جنگِ آزادی میں اردو کا کردار ناقابل فراموش! ڈاکٹر کمال   

سہارنپور(احمد رضا):  اردو زبان کے فروغ اور اردو کی صاف شفاف اور بے لوث خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے ضلع کے  شعراء حضراتِ نے کہا کہ اردو زبان نے جنگ آزادی کے ساتھ ساتھ ملک میں امن و سلامتی اور تہذیب کے لئے جس قدر خد مات انجام دی ہیں انکا بدل تا قیامت ممکن ہی نہیں ہم سبھی اہل ہند کو اردو کا شکر گزار ہونا چاہئے اسی زبان نے اہل ہند کو تہذیب اور وفاداری کا ہنر عطا کیا اسی ضمن میں گزشتہ شب منصوری ہاؤس یحییٰ شاہ پکا باغ میں پروقار ادبی تنظیم بزم اقبال ثانی کے زیر اہتمام ادب کی ایک شام سہارن پور کے نام سے منسوب شعری نشست منعقد ہوئی جس کی صدارت حضرت مولانا نشتر مظاہری کے سینیئر شاگرد…… نمائندہ شاعر عالی جناب اسلم محسن صاحب نے فرمائی اور نظامت کے فرائض سنجیدہ شاعر محترم سید انور صابری نے بہ حسن خوبی انجام دیے۔
نشست کا اغاز پروگرام کے کنویر  جناب جاوید منصوری محمد منصوری بزرگ شاعر صاحب کے حضرت سید ایوب صادق صاحب کے ہاتھوں اردو کی شمع روشن کی گئی مہمان خصوصی طنز و مزاح کے مشہور معروف شاعر عالی جناب ڈاکٹر عاصم پیرزادہ نے فرمایا کہ فروغ اردو  کے لیے ہمیں روزمرہ اردو بولنے اور لکھنے کے لیے مزید اردو اخبار اور رسالے  خرید کر پڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے بزم عزیزان سخن کے سیکرٹری جناب ڈاکٹر کمال صاحب نے اردو خالص ہندوستانی زبان ہے اردو نے جنگ ازادی میں بڑا کردار ادا کیا اس بات کو کوئی بھی فراموش نہیں کر سکتا متحرک جناب اقبال احمد منصوری نے پروگرام میں تمام شعرائے کرام کی گل پوشی کر کے سب کا استقبال کیا اور پروگرام میں اردو کی ترویج و ترقی کے لیے تن من دھن سے ادبی نشست کا اہتمام اپنی بزم کے بینر تلے کروں گا انشاءاللہ۔
پروگرام میں کثیر تعداد میں سامعین حضرات نے شرکت کی جن  شعرا حضرات کے کلام کو بے حد پسند کیا گیا ان کا ایک ایک شعر نزر قارئین ہے:
اپنے محبوب کی امت میں بنایا مجھ کو
شکر کس طرح کروں مالک و مولا تیرا۔
           حافظ ارشاد صابری
احساس گناہوں کا صدر رہتا ہے دل میں
محسوس یہ ہوتا ہے کوئی دیکھ رہا ہے۔
                       اسلم محسن
اگر ساحل کو دریا کے یہ دھارے چھوڑ سکتے ہیں
تو ہم بھی اسمانوں کے نظارے چوم سکتے ہیں
                          عاصم پیرزادہ
رقص گلشن پہ کرنے لگی بجلیاں
کیا میرے اشیانے کے دن اگئے
                          سید انور صابری
زندگی ہے تو وہ مقام بھی ا جائے گا
ان کے ہونٹوں پہ میرا نام بھی ا جائے گا۔
              ڈاکٹر رئیس کمال
ہونٹوں سے پھول جھڑتے ہیں
وہ اگر ہم کلام ہوتا ہے
          اقبال  احمد۔  منصوری
جو لوگ جان راہ خدا میں لٹا گئے
تاریخ میں وہ مقام اپنا بنا گئے
                         سید ایوب صادق
ڈوب جاتے ہیں وہ بھی اے انصر
تیرنے میں جسے مہارت ہو
                        انصر سہارن پوری
ان کے علاوہ عالی جناب ڈاکٹر عابد حسن وفا شاہنواز پپی شاہ نواز پاشاہ خان سینیئر رپورٹر انور صاحب محمد رضوان محمد منصوری تنویر احمد قادری شاہنواز منصوری اخر میں کنوینر پروگرام جناب جاوید منصوری صاحب نے تمام شرکا کا تہ دل سے شکریہ ادا کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے