عبد الرحمن راشد عمری
زندگی نے پھر مجھ سے اک سوال کرڈالا
کتنے ہم نوالوں کو ہم خیال کر ڈالا
محفلوں کی رونق تھا ، دل پہ راج کرتا تھا
غم نے اس کی ہستی کو بھی نڈھال کر ڈالا
ایک رب سے الفت کا کچھ اثر ہوا ایسا
دل سے ہر تمنا کو پائمال کر ڈالا
وہ معلم کامل جس کا ذکر ہر سو ہے
بے ہنر کو بھی اس نے باکمال کر ڈالا
پیر و شیخ و واعظ کی فکر کج روی دیکھو
کچھ حرام کر ڈالا ، کچھ حلال کر ڈالا
حوصلوں نے راشد کو راستہ دیا ایسا
مشکلوں کو بھی اپنے حسب حال کر ڈالا
