گورنمنٹ ڈگری کالج ظہیر آباد میں یوم سرسید سے ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی کا خطاب
ظہیر آباد۔17اکٹوبر(غلام مصطفٰی محصولدار): سرسید احمد خان انیسویں صدی کی عہد ساز شخصیت تھے جنہوں نے مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد ہندوستانی مسلمانوں کو خواب غفلت سے جگانے اور ان کی ہمہ جہت ترقی کے لیے غیر معمولی خدمات انجام دیں۔ انہوں نے تعلیم کو ترقی کا زینہ قرار دیا۔ انگریزی تعلیم سے خود بھی آراستہ ہوئے اور اسکول اور کالج کھول کر اس دور کے ہندوستانی مسلمانوں کو ترقی کی راہ پر لگایا۔سرسید کا بڑا کارنامہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا قیام تھا جس کی علمی روشنی آج ساری دنیا میں عام ہے۔ دور حاضر کے مسلمان بھی تہذیبی و معاشرتی زوال سے دوچار ہیں اور انہیں ترقی کی راہ پر لگانے کے لیے سرسید کے علمی افکار سے روشنی حاصل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج ظہیر آباد نے کالج کے شعبہ اردو کے زیر اہتمام منعقدہ یوم سرسید تقریب سے کیا۔
اس تقریب میں ڈاکٹر عشرت صدر شعبہ اردو ڈاکٹر محمد تنویر صدر شعبہ تاریخ کالج کے طلبا و طالبات نے سرسید احمد خان کی حیات اور علمی و ادبی خدمات کا احاطہ کیا۔ اپنی صدارتی تقریر میں کالج کے پرنسپل ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی نے کالج کے طلباو طالبات پر زور دے کر کہا کہ آج دوسو سال گزرنے کے بعد بھی ہم ہندوستان کے عظیم مفکر سرسید احمد خان کو یاد کر رہے ہیں اگر ہم ان کے افکار پر عمل پیرا ہوں تو آگے ہمیں بھی لوگ یاد رکھیں گے انہوں نے کہا کہ سرسید کی شخصیت کی تعمیر میں ان کی والدہ کی تربیت‘ عربی و انگریزی تعلیم اور اپنے عہد کی روشنی سے سبق حاصل کرنا جیسے عوامل تھے۔ آج کے نوجوان قرآن سے روشنی حاصل کریں۔ انگریزی اور سائنس کی تعلیم حاصل کریں اور اپنے گھر محلہ سماج اور ملک کے مسائل پر غور و فکر کریں اور سرسید نے جس طرح اپنے افکار مضامین کتابوں اور تہذیب الاخلاق کی اشاعت سے عام کیے تھے آج بھی نوجوان سوشل میڈیا اور پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا سے اپنے افکار کو عام کرتے ہوئے سماجی اصلاح کا کام کرسکتے ہیں۔
سرسید نے جس طرح علی گڑھ تحریک سے سماجی اصلاح کا کام کیا اسی طرح آج کے نوجوان بھی سماجی تحریکات کے ذریعے ملک و قوم کی اصلاح کرسکتے ہیں۔ سرسید کے مضامین اور ان کی تصانیف کی مطالعے سے ہم سرسید کی فکر سے روشنی حاصل کر سکتے ہیں۔ اس پروگرام میں کالج کے لیکچررز سید واجد علی‘ محمد معراج‘ محمد مبین‘ ڈاکٹر رابعہ تحسین زویا‘ عشرت اور فاطمہ نے شرکت کی۔
