(کچھ دکنی رنگ کے ساتھ)

میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک

اک اذاں پر میں ہاؤ گیا تھا
اُس مکاں پر میں ہاؤ گیا تھا

دیک کوآنے ترے جلوے مولا
کہکشاں پر میں ہاؤ گیا تھا

کرنے حل، اِس زمیں کے مسائل
آسماں پر میں ہاؤ گیا تھا

میراساتھی ہے بچپن کا، اس کے
دِل، زباں پر میں ہاؤ گیا تھا

کاٹنے سے گیا سانپ کا ڈر
سیڑھیاں پر میں ہاؤ گیا تھا

ہے اُسے کچھ یقیں کا مرض میرؔ
اک گماں پر میں ہاؤ گیا تھا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے