ضلع گونڈہ کی عظیم شخصیت، خادم القرآن حافظ محمد خلیل کے انتقال پر ملال پر مدرسہ ناصر العلوم اسٹیشن روڈ صاحب گنج بڑگاؤں گونڈہ کے صدر المدرسین مولانا مقیت احمد قاسمی کا تعزیتی بیان

گونڈہ: مورخہ ۲۶/دسمبر ۲۰۲۴ع بروز جمعرات بمطابق ۲۳/جمادی الثانی ۱۴۴۶ھ دوپہر ساڑھے بارہ بجے یوپی کے ضلع گونڈہ کی عظیم شخصیت، خادم القرآن حافظ محمد خلیل صاحب نور اللہ مرقدہ کے انتقال پر ملال پر تعزیت کرتے ہوئے مدرسہ ناصر العلوم اسٹیشن روڈ صاحب گنج بڑگاؤں گونڈہ یوپی کے صدر المدرسین مولانا مقیت احمد قاسمی نے کہا: باقی رہنے والی ذات صرف اللہ تعالیٰ کی ہے ، اس دنیا کی ہر شخصیت خواہ وہ کتنی دلکش ، کتنی پر بہار ، کتنی نغمہ بار اور کتنی دل آویز و دل افروز ہو بالآخر اسے ایک نہ ایک دن یہاں سے جانا ہے ، آگے پیچھے کا فرق ضرور ہے، لیکن انسان کی غفلت کا یہ عالم ہے کہ وہ اس سامنے کی حقیقت کو ہمیشہ نظر انداز کر کے اس کائنات اور اس میں پائی جانے والی رنگینیوں سے اس طرح دل لگا بیٹھتا ہے جیسے اس کو بقائے دوام کی کوئی ضمانت مل گئی ہے ، حالانکہ آیت کریمہ "کل من علیہا فان ” اور ” لا تدری نفس بای ارض تموت ” کے قرآنی ارشادات کا کوئی کٹر سے کٹر دہریہ بھی انکار نہیں کر سکتا ، لیکن عملی زندگی میں حقیقت ہماری نظروں سے اس طرح اوجھل رہتی ہے جیسے یہ کوئی حقیقت ہے ہی نہیں۔

اسی کا نتیجہ ہے کہ اب تک اس پر یقین کر لینے کو دل آمادہ نہیں ہوتا ہے کہ ہمارے مشفق و مربی محسن و مکرم استاذ الاساتذہ حضرت الحاج حافظ محمد خلیل صاحب نور اللہ مرقدہ بانی و مہتمم مدرسہ اسلامیہ مدینة العلوم بگی روڈ ضلع گونڈہ یوپی طویل علالت کے بعد ۸۲/سال کی عمر میں اس دار فانی سے دار بقاء کی طرف کوچ کر گئے،  انا للہ وانا الیہ راجعون۔

إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ۔

پسماندگان میں آپ کے ۶/صاحبزادے اور ایک صاحب زادی ہیں، ایک صاحب زادے کا انتقال غالباً ۲۰۰۶ میں ہو گیا ہے۔ صاحبزادگان کے اسماء:

(۱) مولانا محمد یوسف قاسمی

(۲) مولانا محمد خالد ندوی

(۳) محمد ارشد

(۴) حافظ محمد احمد مرحوم

(۵) مولانا محمد اسجد قاسمی

(۶) مولانا محمد احسن ندوی

(۷) صاحبزادی منسوب مولانا محمد اسجد قاسمی ندوی شیخ الحدیث امدادیہ مرادآباد۔

استاذ محترم خادم القرآن الحاج حافظ محمد خلیل صاحب رحمۃ اللہ علیہ مدرسہ فرقانیہ گونڈہ یوپی کے سابق مہتمم الحاج حافظ محمد اقبال گونڈوی رحمۃ اللہ علیہ کے خالہ زاد بھائی اور حفظ کے شاگرد تھے ، آپ نے تقریباً ۲۵/سال تک بھٹنی گورکھپور میں حفظ پڑھایا ہے، اس کے بعد ۱۹۸۳ع میں بگی روڈ پے مدرسہ کی بنیاد رکھی ہے اور آخری زندگی تک یعنی ۴۱/ سال تک اپنے مدرسہ میں مکمل خدمات انجام دی ہے۔ اس طرح قرآن کی خدمت کرتے ہوئے عمر عزیز کے ۶۵/سال گذار دیئے، آپ ۳۱/ جولائی ۱۹۴۲ع کو پیدا ہوئے اور ۸۲ / سال کی طویل ترین بامقصد زندگی گذارتے ہوئے ہزاروں حفاظ تیار کر دیئے، قرآن مجید سے جس درجے کا عشق اور اسے پڑھنے پڑھانے اور سننے سنانے میں ان کی روح کو جو لطف آتا تھا اسے لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے، حافظ محمد خلیل صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے پوری زندگی جس طرح ذوق و شوق اور جس مستقل مزاجی اور یکسوئی و انہماک کے ساتھ قرآن کی صحبت اور خدمت میں گزاری ہے وہ ان کی ایک پہچان بن گئی ہے اور قرآن عظیم الشان جس کی پہچان بن جائے اس کی بلندئ مقام اور خوش نصیبی کا کون اندازہ کر سکتا ہے؟

احقر کو آپ کے پاس حفظ کرنے کا شرف حاصل ہے، میری تعلیم و تربیت کے ابتدائی پانچ سال آپ کے پاس گذرے ہیں، ان پانچ سالوں کی روداد ان شاء اللہ تفصیل کے ساتھ لکھنے کی کوشش ہوگی ، میرے والد محترم ماسٹر مجیب احمد استاذ مدرسہ مدینة العلوم بگی روڈ ضلع گونڈہ کو حضرت حافظ صاحب کی رفاقت و معیت تقریباً ۳۵/سالوں سے حاصل ہے ، آخری وقت تک میرے والد اور (خسر جو اس وقت عمرہ کرنے گئے ہوئے ہیں) حافظ صاحب کے خاص مصاحب تھے۔

آخری ملاقات کچھ دن پہلے ہوئی تھی اور دیر تک آپ نے نصیحت آمیز گفتگو کی تھی ، چہرہ نہایت ہشاش و بشاش تھا، چہرہ دولت قرآنی سے پُر نور تھا، طبیعت اس قدر پُر سکون کہ ذرہ برابر نہیں لگ رہا تھا کہ محض چند دنوں کے بعد داغ مفارقت دے جائیں گے اور بہت سے چاہنے والوں کو سسکتا و بلکتا ہمیشہ کے لئے چھوڑ جا ئیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔

جانے والے کبھی نہیں آتے

جانے والوں کی یاد آتی ہے

    آپ مدرسہ ناصر العلوم میں ممتحن کے طور پر متعدد بار تشریف لاچکے ہیں اور اس موقع پر طلباء و اساتذہ کو اپنے مخصوص لہجہ میں پُر اثر نصیحت کرتے تھے، آپ ہر دلعزیز تھے آپ کی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے آپ کے شاگرد ملک و بیرون ملک میں ایک نمایاں شناخت رکھتے ہیں۔ آپ نہایت سخی، بڑے مہمان نواز، اعلیٰ اخلاق و کردار جیسی بہت سی خوبیوں کے مالک تھے،

 آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے

سبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

آپ کے انتقال پر مدرسہ ناصر العلوم اسٹیشن روڈ صاحب گنج بڑگاؤں گونڈہ یوپی کے مہتم و ناظم و جملہ اراکین، اساتذہ، طلباء ان کے اہل خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور مرحوم کی مغفرت و ترقئ درجات کے لئے دعاء گو ہیں۔ اور جملہ احباب و متعلقین سے عموماً و مدرسہ اسلامیہ مدینة العلوم بگی روڈ ضلع گونڈہ یوپی کے خوشہ چینوں سے خصوصاً درخواست گزار ہیں کہ مرحوم کی مغفرت و ترقی درجات نیز پس ماندگان کے صبر جمیل کے لئے دعاء فرمائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے