نیپال :25/فروری 2025ء/(انوارالحق قاسمی): ابھی شعبان المعظم کا اخیر عشرہ چل رہا ہے اور رمضان المبارک کے آغاز میں بس معمولی ایام ہی رہ گئے ہیں۔ چوں کہ رمضان المبارک کی عظمت انتہائی بلندتر ہے ؛اس لیے اس کے تقدس کے پیشِ نظر معروف عالم دین حضرت مولانا محمد ہارون خان المظہری(نائب صدر جمعیت علماء نیپال و صدر جامعہ حفصہ للبنات و دارالعلوم ہدایت الاسلام انروا ومجلس تحفظ ختم نبوت سنسری نیپال و سرپرست معھد ام حبیبہ للبنات جینگڑیا روتہٹ نیپال)نے مسلمانانِ عالم کے نام پیغام جاری کرتے ہوئے کہاکہ : ہم لوگ غایت درجہ خوش نصیب اور با مراد ہیں کہ خدائے لم یزل نے ہمیں ،اپنے گناہوں سے پاک صاف ہونے اوراپنا قریبی بندہ بنانے کے لیے رمضان المبارک کی عظیم سوغات عطا فرمائےگا۔ اب ہمیں (یعنی ماہ رمضان کےمبارک تحفہ کے حصول کے بعد)یہ کرنا چاہیے کہ اس کی حرمت کو خوب سے خوب خاطر میں لانے کی کامیاب سعی کریں۔
حضرت نائب صدر نے کہا کہ رمضان المبارک کے روزوں اور بیس رکعات تراویح کی ایک خاص خصوصیت یہ ہے کہ یہ انسان کے گزشتہ گناہوں کو محو کر دیتا ہے اور انسان کو متقی اور پرہیز گار بنا دیتا ہے بشرطیکہ انسان روزے کی حالت میں اللہ کی کامل بندگی کے ساتھ معاصی کا خیال تک بھی ذہن میں نہ لائے؛ورنہ گناہوں کے ساتھ رکھے گئے روزوں اور پڑھی گئی تراویح کی نمازوں کا، اللہ کے یہاں کوئی اعتبار نہیں ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد عالی ہے:جس شخص نے دروغ گوئی اور برے اعمال سے اجتناب نہیں کیا،تو ایسے شخص کے بھوکا اور پیاسا رہنے کو اللہ کو کوئی ضرورت نہیں ہے (صحیح الترمذی/صفحہ:707)۔اس لیے ہر روزے دار کو چاہیے کہ روزے کو ان کی روحوں کے ساتھ رکھے ۔
حضرت نائب صدر نے مزید یہ فرمایا کہ :جس کا رمضان صحیح گزرتا ہے،اس کا پورا سال بھی اچھا گزرتاہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے: جس کا رمضان سلامتی سے(یعنی اللہ کی اطاعت میں اور گناہوں سے بچ کر ) گزرجائے،تو اس کا سارا سال بھی سلامتی کے ساتھ گزرے گا۔
اس لیے ہم مسلمان یہ عزم بالجزم کریں کہ ماہ رمضان میں اللہ کی نافرمانیوں اور بد اعمالیوں سے بچنے کی بھرپور کوشش کریں گے،اور اللہ کی اطاعت اور نیک اعمال برتنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔
