’’ ہندوستانی اخبار کا دن‘‘ تقریب سے انجینئر اقبال الدین اور محمدیوسف رحیم بیدری کا خطاب

بیدر۔ 29؍جنوری (پریس نوٹ): اخبارات کا مطالعہ کرتے رہنے سے معلومات میں اضافہ ہوتاہے ، اورکون بنے گاکروڑپتی جیسے مقابلوں میں حصہ لے کر کروڑوں روپئے جیت سکتے ہیں ۔اسی طرح IAS/IPSکے مقابلہ جاتی امتحانات میں بھی اخبارات کے مطالعہ کی بدولت کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔ لہٰذا والدین سے کہہ کراپنے گھر میں اردو اخبارات منگوائیں اور اس کامطالعہ کرتے رہیں۔ یہ نصیحت جناب محمد اقبال الدین مؤظف انجینئر نے کہی۔وہ آج کے پی ایس اردو ہائیرپرائمری اسکول ، راؤ تعلیم بیدر میں ’’ہندوستانی اخبارکے دن‘‘ (29؍جنوری) کے موقع پر بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کررہے تھے۔ انھوں نے آگے کہاکہ سرکاری اردو اسکولوں میں حکومت کی جانب سے ہروہ سہولت دی جارہی ہے جو کنڑی اسکولوں کے لئے دستیاب ہے ۔اسلئے اولیائے طلبہ کو چاہیے کہ وہ اُردو سرکاری اسکولوں میں اپنے بچوں کوپڑھائیں۔مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے سے بچوں کی ذہانت میں اضافہ ہوتاہے۔ اور وہ اپنی زندگی میں کافی ترقی کرتے ہیں۔ موصوف نے راؤ تعلیم کے اردو اسکول کی عمارت اور وہاں کے طلبہ وطالبات کو دیکھ کر حیرت اور اپنی مسرت کا اظہا رکیا۔

جناب محمدیوسف رحیم بیدری صدرکلیان کرناٹک اردو جرنلسٹ اسوسی ایشن (رجسٹرڈ) بیدر نے اپنے خطاب میں طلبہ کو مختلف زبانوں کنڑا، ہندی ، اردو ، مراٹھی ، تیلگو، ملیالم ، ٹمل اور بنگلہ زبان میں سب سے پہلے نکلنے والے اخبارات کانام بتاتے ہوئے کہاکہ اخبار کاکام حکومت اور عوام کے درمیان پل کافریضہ انجام دینا ہوتاہے۔ حکومت کی مختلف اسکیمات اخبارات کے ذریعہ ہی عوام تک پہنچتی ہیں۔اخبارات اسلئے طاقت ور کہلاتے ہیں کیوں کہ انھیں حکومت کے غلط کام پر گرفت کرنے کی آزادی ہوتی ہے۔ جمہوریت میں اپوزیشن اور اخبارات ایک طرح سے حکومت پر تنقیدکرتے ہوئے حکومت کواس کے فرائض یاد دلاتے ہیں۔ اسی طرح عوامی مسائل بھی اخبارات میں شائع کرتے ہوئے عوامی تکالیف سے حکومت کو آگاہ کرایاجاتاہے۔جس سے عوامی مسائل حل ہوتے ہیں۔

جناب محمدیوسف رحیم بیدری نے طلبہ وطالبات سے اخبارات سے متعلق مختلف سوالات کئے ۔طلبہ نے کافی اچھے جوابات دئے۔ تقریب کی صدارت صدرمعلمہ محترمہ توصیف جہاںنے کی۔ پروگرام کاآغاز ہشتم جماعت کے طالب علم شیخ محمد کی قرأت کلام پاک سے ہوا۔ ہشتم جماعت ہی کی مبشرہ نے حمد پیش کی اور طالبہ صباکوثر نے نعت شریف کا نذرانہ پیش کیا۔ مفتی افسرعلی ندوی نعیمی معاون خازن کلیان کرناٹک اردو جرنلسٹ اسوسی ایشن (رجسٹرڈ) بیدرنے طلبہ وطالبات سے سوالات کئے ۔ اور کلیان کرناٹک اردو جرنلسٹ اسوسی ایشن بیدرکی جانب سے بیگ اور نوٹ بکس طلبہ میں انعام کے طورپر تقسیم کئے گئے۔مہمانان کی شالپوشی اور گلپوشی اسکول انتظامیہ کی جانب سے کی گئی۔ مولانا افسرعلی ندوی کی دُعا پر تقریب اختتام کوپہنچی۔ جناب سراج الحسن شادمان کے علاوہ اساتذہ کرام جناب سید منورپاشاہ اور محمد امیر خان وغیرہ موجودتھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے