کانگریس حکومت سے اردو دوستی کا عملی ثبوت پیش کرنے کی اپیل
محبوب نگر: تلنگانہ 30 /جنوری (مشرقی آواز جدید): تلنگانہ کی کثیر اردو آبادی والے ضلع محبوب نگر اور گردونواح کے ہزاروں اردو طلباء اور ان کے والدین نے تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ جناب انومولا ریونت ریڈی اور پالامورو یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر جی سرینیواس سے مطالبہ کیا ہے کہ پالمورو یونیورسٹی میں فوری شعبہ قائم کیا جائے۔ طلباء اور والدین کے ایک وفد نے چیف منسٹر حکومت تلنگانہ سے مطالبہ کیا ہے کہ محبوب نگر میں اردو زبان کی ثقافتی وراثت کو برقرار رکھنے اور مقامی طلباء کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کے لیے فوری طور پر ایم اے اردو اور پی ایچ ڈی پروگرامز کا آغاز کیا جائے۔ واضح رہے کہ محبوب نگر تلنگانہ کا ایک ایسا ضلع ہے جہاں اردو بولنے والی کثیر آبادی موجود ہے۔ اس کے باوجود، ضلع کی واحد یونیورسٹی (پالامورو یونیورسٹی) میں اردو شعبہ نہ ہونے کی وجہ سے ہر سال سینکڑوں طلباء اعلیٰ تعلیم کے لیے حیدرآباد یا دیگر اضلاع کا رخ کرنے پر مجبور ہیں۔ خاص طور پر لڑکیوں کے لیے دور دراز کے تعلیمی اداروں میں جانا مشکل ہوتا ہے، جس کی وجہ سے بہت سے طلبا و طالبات اعلیٰ تعلیم سے محروم رہ جاتی ہیں۔درخواست میں بتایا گیا ہے کہ صرف این ٹی آر ڈگری کالج برائے خواتین اور ایم وی ایس کالج محبوب نگر سے ہر سال 400 سے زائد اردو گریجویٹس فارغ التحصیل ہوتے ہیں، جو مقامی سطح پر ایم اے اور پی ایچ ڈی کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے اپنی تعلیمی صلاحیتوں کو آگے نہیں بڑھا پاتے۔ اس کے علاوہ، علاقہ جات ونپرتی، ناگرکرنول، کلواکورتی، نارائن پیٹ اور دیگر قریبی علاقوں کے طلباء بھی پالامورو یونیورسٹی میں اردو شعبہ کے قیام کے منتظر ہیں۔محبوب نگر کی اردو برادری نے درخواست میں واضح کیا ہے کہ اردو نہ صرف ایک زبان بلکہ اس خطے کی تہذیبی پہچان ہے۔ پالامورو یونیورسٹی میں اردو شعبہ کے قیام سے نہ صرف زبان کی ترقی ہوگی، بلکہ ادب، تحقیق اور ثقافتی مطالعات کو بھی فروغ ملے گا۔ اس اقدام سے طلباء کو تدریس، ترجمہ، صحافت اور تحقیقی شعبوں میں کیریئر بنانے کے نئے مواقع ملیں گے۔عوامی درخواست میں وزیر اعلیٰ تلنگانہ سے گزارش کی گئی ہے کہ وہ پالامورو یونیورسٹی کے اشتراک سے اردو شعبہ کے قیام کی منظوری دیں۔ ساتھ ہی، یونیورسٹی کے وائس چانسلر پر زور دیا گیا ہے کہ وہ طلباء کی اس بنیادی ضرورت کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کریں۔ درخواست کنندگان کا کہنا ہے کہ تلنگانہ حکومت کی لسانی تنوع کو فروغ دینے کی پالیسی کے پیشِ نظر یہ قدم انتہائی اہم ہے۔ محبوب نگر کے ایک طالب علم محمد عثمان نے کہا، ہماری بہنوں کو ایم اے اردو کے لیے حیدرآباد جانا پڑتا ہے، جو نہ صرف مہنگا ہے بلکہ غیر محفوظ بھی۔ اگر یہی سہولت مقامی سطح پر مل جائے تو ہزاروں خواتین کا مستقین محفوظ ہو سکتا ہے۔ ایک والدہ رخسانہ بیگم نے بتایا، میری بیٹی نے اردو میں گریجویشن کیا ہے، مگر پی ایچ ڈی کے لیے اسے شہر جانا پڑے گا۔ ہم غریب ہیں، یہ کیسے ممکن ہے؟
ضلع کے تعلیمی حلقوں کا ماننا ہے کہ پالامورو یونیورسٹی میں اردو شعبہ کا قیام نہ صرف طلباء کے لیے سہولت ہوگا، بلکہ یونیورسٹی کو ایک کثیرالثقافتی تعلیمی مرکز بنانے میں بھی مدد ملے گی۔ اب عوام کی نظریں وزیر اعلیٰ اور یونیورسٹی انتظامیہ پر ہیں کہ وہ اس اہم مطالبہ پر سنجیدگی سے غور کریں اور جلد از جلد مثبت اقدامات کا اعلان کریں۔۔۔
