مقامی نعت خواں اور مقامی شعراء مدعو نہیں کئے گئے
بیدر۔ 6/ڈسمبر(پریس نوٹ): جمعیت علماء بیدر کے زیر اہتمام بتاریخ 8 /دسمبر بروز اتوار بعد نماز عشاء بمقام جامع مسجد بیدر ایک عظیم الشان نعتیہ مشاعرہ منعقد کیا جا رہا ہے۔ اس مشاعرہ میں ملک کے مایہ ناز عالمی شہرت یافتہ شاعر اسلام حضرت مولانا احسان محسن صاحب قاسمی دامت برکاتہم، بلبل دکن مولانا علیم الدین علیمؔ واحد صاحب حیدر آباد، عندلیب دکن مولانا پیر عبد الوہاب عمیر قاسمی صاحب حیدرآباد، شہنشاہ ترنم حافظ و قاری تاج الدین سعید صاحب حیدر آبا د، تشریف لا رہے ہیں ان کے علاوہ محترم جناب عارف خان صاحب سابقہ بالی و ڈایکٹر (راکی) مہمان خصوصی ہونگے، مقامی نعت خواں بھی اپنے مخصوص لحن وشریں انداز میں نعت شریف پیش کرنے کی سعادت حاصل کریں گے۔ انہوں نے شمع رسالت کے پروانوں وبادہئ توحید کے متوالوں سے گذارش کی ہے کہ اس نعتیہ مشاعرہ میں مع دوست واحباب کثیر تعداد میں شرکت فرماکر ثواب دارین حاصل فرمائیں۔اور رسول ؐسے سچی محبت و عقیدت کا اظہار فرمائیں۔یہ اطلاع آج 6/ڈسمبر کو عبدالصمد منجو والا نے مولانا تصدق ندوی کے توسط سے دی ہے۔
مقامی نعت خواں اور مقامی شعراء نظر انداز:۔ واضح رہے کہ نعتیہ مشاعرہ کا جو پوسٹر آج مختلف مساجد کی دیواروں پر لگایا گیا ہے اس میں مقامی نعت خواں تین عدد بتائے گئے ہیں جن میں مولانا ابرار اشاعتی، مولانا محمد نعمان اور حافظ محمد مستان ہوڑگی کانام شامل ہے۔ یوپی سے ایک اور حیدرآباد سے چار شعراء کو مدعو کرتے ہوئے مقامی شعراء کو نظرانداز کرنا کسی طرح بھی جمعیت علماء ہند جیسی ملک گیر شہرت یافتہ تنظیم کے لئے مناسب نہیں ہے۔ اور یہ ہم پہلی دفعہ دیکھ رہے ہیں کہ مقامی نعت خواں حضرات کو لے کر نعتیہ مشاعرہ کیا جا رہا ہے۔ یوپی اور حیدرآباد کے جن شعراء کو مدعو کیا گیا ہے اس کے بارے میں کم ازکم ہم نہیں جانتے کہ یہ عالمی شہرت یافتہ، بلبل ِ دکن،عندلیب ِ دکن اور شہنشاہ ترنم وغیرہ ہیں۔ لہٰذا ادب سے دلچسپی رکھنے والے افراد اس پر حیرت زدہ ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ مقامی نعت خواں حضرات جیسے شاہی نعت خواں محمد شفیع الدین صاحب، جناب منور علی شاہدؔ، جناب عبدالرحیم، جناب محمد خلیل، جناب فراست علی ایڈوکیٹ اور دیگر تمام سے گزار ش ہے کہ اچانک مدعو کئے جانے پر اس مشاعرے میں شریک ہونا مناسب نہیں ہوگا کیوں کہ پوسٹر میں مقامی فنکاروں کابھی نام شائع کیا جاچکا ہے مگر یہ بات بھی صد فیصد درست ہے کہ علمائے کرام کی جانب سے اس طرح مقامی نعت خواں اور مقامی نعت گو شعراء کو نظر انداز کرنا کسی بھی زاویہ سے درست نہیں ہے۔ یہ عمل بتاتا ہے کہ کچھ لوگوں کو ملت میں
علیحدہ سے کام کرنے میں لطف ضرور آتا ہے۔ حالانکہ اس ضمن میں ضلع سطح کی ایک کمیٹی بھی بنائی گئی ہے جس میں بھالکی، منا اکھیلی اور اوراد وغیرہ کے علماء بھی شامل ہیں۔ بیدر سے بھی نمائندگی ہے۔ کیا اس کمیٹی کے ذہن میں بھی نہیں آیاکہ مقامی نعت خواں اور مقامی نعت گو شعراء کو نظر انداز کیا جا رہا ہے؟ اس لحاظ سے تو دعویٰ کے مطابق یہ ایک ”تاریخ ساز نعتیہ مشاعرہ“ ہی ہے کہ مقامی نعت گو شعراء کو اس تاریخ ساز نعتیہ مشاعرے میں عمداً نظر انداز کیا گیا ہے۔
