انھوں نے دانشوران قوم سے اسلام کی تعلیمات کو عام کرنے اور نوجوانوں کے سامنے بہترین نمونہ پیش کرنے کا مطالبہ کیا

مہنداول، سنت کبیر نگر: تشخص اور تہذیب کے بغیر کسی قوم کا وجود غیر محال ہے، مسلم نوجوان اپنا تشخص کھوتا جارہا ہے، جب کہ تشخص اور تہذیب سے قوموں کی بقا ہے۔ مذکورہ خیالات کا اظہار سانتھا واقع انصار مارکٹ ہال میں شیخ عبدالسمیع المدنی نے کیا، انھوں نے کہا کہ کسی قوم کی تعمیر و ترقی کا مطلب یہ ہے کہ اس قوم کے نوجوان اخلاقی تعلیمات سے اور اپنے تشخص سے کس طرح وابستہ ہیں، ہماری ماضی کی تہذیب اس بات پر غماز ہے کہ ہماری روشن ماضی کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ہم نے کسی نہ کسی اعتبار سے اپنا تشخص قائم کیا تھا، اور اغیار اسی کے ذریعہ ہماری شناخت رکھتے تھے، مسلم قوم کا نوجوان موجودہ دور میں غیر اسلامی شناخت بناتا جارہا ہے، لباس میں معاملات میں رویہ میں اور ظاہری وضع قطع میں۔ جبکہ اسلام نے زندگی کے ہر موڑ پر انسان کی بہترین رہنمائی کی ہے اور زندگی گزارنے کا زریں اصول بیان کیا ہے، دنیا کی تہذیبوں میں اس قدر متوازن اصولوں کا وجود نہیں اس کے باوجود ہمارا نوجوان اپنا قیمتی گوہر گنوا کر دوسروں سے سنگ ریزے لے رہا ہے جو انتہائی قابل افسوس معاملہ ہے، ایسے میں دانشوران قوم اور قوم کے گارجین حضرات کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اسلام کی تعلیمات کو عام کریں اور نوجوانوں کے سامنے بہترین نمونہ پیش کریں، کیونکہ انسانی فطرت نقال ہوتی ہے جس طرح کا اسوہ ان کی نگاہوں کے سامنے ہوتا ہے اسی میں اپنے آپ کو ڈھال لیتی ہے۔ اسی لیے اسلام نے باطل تہذیبوں کی تردید کرنے سے پہلے ان کا بہترین بدل پیش کردیا تھا اور حرام چیزوں پر حکم جاری کرنے اور ان کی تباہیوں کو بیان کرنے سے پہلے حلال چیزوں کے فائدہ سے بھی آگاہ کر دیا۔ یہی وجہ تھی کہ سود اور شراب کی رسیا قوم اسلامی اصول تجارت کو سمجھ کر اس پر عمل پیرا ہے، اور ترقی ان کے قدم بوس ہوئی۔ اس موقع پر مولانا عبدالعزیز بلہری، مولانا جمال الدین اثری، مولانا محمد نعیم ندوی، مشتاق احمد ریاضی اور محمود سنابلی وغیرہ خاص طور پر موجود رہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے