جامعہ امامہ للبنات الاسلامیہ میں جلسۂ ردائے فضیلت و تقسیم اسناد:

شاندار علمی و روحانی محفل میں 237 عالمات اور 15 حافظات کو اسناد و انعامات سے نوازا گیا

سمریاواں، سنت کبیر نگر (محمد رضوان گوہرندوی /ظفیر علی کرخی): دینِ اسلام کی روشنی کو عام کرنے اور مسلم بچیوں کو دینی و علمی زیور سے آراستہ کرنے والے معروف تعلیمی ادارے جامعہ امامہ للبنات الاسلامیہ میں بروز اتوار رات میں ایک عظیم الشان جلسۂ "ردائے فضیلت و تقسیم اسناد” کا انعقاد کیا گیا۔ اس بابرکت تقریب میں 2014 سے 2024 تک کی237 فارغات کو عالمیت کی اسناد سے نوازا گیا اور ان کی ردا پوشی کی گئی اور ان کے ساتھ ساتھ 15 حافظاتِ قرآن کی شایانِ شان ردا پوشی کر کے عزت و تکریم سے نوازا گیا۔

یہ ادارہ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ سے ملحق ہے اور اپنے آغاز سے لے کر آج تک بے شمار عالمات اور حافظات کو فراغت کی سند تفویض کرکے علم و عمل کی روشنی سے پورے علاقے کو مستفیض کر رہا ہے ۔ جامعہ کی بنیاد مولانا امتیاز احمد ندوی رحمہ اللہ نے رکھی تھی، جو 16 نومبر 2016 کو جواں سالی میں ہی اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔ مگر ان کی لگائی ہوئی یہ علمی شمع آج بھی روشن ہے اور سیکڑوں طالبات کو اسلامی علوم سے مزین کر رہی ہے۔

جلسہ کی صدارت مولانا کفیل احمد ندوی ناظر و انچارج ملحقہ مدارس دارالعلوم ندوۃ العلماء نے کی، مہمانِ خصوصی حضرت مولانا سید صہیب طاہر الحسینی الندوی نے اپنے پرجوش اور بصیرت افروز خطاب میں تعلیم کی اہمیت، فتنۂ ارتداد، اسلامی اقدار، خواتین کی دینی تربیت، اور اسلامی معاشرت میں خواتین کے کردار پر سیر حاصل گفتگو کی۔

انہوں نے سامعین و سامعات کو متوجہ کرتے ہوئے فرمایا کہ: "عورت معاشرے کا ایک اہم ستون ہے۔ اگر ایک ماں دین سے آراستہ ہوگی تو ایک نسل کی اصلاح ہوگی۔ عالمات کو چاہیے کہ وہ اپنے علاقوں میں اسلامی تعلیمات کی روشنی پھیلائیں، بے دینی، بدعات، اور رسم و رواج کے جال سے معاشرے کو نجات دلائیں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ دور میں فتنۂ ارتداد ایک بڑا چیلنج ہے، جس سے نمٹنے کے لیے دینی تعلیم کا فروغ ناگزیر ہے۔ انھوں نے کہا کہ جامعہ سے فارغ ہونے والی تمام طالبات اور عالمات اگر عملی میدان میں اپنا رول ادا کریں اور جامعہ امامہ بنات الاسلامیہ کی رہنمائی میں دینی تعلیم کو عام کریں تو یہ معاشرہ اور یہ علاقہ بہت ہی جلد فتنہ ارتداد سے، معاشرتی برائیوں سے، رسم و رواج، بدعات سے پاک اور صاف ہوجائے گا۔ 

اس موقع پر معزز علماء کرام حضرت مولانا منیر احمد ندوی مہتمم مدرسہ عربیہ تعلیم القران سمریاواں ،حضرت مولانا عبدالرحمن ندوی، مولانا نصیر احمد ندوی، حضرت مولانا شفیع الرحمن ندوی، حاجی مشہور عالم چودھری، فرحان احمد، سربراہ جامه سرفراز احمد ندوی جناب اعجاز احمد کرخی ، فیاض احمد ، جناب معراج احمد ،عبد العظیم ندوی،ظفیر علی کرخی،فیروز احمد ندوی،وسیم احمد،اور دیگر ممتاز و معزز شخصیات موجود تھیں،۔

 جامعہ امامہ للبنات الاسلامیہ کی کامیابی کے پیچھے کئی مخلص افراد کی محنت شامل ہے۔ جن میں پرنسپل جامعہ رقیہ فلاحی، منتظم جامعہ فرحان احمد کی کوششیں خاص طور پر قابل تعریف ہیں۔

اس پُروقار تقریب میں 2014 سے 2024 تک کی ٢٣٧ فارغات کی ردا پوشی کی گئی اور انہیں عالمیت کی اسناد دے کر ان کی عزت و حوصلہ افزائی کی گئی، ساتھ ہی 15 حافظاتِ قرآن کو بھی ان کی عظیم کامیابی پرردا پوشی کے ساتھ اسناد سے نوازا گیا۔

اس مبارک جلسے میں جامعہ کی ہونہار طالبات نے اپنی علمی و فکری صلاحیتوں کا شاندار مظاہرہ کیا۔ انہوں نے حمد و نعت،  قرآن کریم کی تلاوت، اصلاحی و دینی تقاریر،  مکالمے اور نصیحت آموز ڈرامے،  اسلامی و معاشرتی موضوعات پر پروگرام پیش کیے، جنہیں سامعین نے بے حد پسند کیا۔

ان کے شاندار مظاہرے پر سامعین نے خوشی کا اظہار کیا اور طالبات کی حوصلہ افزائی کی۔ اس موقع پر کئی معزز مہمانان نے انعامات تقسیم کیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے