(حافظ محمد خلیل صاحب کی فائل فوٹو)
گونڈہ : ۲۸/دسمبر ۲۰۲۴ع بروز سنیچر بمطابق ۲۵/جمادی الثانی ۱۴۴۶ھ شہر کے اسٹیشن روڈ مولانا آزاد نگر صاحب گنج واقع مدرسہ ناصر العلوم میں گونڈہ سے ۱۵/کلومیٹر دور اترولہ روڈ پر واقع مدرسہ اسلامیہ مدینة العلوم کرمڈیہ بگی روڈ ضلع گونڈہ یوپی کے بانی و مہتمم استاذ الاساتذہ، خادم القرآن حافظ محمد خلیل صاحب نور اللہ مرقدہ کی رحلت پر ایک تعزیتی نشست کا انعقاد کیا گیا، جس میں تعزیتی کلمات پیش کرتے ہوئے حافظ خلیل صاحب کے شاگرد اور مدرسہ کے استاذ مولانا مقیت احمد قاسمی نے کہا :
موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس
یوں تو دنیا میں سبھی آئے ہیں مرنے کے لئے
حافظ محمد خلیل صاحب نور اللہ مرقدہ صلاح و تقوی ذمہ داری کا احساس اور اس کو سنجیدگی و امانت داری سے انجام دینے کے معاملے میں اپنی مثال آپ تھے ، یہ بندہ اُن خوش نصیبوں میں سے ایک ہے جسے سن ۲۰۰۰/سے ۲۰۰۶ /تک حافظ صاحب کے زیر تربیت رہ کر آپ سے حفظ کی تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا ، دوران تعلیم طلبہ کے ساتھ حافظ صاحب کی شفقت و محبت بھی دیکھی اور سختی اور نرمی کے مراحل بھی نظر سے گذرے، چونکہ میرے والد محترم ماسٹر مجیب احمد صاحب حافظ صاحب کے مدرسے میں پڑھاتے ہیں اس لئے استاذ زادہ ہونے کی بنا پر مجھ پر حافظ صاحب کی خاص نظر کرم تھی، اور یہ والہانہ تعلق اور شفقت و عنایت بحمدللہ معمولی رد و بدل کے ساتھ وفات تک قائم تھی ، آپ خدمت قرآن کے ساتھ ساتھ صلہ رحمی، مہمان نوازی ، اہل حاجت کی خبرگیری ، مریضوں کی عیادت ، اہل تعلق کی دلجوئی وغیرہ اخلاقیات کا بھی بہت اہتمام کرتے تھے،
مدرسہ کے ہی استاذ منثی جمیل احمد نے کہا : نماز جنازہ میں افراد کی کثرت کو بزرگان دین نے اچھی علامت بتلایا ہے، افراد کی یہ زیادتی اگر ایک طرف حافظ صاحب کی مقبولیت کا پتہ دیتی ہے تو دوسری طرف اس بات کی علامت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی رحمتوں سے ڈھانپ لیا ہے،
مولانا محمد ارشاد صاحب ندوی استاذ مدرسہ ہٰذا نے کہا : شریعت اسلامی نے کسی آدمی کے واقعی نیک اور خدا ترس ہونے کا یہ معیار بتلایا ہے کہ اس کے پاس اٹھنے بیٹھنے والے کو خدا کی یاد آجائے، اور اس کی صحبت میں جتنا زیادہ وقت گزارا جائے صحبت یافتوں کو اسی درجے اپنے خدا سے تعلق میں اضافہ محسوس ہو ، حافظ محمد خلیل صاحب سے جب جب ملا ایک عجیب سی ایمانی لذت اور روحانی کیفیت محسوس ہوئی جس کو میں صحیح طور پر اپنے الفاظ میں ادا نہیں کر سکتا،
ڈاکٹر بدیع الدین احمد ندوی نے کہا :
آپ نہایت کشادہ قلب، نیک مزاج، اور نرم خو تھے، قرآن کریم کے مانے جانے عاشق ، اور لائق افتخار مدرسین میں آپ کا شمار ہوتا تھا ، اور اس تعلق سے آپ کو دور دراز تک بڑی مقبولیت حاصل تھی ، طلباء کی ایک بڑی تعداد نے آپ سے زانوئے تلمذ طے کیا ہے،
مدرسہ ناصر العلوم کے آفس سیکریٹری فتح محمد صاحب نے کہا : کہ آپ کا بہت بڑا کارنامہ بگی روڈ پر مدرسہ کا قائم کرنا ہے کہ جس کے چہار جانب رسومات وبدعات کا سیلاب ہے ، مگر آپ انتھک محنتوں سے اپنے گلشن علمی کو خوب ترقی دی۔
آخر میں مولانا مقیت احمد قاسمی نے مرحوم کی مغفرت، بلندئ درجات کے لئے نیز پسماندگان مولانا یوسف، مولانا خالد، مولانا اسجد، مولانا احسن، ارشد، وغیرہ کےلئے صبر جمیل کی دعاء کرائی، اس تعزیتی نشست میں ڈاکٹر عبد القادرخاں صاحب، عارف محبوب لاری، حافظ یار محمد، قاری محمد صدیق، حافظ محمد عامرو ادارے کے اساتذہ و طلباء و ذمہ داران موجود تھے۔
