میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک ۔

اے دوست!پاس اپنے بلانا ہماراہے
بیدر ہے اُردو نگری، ٹھکانہ ہمارا ہے

چاہت کی ہربلندی کو ،ہوتاہے کرنا سر
سب سے محبتوں کافسانہ ہمارا ہے

جوشہر دیکھنے کے لئے جاتے رہتے ہو
اُس شہر کا محل وہ پرانا ہمارا ہے

انجینئر ہمارے کمانے میں ہیں مگن
یہ بُکس ، آڈیوہی کمانا ہمارا ہے

بیدار جوہوجائیں ذرانوجواں یہاں
پھر دیکھ لو یہ سارا زمانہ ہمارا ہے

پابندی کچھ بھی کہنے پہ ہرگز نہیں ہے میرؔ
وہ کہتے ہیں سبھی سے ، دوانہ ہمارا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے