بیدر۔3؍نومبر(محمدیوسف رحیم بیدری): مذہبِ اِسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اس میں انسان کے انفرادی اور اجتماعی دونوں شعبوں کیلئے وہ تمام ہدایات موجود ہیں، ساتھ ہی ساتھ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ علم انسانی زندگی کا اہم حصہ ہے۔ تعلیم کے بغیر اس انسان کا تصور ممکن نہیں۔ اللہ نے ا نسان کو اعلیٰ مخلوق کا درجہ دیا ہے۔ اس درجے میں اپنے آپ کو شامل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ علم حاصل کرو تاکہ آپ کی آخرت سدھر جائے۔علم دولت حاصل کرنے کیلئے نہیں بلکہ انسان کو تعلیم کے ساتھ ساتھ اللہ کے خوشنودی حاصل کرنے والا بنائے۔ ان خیالات کا اِظہار ڈاکٹر ڈاکٹر طحہ متین نائب صدر منیجنگ ٹرسٹی  منصورہ ایجوکیشنل اینڈ ولفئیر ٹرسٹ ہاسن و ٹرسٹی تقوی ٹرسٹ بنگلور نے آج  بیدر شہر میں واقع  شاہین کیمپس شاہین نگر میں فیڈریشن آف مسلم ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنس (FMEI) کرناٹک کی جانب سے منعقدہ ریاستی سطح کی تیسری کانفرنس بعنوان ’’ایجوکیشن لیڈر شپ ٹو ٹرانفارم سوسائٹی‘‘ میں بطور مہمانِ خصوصی شریک رہ کر اپنے خطاب میں کیا۔
انہوں نے کہا کہ انسان کو معلوم ہو کہ اس کا خالق کون ہے،دنیا میں اسے کس مقصد کے لئے بھیجا گیا ہے، بحیثیت انسان اس کی ذمہ داریاں کیا ہیں۔اگر کوئی انسان ان بنیادی باتوں سے بے خبر ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ انسان کے مقام سے بہت پیچھے ہے۔ اگر اسے اس صف میں شامل ہونا ہے تو علم حاصل کرنا ہو گا تبھی حیات ومقصدِ حیات سے روشناس ہوسکتا ہے۔ اس یاد دہانی کے بعد تعلیم کی ضرورت اور اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔تعلیم، حصولِ معاش کاذریعہ بھی ہے اس سے اہم بات یہ ہے کہ تعلیم سماج کی صالح تعمیر کا سبب بنتی ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس انداز میں علم کو فروغ دیا اس کی مثال نہیں ملتی علم کے حصول کے لئے اصحاب صفّہ نے زریں مثال قائم کی ہے۔انہوں نے حصول علم کے لیے خود کو وقف کر دیا۔ آج ہم سب کا یہاں جمع ہونے کا مقصد یہی ہے کہ آپ کے ادارے سے تعلیم حاصل کرنے والا طالبِ علم سماج کی صالح تعمیر کا سبب بن جائے۔ یہی آپ کے ادارہ کی ترقی اور کامیابی ہے اور اس سے اللہ خوش بھی ہوگا۔تعلیمی اداروں کو چاہئے کہ وہ قابل اساتذہ کی خدمات کیلئے انہیں بہتر تنخواہ دی جائے۔انہوں اس ضمن میں مثالیں بھی پیش کیں اور کہا کہ  اسکول کی ترقی سے زیادہ تعلیم پر پیسہ زیادہ خرچ کریں۔ اساتذہ ان بچوں کا مستقبل بناتے ہیں جو آنے والی نسلوں کیلئے سماج کی صالح تعلیم کا سبب بن سکے۔ہمیں چاہئے کہ اخلاص،لغو اور بیکار امور سے اجتناب،علم پر عمل،اخلاق حسنہ کو زندگی کا لازمی جز بنائیں،تواضع اور عجز اپنے اندر پیدا کریں اوروقت کی قدر کریں۔اور دیگر علوم پر دسترس حاصل کریں۔ انہوں نے بتایا کہ قرآن، حدیث اور سیرت ﷺکوبنیاد مان کر مطالعہ کریں گے تو ملت کی رہنمائی صحیح نہج پر ہوگی۔ ڈاکٹر خالد مبشر الظفر پروفیسر مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی و امیرِ حلقہ جماعت اسلامی ہند تلنگانہ نے بعنوان ’’اسکول کا انتظام اور قیادت (اسکول کی قیادت کو بڑھانا)‘‘پی پی ٹی کے ذریعے عمدہ معلومات شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ اسکول کی قیادت تعلیم کے مستقبل کی تشکیل میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ مؤثر رہنما جو ہوتے ہیں نہ صرف طلباء کی تعلیمی کامیابی پر اثر انداز ہوتے ہیں بلکہ اساتذہ کی پیشہ ورانہ اسکل کو بھی بڑھاتے ہیں، مثبت اسکول کلچر تشکیل دیتے ہیں، اور مضبوط کمیونئی تعلقات بناتے ہیں۔ اسکول کی قیادت کی متنوع نوعیت کو سمجھنا ان لوگوں کے لیے ضروری ہے جو کامیابی کے ساتھ تعلیمی ادارے کی قیادت کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔اسلام نے بہتر تعلیمی انتظامیہ اور قیادت پر زور دیا ہے۔
جناب مجتبیٰ فاروق ٹرسٹی مرکزی تعلیمی بورڈ نے  بعنوان ’’مذہبی اور ثقافتی شناخت کے تحفظ کے لیے تعلیمی اداروں کا قیام‘‘پر خطاب کرتے ہوئے مُختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور تعلیمی اداروں کے قیام کیلئے کونسے امورپر محنت کرنی ضروری ہے ان اہم نکات پر روشنی ڈالی۔جناب ہارون باشاہ سکریٹری FMEIجنوبی کرناٹک نے بعنوان ’’تعاون اور وسائل کے اشتراک پر علاقہ وار گروپ ڈسکشن‘‘ کیا۔اور ایک گروپ ڈسکیشن  بعنوان ’’گروپ کے رہنماؤں کی پیشکش خلاصہ‘‘ جناب سید تنویر احمد FMEIایم بی ٹی،سی آئی او دہلی نے کیا۔جناب عبداللہ جاوید ڈائریکٹر اے جے اکادمی فار رسیرچ اینڈ ڈیولپمنٹ رائچور نے ’’قدر مربوط جامع تعلیم(اقدار کی بینائی)‘‘ پر خطاب کیا۔جناب محمد آصف الدین  جنرل سکریٹری FMEIکرناٹک نے  FMEIکا تعارف اور اس کے کارہائے نمایاں پیش کیں۔ اور کہا کہ ہمارا مشن ہے کہ حقوق کا تحفظ کرنا اور خاص طور پر جمہوری، آئینی اور پرامن طریقے سے مسلم انتظامیہ کے تحت تعلیمی اداروں کی ترقی اور پیشرفت کی راہ ہموار کرنا ہے۔ڈاکٹر عبدالقدیر صدرFMEIکرناٹک نے اپنے صدارتی خطاب میں بتایا FMEIکا وژن ہے کہ قومی اور ریاستی سطح پر مسلم تعلیمی اداروں کے تعاون اور ترقی کو آسان بنایاجائے۔FEMIکا مقصد مسلم تعلیمی اداروں کے تعاون کی حمایت کرنا ان کی خودمُختاری اور ان کی ترقی اور بہتری کو فروغ دینا ہے۔آج کا یہ پہلا سیشن ایک انٹرایکٹیو پروگرام تھا اور ایک کامیاب پروگرام بھی جس میں مسلم ایجوکیشن کے تحت مُختلف موضوعات پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔اس پروگرام میں ریاست کرناٹک کے مسلم تعلیمی اداروں کے ذمہ داران نے شرکت کی۔ پروگرام کا آغاز طٰہٰ کلیم اُللہ کی قرأ تِ کلام پاک سے کیا گیا۔اس بات کی اطلاع فیمی کے ذرائع نے پریس نوٹ کے ذریعہ دی ہے۔
واضح رہے کہ 4؍نومبر پیر کو بھی فیمی کی کانفرنس صبح کے وقت رہے گی۔ 9بجے تا11؍بجے دن پروگرام رہے گا۔ اس کے بعد بیدر کی تاریخی عمارتیں اور یہاں کے تعلیمی ادارے دیکھنے کاموقع کانفرنس کے شرکاء کو دیاگیاہے۔ تصاویر کی فراہمی کے لئے ہم نعیم الدین چابکسوار(بسواکلیان) کے ممنون ہیں۔
تصویر منسلک ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے