مدرسہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ لتحفیظ القرآن الکریم تلسی پور ٬بلرامپور, یوپی کا سالانہ تعلیمی مظاہرہ اور حفاظ کرام کی دستار بندی اختتام پذیر۔
بتاریخ یکم فروری 2025 بروز سنیچر مدرسہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ لتحفیظ القرآن الکریم کا جلسہ دستار بندی بڑے تزک واحتشا م کےساتھ منعقد کیا گیا جس کی صدارت جماعت کے معروف عالم دین جناب مولانا زبیر احمد عبدالمعبود مدنی حفظہ اللہ ناظم ضلعی جمیعت اہل حدیث، بلرام پور نے فرمائی اور نظامت کا فریضہ جناب مولانا محمد الیاس سلفی نے انجام دیا، پروگرام کا اغاز قاری محمد شارق فرقانی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا، اس پروگرام میں طلبہ نے مختلف موضوعات پر تقریریں اور حمد و نعت اور نظمیں پیش کیں اور عوام سےخوب داد و تحسین حاصل کیا-
اس کے بعد مدعوئین علمائے کرام نے اپنے اپنے گراں قدر تاثرات پیش کیے- سب سے پہلےجناب مولانا عبداللہ صلاح الدین سلفی، استاد جامعہ اسلامیہ خیر العلوم، ڈومریا گنج نے اپنے تاثرات پیش کیے،انھوں نے اپنے تاثراتی کلمات میں قرآن کریم اورحافظ قران کی فضیلت بیان کی، ان کے بعد جناب مولانا سعود اختر عبدالمنان سلفی استاد جامعہ سراج العلوم السلفیہ،جھنڈا نگر،نیپال نے اپنے تاثرات میں فارغین طلبہ کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے انھیں بیش قیمت مشوروں سے نوازااور عوام کو اتباع سنت کی تلقین کی-
جناب مولانا محمد اسحاق سلفی استاد صفا شریعت کالج، ڈومریا گنج نے قرآن کریم کے بعض حقوق بیان کرتے ہوئے طلبہ عزیزکودینی تعلیم حاصل کرنے ترغیب دی اور مثالی طالب علم بننے کے عمدہ مشورے اور طریقے بتائے۔
بعدازاں ضلعی جمعیت اھل حدیت ،سدھارتھ نگر کے فعال وسرگرم ناظم جناب مولانا وصی اللہ عبدالحکیم مدنی نے مختصر مگر جامع خطاب کیا،دوران خطاب انھوں نے سوسائٹی کے بانیان اور ذمہ داران کی قابل قدر خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے قرآن حکیم کی رفعت وعظمت، معلم قرآن اور متعلم کتاب وسنت کےبلند مقام ومرتبےکوبیان کیا-
سوسائٹی کے جواں سال ناظم اسامہ منصورحفظہ اللہ نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا، انھوں نے اپنے تمام مہمانان عظام کا پرتپاک خیرمقدم اور استقبال کرتے ہوئے سلام ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی کی سنگ بنیاد سے لے کر اب تک اس کے تعلیمی نشاطات تینوں شعبوں فوزان پبلک اسکول،طاہرہ گرلس انٹر کالج اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ لتحفیظ القرآن الکریم کےتلخ و شیریں داستان کو بیان کیا اورحفاظ کرام کو یہ نوید جاں فزا بھی سنایا کہ کوئی بھی حافظ اگر عصری تعلیم حاصل کر ناچاہتا ہےتو اس کونصف فیس پر تعلیم دی جائے گی اور صرف تین سالوں میں اس کو ہائی اسکول مکمل کروادیاجائے گا۔
اس کے بعد 12سعادت مند اور خوش نصیب طلبہ کی دستار بندی ہوئی اورانہیں ڈھیر سارے نقدی اور گفٹ پیک کی شکل میں انعامات سے نوازا گیا۔ان کے اسماء یہ ہیں:
1.محمد افضل سبحان علی، مقام سکوتھا ضلع سدھارتھ نگر یوپی-
2۔ محمد اشفاق محمد رفیق، مقام پھول پور راجہ، ضلع سدھارتھ نگر ۔ 3۔ محمد وسیم عبدالہادی، مقام تلسی پور، ضلع بلرامپور
4۔ محمد أنس محمد مستحسن، مقام تلسی پور، ضلع بلرامپور
5۔ جنید احمد صابر علی، مقام سکوتھا، ضلع سدھارتھ نگر
6۔ محمد یاسر محمد شاہد، مقام لچھمن پور،ضلع بلرام پور
7۔ محمد یاسر عبدالحکیم، مقام رددل پور، ضلع بلرام پور
8۔ محمد اسحاق محمد عتیق، مقام سکوتھا، ضلع سدھارتھ نگر
9۔محمد نفیس محمد نصیر، مقام نوبستہ، ضلع بلرام پور ۔
10۔محمد یوسف محمد شریف، مقام تلسی پور،ضلع بلرام پور
11۔عدنان یوسف عبداللہ یوسف، مقام بھوج پور تھارو، ضلع بلرام پور 12۔محمد فرقان محمد اسلم، مقام چے پروا شیوا نگر، ضلع بلرام پور ۔ صدر مجلس جناب مولانا زبیر احمد عبدالمعبود مدنی حفظہ اللہ ناظم ضلعی جمیعت اہل حدیث بلرام پور نے اپنا وقیع صدارتی خطاب پیش فرمایا،آپ نےحافظ قران اور ان کے والدین کی عظمت اور برتری کوبیان کرنے کے بعد عمدہ اور قیمتی مشورے بھی دئیے۔
مولانا ابو العاص وحیدی صاحب کا صوتی پیغام برائے مکاتب اسلامیہ کے بچوں کے لیے بہترین نصابی تحفہ "مسنون دعائیں” ذمہ داران مدارس کی خدمت میں پیش گیااور اس مستند کتاب کو نصاب تعلیم میں شامل کرنے کی درخواست کی گئی۔
آخر میں بچوں نے اپنا الوداعی نظم پیش کیا اس کے بعد مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئےپروگرام کے اختتام کااعلان کرکےتمام شرکائے اجلاس کی خدمت میں عشائیہ پیش کیاگیا-
مجموعی طور پر یہ پروگرام بہت مفید اور کامیاب رہا۔
اس پروگرام میں قرب وجوار کی ایک جم غفیر اکٹھا تھی جیسے مولانا شفیق الرحمن فیضی، مولانا محمد خلیل یوسفی۔مولانا جمال احمد اثری ۔مولانا محمد شارق سلفی ۔مولانا مطیع اللہ ندوی ، مولانا محمد جابر اثری، مولانا فیروز عالم سراجی ۔وسیم احمد خان ایس اے انصاری لکھنو۔ڈاکٹر شراف الدین بڑھنی چوراہا، مولانا محمد ایوب اثری۔قاری محمد اقبال گلرہا ۔قاری محمد شارق فرقانی۔مولانااحسان الہدی سلفی۔حافظ محمد ابراہیم سنابلی۔حافظ محمد علی صفوی۔محمد یوسف اصلاحی، مولاناعبد الکریم حمیدی بخاری اور محمد ارشاد وغیرہ ان کے علاوہ خواتین ملت کی بہت بڑی تعداد شریک پروگرام تھیں، جنھوں نے علمائے کرام کے بیانات کو بغور سماعت کیا-
