سماج میں بھید بھاؤ اور نفرت کی فضا کو محبت، ہم دردی اور آپسی بھائی چارے میں بدلنے کی ماسٹر فیض احمد کی طرف سے ایک قابل تحسین کوشش

(محمد رضوان گوہرندوی)

لوگ کہتے ہیں محبت میں اثر ہوتا ہے
کون سے شہر میں ہوتا ہے کدھر ہوتا ہے

نان پارہ، بہرائچ: محبت کا اثر پتہ کرتے کرتے آج سچی محبت اور بھائی چارے کے عَلَم بردار، ہم درد و جاں نثار، کرم نواز و غم گسار، سراپا تواضع و انکسار ماسٹر فیض احمد بارہ بنکی یوپی میں واقع محبت پور گاؤں پہنچ گئے، محبت پور گاؤں کے باہر لگے بورڈ نے ان کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی، انھیں آگے بڑھنے سے روک دیا، وہ کچھ دیر تک بورڈ کا بغور جائزہ لیتے رہے، پھر قریب جاکر اس پر پڑے دبیز گرد کو صاف کرنے لگے، کہنے لگے آج انسانیت کو خالص اور صاف ستھری محبت کی ضرورت ہے، لوگوں میں مطلب پرستی اور خود غرضی بہت عام ہو گئی ہے، یہی آپسی دوری اور منافرت کا بنیادی سبب ہے، آج ذرا سے مفاد کے لئے انسان انسان کو روند دیتا ہے، اس کے وقار کو پامال کردیتا ہے، اس کا ناحق قتل کر دیتا ہے، یہ انتہائی تکلیف دہ اور افسوس ناک بات ہے، زخم اور درد سے کراہتا بلکتا انسان بھی راہ چلتے بہت سے مسافروں کو ایک منٹ کی مزاج پرسی کے لئے نہیں روک پاتا۔وہ کہتے ہیں

زندگی یوں ہی بہت کم ہے محبت کے لئے
روٹھ کر وقت گنوانے کی ضرورت کیا ہے؟

وہ نفرت کے جذبات، تقسیم و تخریب کی سوچ، منفی افکار، غیر فطری روایات اور خرافات کی طرف ڈھکیل رہے کردار پر ہر موقع پر نکیر کرتے ہوئے بشیر بدر کی زبان میں کہتے ہیں.

سات صندوقوں میں بھر کر دفن کردو نفرتیں
آج انسان کو محبت کی ضرورت ہے بہت

اللہ نے بچپن سے ان کی طبعیت میں انسانیت کے لئے پیار اور ہم دردی کا پاکیزہ جذبہ ودیعت فرمایا ہے، وہ اپنی ذات سے کسی فرد بشر حتی کہ کسی ذی روح کو بلا وجہ تکلیف میں مبتلا نہیں کرتے، اپنے ہم مذہب ساتھیوں کے ساتھ برادران وطن کے ساتھ ان کے تعلقات مخلصانہ اور ہم دردانہ ہوتے ہیں، وہ اپنے مذہبی فرائض میں کوتاہی قطعی نہیں کرتے، لیکن غیر مذہب کے حاملین سے انسانی بنیادوں پر بہت مضبوط روابط کے نہ صرف قائل ہیں بلکہ نبھا کر دکھاتے ہیں، ان کے ایک ہندو دوست ان کے ساتھ اس طرح رہتے ہیں جیسے کوئی سگا بھائی ہو، سفر حضر میں دو جسم ایک جان کی طرح ہر وقت ایک دوسرے کے احوال اور سرگرمی سے پوری طرح واقف بلکہ ہمہ وقت معاون، ان کی اعلیٰ ظرفی اور توسع کی مثال دی جاتی ہے، جس گاؤں میں پڑھانے جاتے ہیں وہاں کی پوری آبادی ہندو یادو برادری پر مشتمل ہے لیکن سب ان سے اس طرح گھل مل کر رہتے ہیں جیسے مذہب کی کوئی دیوار درمیان میں حائل ہے ہی نہیں، کوئی معمولی شکایت کسی کو کبھی نہیں ہوتی، وہاں کے باشندے ان کے برتاؤ پر مرنے مٹنے کے لئے تیار نظر آتے ہیں، چند مہینے پہلے نالے کے کنارے آباد ان کے گھر پر نوٹس آئی کہ مکان کا کچھ حصہ غیر قانونی ہے، انھوں نے خود اپنے ہاتھوں اپنے سجائے آشیانے کو اجاڑ دیا، کرایہ کے مکان میں رہنے پر مجبور ہو گئے، بعد میں پتہ چلا کہ انھوں نے ناحق توڑ ڈالا، تھوڑا انتظار کر لیتے تو شاید کوئی حصہ توڑنے کی ضرورت نہ پڑتی، دوبارہ آباد ہونا کتنا مشکل ہوتا ہے، اچانک کسی بستی کا بسانا کھیل نہیں ہے، بستی تو بستے بستے بستی ہے، اس مشکل وقت میں ان کے طلبہ کے کئی ہندو سرپرستوں نے دل کھول کر ان کی مدد کی اور سارا سارا دن بغیر اجرت کے ان کے ساتھ لگے رہے۔

ماسٹر فیض احمد کے والد صاحب الحاج نیاز احمد نے ڈپٹی بی ایس اے کے عہدے پر رہتے ہوئے ریٹائرمنٹ لیا، عمر 70 سال سے زائد ہے، اکثر اوقات سہارے کی ضرورت رہتی ہے، ان کی خدمات کے لئے للو یادو نام کا ایک نوجوان پورے دن وقف رہتا ہے، بائک سے ان کو لانا لے جانا، ان کی جملہ ضروریات میں معاون بننا للو یادو اپنے لئے سرمایہ افتخار سمجھتے ہیں، یہ سب ماسٹر فیض احمد کے کرشماتی اخلاق کا فیضان ہے.

اس دور میں مذہب کے نام پر پورے ملک میں ایک زہریلی فضا بنی ہوئی ہے، ان حالات میں ماسٹر فیض احمد کا انسانی بنیادوں پر باہمی روابط کی مضبوطی پر زور صرف کرنا اور عملی اقدام سے ملک و معاشرے میں بھائی چارے کا ماحول سازگار بنانا انسانیت کی بہت بڑی خدمت ہے، جس کی جس قدر حوصلہ افزائی اور پذیرائی کی جائے کم ہے، بقول انور جلال پوری۔

جو بھی نفرت کی ہے دیوار گرا کر دیکھو
دوستی کی ذرا رسم نبھا کر دیکھو
کتنا سکھ ملتا ہے معلوم نہیں ہے تم کو
اپنے دشمن کو کلیجے سے لگا کر دیکھو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے