’’نگارشات منظور‘‘ کتاب کی تقریب رسم اجراء مدرسہ بحرالعلوم اتردھنی میں ہوئی منعقد ،حافظ معمور احمد جامعی نے کیامسرت کا اظہار
اناؤ۔ اتردھنی(پریس ریلیز )گزشتہ کل مدرسہ بحرالعلوم مسجد اقصیٰ میںمولانا مختارعالم مظاہری صدر جمعیۃ علماء ضلع اناؤ کی صدارت میں’ ’نگارشاتِ منظور‘ ‘کی رسم اجراء کے موقع پر ایک تقریب منعقد ہوئی ،اس موقع پر معروف عالم دین مفتی اقبال احمد قاسمی صدر المدرسین مدرسہ مظہرالعلوم کانپور نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ:آج کی اس مبارک اور اہم تقریب میں شرکت مفتی منظور احمد سے لمبے عرصے تک تعلقات کا بہتر نتیجہ ہے، ’نگارشات منظور‘ دراصل مفتی منظور احمد مظاہری سابق قاضیٔ شہرکانپور کے مضامین کا مجموعہ ہے،مفتی اقبال قاسمی نے کہا مفتی منظور عام فہم لکھتے تھے،مدلل لکھتے تھے اس کے نتیجے میں بہت سے مضامین آپ کے نوک قلم سے صاد رہوئے ، لیکن مفتی منظور ؒ کی حیات میں کوئی باضابطہ بڑی کتاب سامنے نہیں آسکی، البتہ چھوٹے چوٹے رسائل سامنے آتے رہے، مثلاجنازے وطلاق کے احکام پرالگ الگ رسالے ہیںلیکن مضامین آپ نے بہت کثرت سے لکھے، اخبار اور رسالوں کی مدت بہت نہیں ہوتی، جو کتابیں ہوتی ہیں،ان کی عمر لمبی ہوتی ہے، یہ بڑا اچھا کیا ہمارے مفتی محمد جنیدصاحب نے کہ جن کی عمر ختم ہورہی تھی رسالوں کی شکل میں جو مضامین تھے، ان کو انہوں نے یکجا کرکے بڑی محنتوں اور کاوشوں سے کہاں کہاں سے ڈھونڈا اور جمع کیا ،کہاں کہاں سے مضامین تلاش کیے ہونگے،بہر حال ایک قیمتی سوغات ہمارے سامنے آئی،یہ ہم سب کی طرف سے مبارک باد کے مستحق ہیں۔
مفتی عبدالرشید قاسمی استاذحدیث مدرسہ جامع العلوم پٹکاپور،کانپور نے خطاب کرتے ہوئے کہا :یہ اناؤ والوں کی سچی محبت اور عقیدت تھی کہ ہم لوگ تو مشورے کرتے رہے اور آپ بازی لے گئے، مفتی منظور احمد مظاہری کی حیات وخدمات کاپہلو بہت روشن ہیں، صحیح معنوں میں جو تعلق آپ نے نبھایا اور جو مجمع ہم دیکھ رہے ہیں اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحیح طور پر عمل کرنے کی توفیق عطافرمائے۔
بعدازاں مولانا محمد اکرم جامعی استاذ جامعہ محمودیہ اشرف العلوم جاجمؤکانپور نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہ ہم آج کی اس باوقار رسم اجراء کی تقریب کے موقع پر جو آپ حضرات نے بڑی جدوجہد، کاوش کے بعد مفتی منظور احمد کے جسمانی اور روحانی بیٹوں کوایک ساتھ جمع فرمایا، ہم سب کے ممنون ومشکورہیں،مفتی منظور احمد کے تعلق سے فرمایا کہ مفتی منظور احمد مظاہری سنت وشریعت کے بہت پابندتھے، مولانا اکرم نے کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ میں مفتی منظور احمد کا شاگردہوں اور ہمیں اس بات پر بھی فخر ہے کہ ہمارے شاگردمحمد جنیدقاسمی نے یہ کام کیا کہ مفتی منظور احمد مظاہری کے قیمتی مضامین کا ایک حسین گلدستہ سجاکر پیش کیا ۔
مولانا منصوراحمد قاسمی فرزندمفتی منظوراحمد نے خطا ب کرتے ہوئے کہ ہم اپنے والد محترم کے کیا اوصاف بیان کریں انہوں نے تناور درخت کی شکل میں ہزاروں شاگرد تیارکیے ہیں۔
مولانا نورالدین احمد قاسمی استاذ جامعہ محمودیہ اشرف العلوم کانپور نے اپنے تأثرات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ: کتاب کے مرتب مفتی محمد جنیدقاسمی ہم سب کی طرف سے مبارک باد کے مستحق ہیں،انہوں نے ایک عظیم عالم دین کی زندگی کے اہم نقوش منظرعام پر لانے کی کوشش کی ہے۔
مولانا محمد سفیان جامعی جنرل سکیریٹری جمعیۃ علماء ضلع اناؤ نے مفتی منظور احمدسے اپنے جذبات اور تعلقات کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ ہمارے لیے یہ بڑی سعادت کی بات کی ہے کہ مفتی صاحب کے قیمتی مضامین جمع ترتیب کے بعد کتابی شکل میں منظرعام پر ایک گلدستہ سامنے آیا اور اس کی رسم اجر اء اتردھنی کے حصہ میں آئی ۔
تقریب کا آغاز قاری محمد توقیرجامعی کی تلاوت اور حافظ فخرالدین کی نعت سے ہوااورنظامت کے فرائض مفتی محمد جنیدقاسمی استاذ مدرسہ عربیہ مفتاح العلوم گنج مرادآباد نے انجام دیے۔
اس موقع پرحافظ معمور احمد جامعی قاضیٔ شہرکانپورحافظ محمد عرفان کانپور،مولانا سلیم مظاہری ٹکانہ، مولانا معصوم جامعی، حافظ محمدفرقان مہتمم مدرسہ مفتاح العلوم گنج مرادآباد، حافظ عباس حیدرآباد، مولانا منصور احمد مظا ہری میاں گنج، مفتی وقارالدین قاسمی ، مفتی ضیا ء الدین قاسمی،حافظ محمد بلال کھیورئی، حافظ شکیل احمد جامعی، مفتی سہیل جامعی، مفتی منہاج ندوی ،مولوی شفاعت علی کجگواں،حافظ افشان کجگواں،محمد زاہد انصاری، رئیس احمد عرف آزاد،حاجی سہیل اختر،مولانا علاء الدین ثاقبی، وقار احمد کھیو رئی،حافظ شمیم کھیورئی،مولانا عفان قاسمی، مولانانفیس مظاہری،حافظ مزمل پٹی عثمان، حافظ ابوذر،حافظ عبدالقد یر،مولانامحمد سعید،منشی اکرام حسین، حافظ مرسلین اور ان کے علاوہ بے شمار لوگوں نے شرکت کی ، مولانا اکرم جامعی کی دعاء پر تقریب کا اختتام ہوا۔
