بیدر ۔ 24؍ڈسمبر (محمدیوسف رحیم بیدری): کرسمس سامنے ہے اور پورابیدر شہر اور خصوصاً نیا شہر مختلف قسم کے کاروباری بیانروں سے سجا ہواہے۔جس طرف جائیں آپ کپڑے، فوٹواسٹوڈیو، ریڈی میڈگارمنٹس ، ساڑیوں وغیرہ کے اشتہارات لگے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ بلدیہ بیدر سے ہمار اسوال ہے کہ ان بیانروں اور ہورڈنگس سے بلدیہ کو کتنا فائدہ ہورہاہے؟ کیایہ جواب کمشنر بلدیہ یاپھر چیرمین بلدیہ جناب محمدغوث صاحب دے سکیں گے کہ بیانر، ہورڈنگس اور دیگر اشتہارات سے ماہ نومبر اور ماہ ڈسمبر میں کتنی آمدنی بلدیہ بیدر کو ہوئی۔ ہمارے ذرائع کے بموجب ایسا کچھ نہیں ہے، یہ بیانر مبینہ طورپر مفت میں لگائے جاتے ہیں۔ کسی سیاست دان کابرتھ ڈے ہو، کسی وزیر کی آمد ہو، یا کسی اپوزیشن لیڈر کو بیدر میں خوش آمدید کہنا ہو ، اس وقت لگائے جانے والے تمام ہورڈنگس اور بیانر مفت ہی لگائے جاتے ہیں۔ بلدیہ بیدرکو اس سے کوئی آمدنی نہیں ہوتی۔
اگر یہ بات درست ہے تو بلدیہ بیدرکے کمشنر کوچاہیے کہ وہ فوری طورپر بیانرس اور ہورڈنگس کو شہر کے اعتراض والے علاقوں اورمقامات سے ہٹادیں ۔ اور ہوسکے تو مفت لگائے جانے والے بیانروں پر جرمانہ بھی عائد کریں۔ یہ عوام کامطالبہ ہے۔ کیوں کہ عوام محسوس کررہی ہے کہ شہربید رکے بڑے بڑے کاروباری عمدہ طریقے سے تہواروں پرکاروبار کررہے ہیں لیکن جہاں کہیں سرکاری فیس دینے کی بات آتی ہے ، یہ کاروباری کمپنیاں اپناہاتھ ہٹالیتی ہیں جس سے عوامی ترقی میں رکاوٹ پید اہوتی ہے ۔
