اس کی عظمت کو تب میں نے جانا

موت جب آگئی میری ماں تک

"بزمِ ایوانِ غزل” کا عظیم الشان طرحی مشاعرہ منعقد

بارہ بنکی(ابوشحمہ انصاری): سعادت گنج کی سرگرم و فعال ادبی تنظیم "بزمِ ایوانِ غزل” کے زیرِ اہتمام ایک عظیم الشان طرحی مشاعرہ استاد شاعر مائل چوکھنڈوی کی صدارت میں آئیڈیل انٹر کالج محمد پور باہوں کے وسیع ہال میں منعقد ہوا جس میں بطور مہمانانِ عاصی چوکھنڈوی، دانش رامپوری اور راشد ظہور صاحبان نے شرکت کی، نشست کی نظامت کے فرائض اثر سیدنپوری نے اپنے مخصوص و مختلف انداز میں بحسن و خوبی انجام فرمائے مشاعرے کا آغاز ارشد عمیر صفدر گنجوی کی نعت پاک سے ہوا اس کے بعد دئے گئے مصرع طرح
"ہم خوشامد کریں اب کہاں تک”
پر باقائدہ طور پرطرحی مشاعرہ شروع ہوا، پروگرام بہت ہی زیادہ کامیاب رہا، پسندیدہ اشعار کا انتخاب نذرِ قارئین ہے ملاحظہ فرمائیں،
قتل کو خودکشی کہہ دو ورنہ
زد میں آ جائیں گے حکمراں تک
        مائل چوکھنڈوی
اس کے ہاتھوں کے یہ ہیں کھلونے
چاند، تارے، زمیں، آسماں تک
       عاصی چوکھنڈوی
اس کی عظمت کو تب میں نے جانا
موت جب آگئی میری ماں تک
      ذکی طارق بارہ بنکوی
آگ اگلنا نہ چھوڑیں گے منھ سے
چاہے جل جائے ان کی زباں تک
       اثر سیدنپوری
دوسروں کے پروں کے سہارے
دیکھنا ہے اڑو گے کہاں تک
       کلیم طارق
ہم تمہاری حفاظت کریں گے
تم چلے آؤ دارالاماں تک
       راشد ظہور
جو ملک سے نہ اٹھ پایا ہم نے
وہ اٹھایا ہے بارِ گراں تک
       دانش رامپوری
دوستوں کے جواں حوصلے ہوں
ان کے مخلص رہو تم یہاں تک
      قیوم بہٹوی
تو فقط چاند تک ہی گیا ہے
ہے رسائی مری لا مکاں تک
        اسلم سیدنپوری
ظلم یہ ہے کہ سچ بولنے پر
کاٹ دی دشمنوں نے زباں تک
       شفیق رامپوری
منزلیں چل کے خود نہیں آتیں
تم بھی اپنے قدم بڑھاؤ کبھی
        مشتاق بزمی
جو خدائی کا کرتا تھا دعویٰ
اس کا باقی نہیں ہے نشاں تک
       راشد رفیق
صرف رکھو نہ رشتہ زباں تک
راستہ دے دو دل کے مکاں تک
        نازش بارہ بنکوی
دی شہادت غلامِ نبی نے
ہاں گئے مصطفٰے لا کاں تک
      مصباح رحمانی
تم گئے ہی نہیں ہو وہاں تک
ریت کے گھر بنے ہیں جہاں تک
       ڈی این ڈائنا مائٹ
تیری چاہت میں ہم مر مٹے ہیں
اور تجھ کو نہیں ہے گماں تک
        سحر ایوبی
آن پر اپنی سر جو کٹائے
مجھ کو پہنچا دو اس کارواں تک
             تسلیم رضا ماہر
ہم نہ آتے کسی طرح عاصم
کھینچ لائی محبت یہاں تک
       عاصم اقدس
بن گئے راہبر راہزن جب
لٹ گئے ہیں یہاں کارواں تک
          ابوذر انصاری
     ان شعراء کے علاوہ نعیم سکندر پوری، ارشد عمیر صفدر گنجوی اور طالب نور نے بھی اپنا اپنا طرحی کلام سنایا اور شعراء و سامعین سے خوب داد و تحسین حاصل کی سامعین میں ماسٹر محمد وسیم، ماسٹر محمد قسیم، ماسٹر محمد حلیم اور ماسٹر محمد راشد کے نام بھی قابلِ ذکر ہیں۔
"بزمِ ایوانِ غزل” کا آئندہ ماہانہ طرحی مشاعرہ مندرجہ ذیل مصرع طرح
"کھیلتے کیوں ہو مرے جذبات سے”
قافیہ :- جذبات
ردیف:- سے
پر بتاریخ 23/ فروری کو ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے