ظہیر آباد 7/فروری( مشرقی آواز جدید): ریاست تلنگانہ کے سنگاریڈی ضلع میں واقع ظہیرآباد ایک تاریخی اور ترقی پذیر شہر ہے، اس کے باوجود شدید سفری بحران کا شکار ہے۔ عوامی نقل و حمل کی ناکافی سہولیات اور پچاس سالہ قدیم بس ڈپو کی خستہ حالی نے مسافروں، خصوصاً خواتین اور معذور افراد کے لیے بے پناہ مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ ان مسائل کے پیش نظر، کانگریس کے سینئر رہنما ، سماجی کارکن اور عوام نے ڈاکٹر جاں نثار معین کی قیادت میں حکومت سے نئی بسوں کی فوری فراہمی اور بس ڈپو کی تعمیرِ نو کا پُرزور مطالبہ ظہیر آباد میونسپل کمشنر ، آرڈی او، آر آئنڈ بی کی اے ای میڈم اور ڈپو مینیجر کو ایک یادداشت پیش کی ہے۔اسی طرح سے
مسٹرجاں نثار معین اورسینئر صحافی محمد غوث الدین نظامی نےاس سلسلہ میں ظہیرآباد بس ڈپو مینیجر (ڈی ایم) ذاکر حسین صاحب سے بھی خصوصی ملاقات کرتے ہوئے بتایا کہ ظہیرآباد بس ڈپو خستہ حال اور بنیادی سہولتوں سے عدم دستیاب ہے۔ چوں کہ پچاس سال قبل تعمیر ہونے والا یہ بس ڈپو اب شکستہ اور ناکافی ہو چکا ہے۔ مسافروں کو انتظار گاہ میں مناسب نشستوں کی کمی ،مسافر گھنٹوں کھڑے رہنے پر مجبور ہیں۔بس پلیٹ فارمز کی ناکافی تعداد کی وجہ سے شدید ہجوم اور تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔صاف پانی اور خوراک کی عدم فراہمی بس ڈپو میں پینے کے صاف پانی اور ایک فعال کینٹین کا فقدان ہے۔بند استقبالیہ دفتر مسافروں کو مدد اور معلومات حاصل کرنے میں شدید دشواری ہوتی ہے۔ناقص اور غیر فعال بیت الخلاء ناقص صفائی اور سہولتوں کی کمی کی وجہ سے شدید بدبو اور حفظانِ صحت کے مسائل درپیش ہیں۔
اس وقت ظہیر آباد بس ڈپو میں سرکاری اور پرائیویٹ کل 85 بسیں ہیں جو نہ کافی ہیں۔ حالانکہ مسافروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، لیکن بسوں کی شدید کمی کے باعث شہریوں کو غیر محفوظ اور تکلیف دہ سفری حالات کا سامنا ہے۔ بے انتہا بھیڑ کی وجہ سے مسافر خاص طور پر خواتین ، معذور اور بزرگ افراد سفر کے دوران شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ظہیرآباد ڈپو کی بسوں کی روٹ حیدرآباد کے لئے امیر پیٹ کے راستے سے ہے۔ جس کی بنا پر مسافر دیگر ریاستوں کی بسوں سے سفر کر رہے ہیں ۔ اس ضمن میں ڈپو مینیجر نے کہا” ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں 4 ایکسپریس ، 6 ڈیلکس بسیس اور10 ڈرائیورس دیں۔ ” تاکہ مسافر وقت اور سیٹ پر سفر راحت کے ساتھ سفر کر سکیں۔ لہذا فوراً عمل میں لایا جائے۔ اور جتنی بس میں سیٹیں ہونگے اتنے ہی مسافر کو سفر کی اجازت دیں ۔ اس صورت حال کے پیش نظر مطالبہ کیا گیا ہے ‘فوری طور پر نئی بسوں کا اضافہ کیا جائے تاکہ مسافروں کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ اورمسافروں کی تعداد کو سیٹوں کے مطابق محدود رکھنے کا سختی سے نفاذ کیا جائے تاکہ اژدھام اور حادثات سے بچا جا سکے۔

مذکورہ تمام دشوریوں کا حل کے لیے ڈاکٹر جاں نثار معین نے اپنی ٹیم میں شامل محمد غوث الدین بابا پٹیل (جنرل سیکریٹری اقلیتی سیل ضلع سنگاریڈی)،محمد ایوب کانگریس پارٹی انچارچ، ایوب خان (ٹی کے ایس)،سید احمد ، محمد محمود( سابق وارڈ ممبر)،جمیل احمد (کوہیر)، محمدعارف ، محمد حسین ، محمد معیز لشکری اور دیگر سماجی کارکن اور عوام نے تلنگانہ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایک جدید اور اسمارٹ بس اسٹیشن کی تعمیر کریں۔ جس میں مسافروں کی ضروریات کے مطابق جدید انفراسٹرکچر ہو،ماحولیاتی تحفظ کے لیے درختوں کی شجرکاری اور سبزہ زار ہو،خوبصورت داخلی اور خارجی دروازے، جو بس ڈپو کی جمالیات کو نمایاں کریں،گاڑیوں کی بہتر نقل و حرکت کے لیے سی سی روڈ کی تعمیر اوربسوں کے لیے آر ٹی سی فیول اسٹیشن قائم کریں چوں کہ ہر روز ڈپو کی بسوں کے لیے روزانہ 6,000 لیٹر ڈیزل لگتا ہے اسی لیے ڈپو اور عوام کے لیے ایک فیول اسٹیشن قائم کریں۔ اس ضمن میں ڈاکٹر جاں نثار نے کہا:
"ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت، محفوظ اور باوقار سفر کا حق ہر شہری کو حاصل ہے۔ اس کے علاوہ، معذور افراد کے حقوق کے قانون 2016 کے مطابق، حکومت پر لازم ہے کہ وہ معذور افراد کے لیے سہل نقل و حمل کی فراہمی یقینی بنائے۔ اسی طرح، ہندوستانی شہری نقل و حمل کی پالیسی عوامی سفری نظام کو محفوظ، پائیدار اور عوامی فلاح و بہبود کے مطابق بنانے پر زور دیتی ہے۔ لہٰذا، حکومت پر یہ قانونی اور اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ظہیرآباد بس ڈپو کی فوری بحالی اور جدید کاری کے لیے اقدامات کرے۔”
یہ مطالبہ متعلقہ حکومتی محکموں، وزراء، ارکانِ اسمبلی، ارکانِ پارلیمنٹ، اور میونسپل حکام تک پہنچا دیا گیا ہے تاکہ اس مسئلے کو فوری طور پر حل کیا جا سکے۔ ظہیرآباد کی ترقی کا خواب اسی وقت حقیقت میں بدلا جا سکتا ہے جب عوامی سہولیات کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ڈھالا جائے۔یہ محض ایک بس ڈپو کی بحالی نہیں، بلکہ عوام کے حقِ سفر، شہری ترقی اور محفوظ نقل و حمل کے اصولوں کو یقینی بنانے کی کوشش ہے۔ حکومت کو اب یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آیا وہ عوامی بہبود کے اس اہم مطالبے کو ترجیح دیتی ہے یا عوام کو مزید مشکلات کے سپرد کر دیا جائے۔ فیصلہ کن لمحہ آن پہنچا ہے۔۔۔۔
