مبارک کے خلاف نازیبا جملہ بولتے بولتے نیز گائے کا گوشت کھانے اور رکھنے کا بہانہ بنا کر مسلم افراد کو قتل کرنے والے افراد سرکار کی خاموشی سے شاید یہ اندازے لگائے ہوئے بیٹھے ہیں کہ کہ ہم ہمیشہ مسلمانوں کا خون ایسے ہی بہا تے رہیں گے، کوئی بولے گا نہیں۔ یہ مونو ما نیسر، سوامی گری، نونیت رانا، گری راج سنگھ، ہیمنت بسوا سرما، نائب سنگھ سینی اور سریش چوہان جیسے افراد کی بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ اس ملک کا مسلمان ہزاروں سال سے ملک میں گالیاں کھاکر اور جانی مالی قربانیاں پیش کرکے بھی یہی سوچ کر چپ رہا کہ یہ اپنا ملک ہے، کوئی بات نہیں، سبھی کو مل جل کر ساتھ ساتھ رہنا ہے، دھیر ے سب ٹھیک ہو جائے گا۔

(تصویر: بشکریہ این ڈی ٹی وی انڈیا)
مگر پچھلے دس سالوں سے کچھ ظالم جابر گروہ کے لوگوں نے مسلم اقوام سے دشمنی کے جو شرمناک معاملات سرزد کئے ہیں ان سے ظاہر ہے کہ یہ ملک کبھی مسلم آبادی کو نہیں اپنائے گا۔ نفرت اور دشمنی مزید بڑھتی جا ئے گی، یہاں ہندو مسلم اتحاد اب شاید بھاجپا اور آر ایس ایس کے رہتے کبھی نہیں ہوگا بلکہ تقسیم کا خطرہ زیادہ نظر آنے لگا ہے۔ اگر وقت رہتے سرکار اور حزب اختلاف نے ہوش سے کام نہیں لیا تو ملک کے امن اور استحکام کے لئے ہندو شدت پسند افراد کی شرمناک حرکتیں بڑا خطرہ بن سکتی ہیں۔ اس لئے ضروری ہو گیا ہے کہ مسلم افراد پر حملے بند ہوں۔ آپ نے وہ محاورہ نہیں سنا، ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات۔ ان ظلم کے کیڑوں کی حرکات آپ نہیں دیکھ رہے ہیں کہ مسلمانوں کی ننانوے فیصد آبادی غزوہِ ہند سے ناواقف تھی جبکہ یہ بار بار غزوہِ ہند پر دھمکی بھری باتیں اور چڑانے والی باتیں کرتے رہنے ہیں۔ اب ایسا لگنے لگا ہے کہ جیسے یہ خود ہی اسے برپا کرنا چاہتے ہیں۔ اصل میں ان نام نہاد ہندو شدت پسند افراد کو اس خوش فہمی نے گھیر رکھا ہے کہ بھاجپا اور آر ایس ایس کی قیادت میں ہم دنیا کے سپر پاور بن کر جو چاہیں گے وہ کریں گے جبکہ مستقبل کی عالمی سیاست میں ان کا کوئی کارنامہ نہیں ہوگا۔ جہاں ساٹھ فیصد آبادی سطح غربت سے نیچے ہو اور حکومت کا کام صرف منافرت کی دیواروں کو بلند کرنا ہو وہ کبھی کوئی قابلِ قدر کارنامہ انجام دے ہی نہیں سکتی۔ تھوڑی بہت جو پوچھ ہوتی ہے اس کی وجہ صارفین کی بڑی تعداد ہے نا کہ قابلیت۔ یہاں کی وطن پرستی بھی جعلی ہے، موجودہ وطن پرست حکومت کے بعد لاکھوں لوگ یہاں کی شہریت کو خیر باد کرکے بیرون ملک بس چکے ہیں۔ کہنے کی ضرورت نہیں کہ جو گئے ہیں وہ مالدار تھے !
