بیدر۔ 31؍اکٹوبر(محمدیوسف رحیم بیدری): جناب رحیم خان وزیر بلدیہ اور حج ، حکومت کرناٹک چاردفعہ اسمبلی انتخاب جیت چکے ہیں ۔ تین سال بعد وہ پانچویں دفعہ انتخاب لڑیں گے۔ دوسری طرف وہ دودفعہ وزیر بن چکے ہیں۔ اسلئے ان کے چاہنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہواہے۔ ان کے خلاف پہلے بہت سی آوازیں خود ان کی کانگریس پارٹی سے اٹھتی تھیں لیکن اب وہ آوازیں بھی آہستہ آہستہ معدوم ہوتی جارہی ہیں۔ پچھلے میں ہم نے لکھاتھاکہ وہ ایک دن اچانک ڈپٹی وزیراعلیٰ کے عہدے پر پہنچ سکتے ہیں۔ تاہم ان کے کام کاج کی آہستہ رفتاری کے باوجود وہ جس تیزگامی سے بیدر میں اور پوری ریاست میں مقبولیت اختیارکرتے جارہے ہیں، وہ ان کی مسلمانوں سے دوری کے بیانات کانتیجہ ہے۔ انھوں نے ابتداء سے خود کو مسلمانوں اور مسلمان ووٹرس سے باندھے نہیں رکھا۔ جس پر ان کی مخالفت ہوتی رہی لیکن وہ صاف صاف کہتے رہے کہ میں سبھی کاایم ایل اے ہوں۔ ’’سبھی کاایم ایل اے ‘‘ا ور ’’غریب ایم ایل اے ‘‘ کے علاوہ ’’بیجاراایم ایل اے ‘‘ جیسے ٹیگ نے ان کی اہمیت میں اضافہ ہی کیاہے۔

آج جب کہ ان کے حلقۂ انتخاب بیدرمیں دیکھتے ہیں تو یوں لگتاہے کہ ان کاہر مخالف کانگریس پارٹی میں داخلہ لینے کے لئے تیار ہے اور وہ خود بھی مختلف افراد کو پارٹی میں داخلہ دلاکر کانگریس پارٹی کو مضبوط کررہے ہیں۔ ان کے اس عمل سے خدشہ صرف اس بات کا ہے کہ کہیں پانچواں انتخاب وہ ہار نہ جائیں۔ کیوں کہ رحیم خان صرف دلی ہمدردی رکھنے والے ایم ایل اے اور وزیر کانام نہیں ہے۔ انھوں نے چند ایسے فیصلے بھی کئے ہیں جنہیں سخت فیصلے کہاجاناچاہیے۔ جن لوگوں پر ان سخت فیصلوں کی گاج گری ہے، وہ بھی آج کل کانگریس پارٹی میں آرہے ہیں۔ ایسے افراد کی آمد سے قوی امکان ہوتاہے کہ یہ لوگ انتخابات کے دوران رحیم خان کے خلاف کام کریں گے۔ جس کی وجہ سے ان کی کراری ہار ممکن ہے۔ یعنی ہماری نظر میں تین سال بعد ہونے والااسمبلی انتخاب رحیم خان کے لئے اگنی پریکشا سے کم نہیں ہوگا۔
اور یہ بات تب اور بھی نمایاں ہوکر سامنے آئے گی جب سی ایم فیض جیسے مسلم امیدوار ان کے سامنے کھڑے ہوجائیں گے۔ یاپھر بی جے پی ان کے سامنے نیاامیدوارکھڑاکرے گی جوایک عمر دراز بزنس مین ہوگا۔ قسمت کی دیوی مہربان ہوگی تو بیڑا پار ہوگاورنہ ۔۔۔۔۔۔۔ سوچنے والے دماغ آگے تک سوچ سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے