محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک
۱۔ یقینی آگہی
ہمت تھی نہ حوصلہ کوئی، مانگ بیٹھے خدا سے کہ ایک جہاں کی خدائی دے دے ۔ دینے والے رب العالمین نے خدائی تو نہیں دی البتہ خودآگہی سے نوازدیا تو پتہ چلاکہ جوبات خود آگہی میں ہے وہ خدائی میں کہاںپوشیدہ ہوگی۔
۲۔ گاڈ گفٹ
چار سطر لکھ کر مصنف سوچ رہاہے کہ چاردن کی دنیامیں یہ چار سطر بھی رب کائنات کافضل ہے ، اس کی جانب سے مجھے ملاہواتحفہ ہے۔
۳۔ ارواح کی تلاش
اُس نے چلتے پھرتے خوبصورت ، بدصورت ، واجبی ، اوسط اور دیگر تولہ وماشہ ہونے والے جسموں کے اندر رہنے والی خوبصورت روحوں کو تلاش کیااور ناکام ہوگیا۔ اس نے سوچا کیا مجھے ان روحوں تک پہنچنے کے لئے سادھوبننا پڑے گا؟یاپھر سادہ تپسیا سے کام چل جائے گا؟جواب نہ ملاتو وہ جنگلوں کی طرف نکل گیا۔ سناہے اس کاسفر جاری ہے اور عنقریب وہ اپنی منزل ِ مقصود تک پہنچ جائے گا۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ خوبصورت ، بدصورت ، واجبی ، اوسط اور دیگر تولہ وماشہ ہونے والے جسم تو شہروں اور گاؤں میں رہ گئے۔
۴۔کھجلی
رات جاگ جاگ کر کیا کچھ مانگاتم نے ؟ پوچھاگیا۔ وہ کچھ دیرتک کچھ نہ بولا۔ پھراس نے پوچھا’’کیایہ بتانا ضروری ہے ؟‘‘پوچھنے والاپہلا فرد آگے بڑھ گیا۔ا س نے گویا زبان حال سے بتادیاکہ نہ بتانا چاہوتو کوئی بات نہیں ۔مجھے دراصل حال احوال دریافت کرنے کی کھجلی ہے۔
۵۔ منفی مراحل
وہ لوگ ایک دوسرے سے غیرمطمئن تھے اور سب اپنے انسان ہونے کادعویٰ کرتے تھے۔ اس لئے چغلی ، غیبت ،دھمکی ، مارتوڑ، انتشار ، بغاوت ، اورانقلاب جیسے مراحل سے دنیاکے تمام قطعات گزرتے رہے۔ شاید قیامت تک اس زمین پرایسے ہی معاملات ہوتے رہیں گے۔
۶۔آوازوالی تخلیقات
آواز کے ساتھ اس کی تخلیقات ناکام ہوگئی تھیں۔ کاغذاور سیاہی کے ساتھ البتہ اس کی تخلیقات کامیاب تھیں۔لوگ آوازکے دیوانے تھے ، وہ کاغذاورسیاہی کو حرز ِ جاں بنائے ہوئے تھا۔اور خوش تھا۔
