ظییرآباد 14/ نومبر( غلام مصطفٰی محصولدار): نامور محقق و معلمِ اردو ڈاکٹر محمد محبوب کو ان کی گراں قدر تعلیمی و تالیفی خدمات پر یومِ اقلیتی بہبود ویومِ قومی تعلیم کے موقع پر رویندرا بھارتی آڈیٹوریم حیدرآباد میں طاہر بن حمدان صدر تلنگانہ اسٹیٹ اردو اکیڈمی و طارق انصاری صاحب چئیرمین تلنگانہ اقلیتی کمیشن کے ہاتھوں کارنامہ حیات ایوارڈ(پروفیسر حبیب الرحمن) برائے سال 2023 تعلیم و تدریس کے زُمرے میں دیا گیا. یہ ایوارڈ توصیف نامہ، شال اور 50 ہزار روپئے کیسہ زر پر مشتمل ہے . ڈاکٹر محمد محبوب ایک طویل عرصے سے پیشہ تدریس سے وابستہ ہیں. وہ سال 2004 سے اردو اخبارات میں حالاتِ حاضرہ اور علمی و ادبی موضوعات پر ادارتی صفحہ کے لیے مضامین لکھتے ہیں. اب تک ان کی چھ کتابیں منظر عام پر آئی ہیں اور علمی و ادبی حلقوں میں داد و تحسین حاصل کر چکے ہیں. جن میں بے ہوش محبوب نگری کی نعت گوئی 2015، سنگریزے 2016، سوغات ِ پر بہار 2018، دورِقمر 2022، مضامینِ عصر 2023 اور میرا خیال میرا قابل ذکر ہیں.
یہاں اس بات کا تذکرہ بھی بیجا نہ ہو گا انہیں تلگو سے اردو ترجمہ میں کافی مہارت ہے. وہ کئی نصابی کتب کا ترجمہ کئے ہیں. انہیں ایوارڈ ملنے پر والدین، اساتذہ جن میں ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی، مولانا عتیق احمد قاسمی، سید اسد ایڈیٹر تلنگانہ، جناب سید امجد علی، موظف پرنسپل، حبیب الرحمن قریشی موظف مدرس، جناب محمد صلاح الدین، محمد وسیم ڈسٹرکٹ کو آرڈینیٹر، ارشد مبین زبیری، محمد ابراہیم وارڈن، محمد عبد القادر پرنسپل، مسٹر جے راملو پرنسپل، محمد سمیع وارڈن،ڈاکٹر اطہر معز ،محمد ابراہیم راہی، محمد عامر، محمد عبد الکریم صدر ٹی یو ڈبلیو جے یو ضلع سنگاریڈی محمد نصیر الدین نمائندہ آداب تلنگانہ ظییرآباد اور دیگر نے مبارکباد پیش کی۔۔۔
