محمد زاہد رضابنارسی
دارالعلوم حبیبیہ رضویہ گوپی گنج بھدوہی
عقیدہ یہی ہے یہی جانتے ہیں
میراحال میرے نبی جانتے ہیں
نہیں جانتا غیب داں جو نبی کو
اسی کو تو ہم دوزخی جانتے ہیں
وہ کرتے نہیں باغ جنت کی باتیں
جو شہرِ نبی کی گلی جانتے ہیں
جسے دیکھ کر خود خدا یاد آئے
اسی کو خدا کا ولی جانتے ہیں
خدا کی قسم نعتِ پاکِ نبی کو
دل و روح کی تازگی جانتے ہیں
بچانا ہےدینِ محمدﷺ کو کیسے
یہ فرزندِ مولٰی علی جانتے ہیں
کہا حدّ سدرہ پہ جبریل نے یہ
اب آگے حضور آپ ہی جانتے ہیں
غلامِ نبی کی غلامی جو پائی
اسی کو تو ہم سروری جانتے ہیں
ہمیں عشقِ حسنین ہےاور ہم تو
جہنم سے خود کو بری جانتے ہیں
وفادار کو اور غدّار کو بھی
مرے رب کے پیارے نبی جانتے ہیں
جہاں روضۂ خاتم الانبیا ہے
وہاں موت کو زندگی جانتے ہیں
خدا کی قسم حکمرانی سے بہتر
حسین آپ کی نوکری جانتے ہیں
حسین آپ کا ذکر ہو تا ہے جس میں
اسی گھر کو ہم برکتی جانتے ہیں
تعجب ہے اب بھی یزیدِ لعیں کو
کچھ ایسے ہیں جو کہ سہی جانتے ہیں
بتاکر گئے ہیں جو شاہِ بریلی
وہ مسلک ہے بس جنّتی جانتے ہیں
ہے "زاہد "غلامِِ رسولِ مکرّم
کہو یارو یہ ہم سبھی جانتے ہیں
