ظہیرآباد 5/ مارچ(مشرقی آواز جدید): جگناسا ‘(JIGNASA) اسٹوڈنٹ اسٹڈی پروجیکٹ،” جو کہ تلنگانہ، انڈیا میں کمشنریٹ آف کالجیٹ ایجوکیشن کے ذریعہ شروع کیا گیا ایک پروگرام ہے. جو سرکاری ڈگری کالجوں میں طلباء کی زیر قیادت تحقیقی منصوبوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، گروپ اسٹڈی پروجیکٹس کے ذریعے فعال سیکھنے اور تنقیدی سوچ کو فروغ دیتا ہے۔ اس کا پہلا پروجیکٹ 2017 میں شروع کیا گیا تھا ۔ یہ ایک منفرد تعلیمی منصوبہ ہے، جس کا مقصد سرکاری ڈگری کالجوں کے طلبہ میں تحقیق و تنقید سے دلچسپی ، آگہی اور طریقہ کار سے وابستگی پیدا کرنا ہے۔ طلبہ کو گروہی مطالعاتی منصوبے تیار کرنے کا موقع دیا جاتا ہے، جس سے ان کے علمی تجربات میں وسعت آتی ہے اور وہ نظریاتی علم کو عملی میدان میں آزما سکتے ہیں۔یہ پروگرام آغاز ہی سے کامیابی کے نئے افق چھوتا رہا ہے۔ تعلیمی سال 2022-2023 میں تقریباً 5,200 طلبہ نے 850 تحقیقی منصوبے پیش کیے، جو گورنمنٹ سٹی کالج، حیدرآباد میں منعقدہ ریاستی سطح کے تین روزہ ایونٹ میں پیش کیے گئے۔ 2023-2024 اکیڈیمک ائیر میں، 145 کالجوں سے 1,033 مقالے موصول ہوئے، جن میں سے 290 کو حتمی مرحلے کے لیے منتخب کیا گیا۔ ان میں 1556 طلبہ نے حصہ لیا۔یہ تحقیقی منصوبہ مختلف شعبے سائنس، انسانی علوم اور کامرس پر محیط ہے، جہاں ماہرین ان مطالعات کا جائزہ لیتے ہیں اور بہترین مقالوں کو ریاستی سطح پر نمایاں ہونے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد طلبہ میں تنقیدی سوچ، تخلیقی صلاحیتوں اور تحقیقی مہارتوں کو فروغ دینا ہے، تاکہ وہ مستقبل میں تعلیمی اور پیشہ ورانہ میدان میں نمایاں مقام حاصل کر سکیں۔
جگناسا-25 2024 کے لیے 1049 پروجیکٹس میں سے 291 پروجیکٹ فائنل راؤند کے لیے منتخب ہوئے یعنی 1500 طلبہ اپنے نگراں کے ساتھ مقالے پیش کیے۔ غالبا سبھی مقالے بہتر اور اچھوتے موضوعات پر اچھی طرح سے پیش کیے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ تحقیق کا معیار کافی حد تک بہتر ہو گیا ہے۔ گریجویشن سے ہی طلبہ تحقیق سے جڑ رہے ہیں۔ افسوس اس اس بات کا ہے کہ سنسکرت ، ہندی اور اُردو تینوں زبانوں کو ملا کر صرف تین انعامات رکھے ہیں۔ جسے طلبہ اور نگراں مایوس تھے۔ اس ضمن میں تلنگانہ فریڈم فائٹر ڈاکٹر جاں نثار معین کی قیادت میں سنسکرت ، ہندی اور اردو اسکالرس اور نگراں نے signature کے ساتھ عزت مآب Smt. A Sridevasena (I.A.S) کمیشنر آف آف کالجیٹ ایجوکیشن کو ایک یادشت پیش کی تاکہ انعامی ڈھانچے پر نظرثانی کی جائے۔ فی الوقت سنسکرت، ہندی اور اردو تین زبانوں میں جمع کردہ تحقیقی مقالات کے لیے محض تین انعامات مختص ہیں، جو طلبہ اور اساتذہ میں گہری تشویش کا باعث بنا ہیں۔ ثبوت میں ایک تصویر جاں نثار معین کے ساتھ۔
اُردو میں ‘جگناسا ‘پروجیکٹ 2024-25 میں پڑھئے گئے مقالے حسب ذیل ہیں:
1. محبوب نگر کے ایم ٹی آر گونمنٹ ڈگری کالج فار ویمنس(Autonomous) کے طلبہ نے شاہین سلطانہ کی نگرانی میں ‘ اردو اور روزگار کے مواقعے’ عنوان کے تحت اردو زبان مختلف شعبوں میں روزگار کے وسیع مواقع فراہم کرتی ہے۔ تدریس، صحافت، ترجمہ، اَدارت، مواد نویسی، اشاعتی صنعت اور ڈیجیٹل میڈیا میں اردو کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ اس کے علاوہ اردو ادب، تحقیق، اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی تخلیقی اور تکنیکی مہارتوں کے ذریعے روزگار حاصل کس طرح کیا جا سکتا ہے تفصیلی اور بڑی کامیابی کےساتھ وضاحت کی گئی ہے۔۔
2. شہر حیدرآباد کے گونمنٹ ڈگری کالج فار ویمنس( Autonomous) گولکنڈہ کے طلبہ نے ڈاکٹر حمیرہ سعید کی نگرانی میں ‘ اردو شاعری اور ماحولیات” عنوان کے تحت بہترین عکاسی کی ہے کہ کس طرح اردو شاعری نے انسان اور فطرت کے رشتے کو اہمیت دی ہے۔ شعرا نے صفائی، ماحول کی حفاظت اور قدرتی حسن کی بقا پر زور دیا ہے۔ پلاسٹک بیگز کے مضر اثرات سے بچنے، درختوں اور پودوں کی حفاظت کرنے اور صاف ستھرا ماحول برقرار رکھنے جیسے موضوعات کو مؤثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
3. نرمل کے گورنمنٹ ڈگری کالج کے طلبہ نے ڈاکٹر محمد منور کی نگرانی میں ” Artificial Intelligence & Urdu Literature ” عنوان کے تحت میں صرف نظریاتی پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے ۔عملی نمونے، جیسے متن کی تخلیق، ترجمہ، یا تجزیے کی مثالیں شامل ہوتیں تو تحقیق زیادہ مستند اور موثر ہوتی۔ اس کے باوجود پی پی ٹی بہت ہی دلچسپ اور معلوماتی تھا۔
4. گونمنٹ ڈگری کالج ، ظہیرآباد کے طلبہ نے ڈاکٹر عشرت سلطانہ کی نگرانی میں ” اُردو زبان کے فروغ میں مصنوعی ذہانت کا استعمال ‘ عنوان کے تحت مدلل دلائل اور عملی نمونے پیش کیے۔ جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اے آئی (AI) کیسے اردو زبان کی تدریس، تحقیق، ترجمہ، لسانی تجزیے اور اشاعتی سرگرمیوں کو فروغ دے رہا ہے۔ اردو کے صوتی اور متنی ڈیٹا کو پروسیس کرنے کے جدید طریقے، مشین لرننگ، نیچرل لینگویج پروسیسنگ اور چیٹ بوٹس جیسے ٹولز کی افادیت پر بڑی ہی خوبصورتی پیش کیے ہیں۔ بالخصوص مستقبل کے چیلنجز اور امکانات پر بھی بہترین عکاسی کی۔ طلبہ نے ماہرین کے سوالات کے مدلل جوابات دیے، جس پر ماہرین نے تحقیق کی بھرپور تعریف کی۔
5. شہر حیدرآباد کے اندرا پریا درشنی گونمنٹ ڈگری کالج فار ویمنس (Autonomous) نام پلی کے طلبہ نے ڈاکٹر رضوانہ بیگم کی نگرانی میں”Education and Employment Opportunity Era” عنوان کے تحت دکھایا گیا ہے کہ یہ ایک ایسا دور ہے جہاں تعلیم اور روزگار کے مواقع آپس میں جُڑے ہیں۔ اس دور میں معیاری تعلیم، جدید مہارتوں اور ٹیکنالوجی کی بدولت نوجوانوں کو بہتر ملازمتوں کے مواقع میسر آتے ہیں، جس سے فردی اور معاشرتی ترقی ممکن ہوتی ہے۔
6. تانڈور کےگورنمنٹ ڈگری کالج کے طلبہ نے ایم ۔ اے مقبول کی نگرانی میں ” Impact of Social Media on Youth” عنوان کے تحت سوشل میڈیا کے ذریعے تعلیمی ترقی، معلومات کی رسائی اور تخلیقی صلاحیتوں کے فروغ کی اہمیت کو بیان کیے اور ساتھ ہی اس کے منفی سماجی اثرات پر بھی روشنی ڈالی گئی یہ مقالہ بھی مدلل اور معلوماتی تھا۔
ثبوت میں ایک تصویر جو تمام اردو زبان و ادب کے طلبہ ایک تصویر میں :
مذکورہ تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ ا ُردو زبان اپنی مٹھاس، وسعت اور اظہار کی خوبصورتی کے باعث بین الاقوامی حیثیت رکھتی ہے۔ برصغیر سے نکل کر دنیا بھر میں پھیلی، اُردو نے مختلف تہذیبوں کو جوڑا۔ اس کی شاعری، نثر، اور تحقیقی ادب نے عالمی سطح پر قدر پائی۔ اردو، محبت، علم اور ثقافت کی زبان ہے اس کے باوجود اسے مقامی زبانوں کے ساتھ جوڑ کر اس کی جاذبیت کو کم کیا جا رہا ہے۔ جگنا سا پروجیکٹ میں پیش کیے مقالات کے ذریعے اُردو کے علمی و تحقیقی رجحانات کو مستحکم کرنا اور اس کی ثقافتی، تاریخی اور ادبی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ جس کا بہترتین نمونہ گونمنٹ ڈگری کالج ظہیر آباد کا پیش کردہ مقالہ ہے ۔ جس میں انھوں نے اُردو کی شعری و نثری روایت، ادبی جمالیات اور اس کے تہذیبی اثرات پر روشنی ڈالی گئی، تاکہ عالمی سطح پر اس کی افادیت کو اجاگر کیا جا سکے۔یہ کوشش اُردو محققین کے لیے ایک نئی راہ ہموار کرتی ہے، جہاں وہ دیگر زبانوں کی طرح جدید تحقیق میں مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے بہتر علمی نتائج اخذ کر سکیں اور اپنے خیالات کو موثر انداز میں پیش کر سکیں۔
جگناسا کا یہ اقدام نہ صرف اُردو طلبہ کو تحقیق سے روشناس کر رہا ہے بلکہ جدید سائنسی تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرکے اُردو زبان کی ترویج میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ تو صرف اردو زبان و ادب سے متعلق مختصر تجزیہ ہے لیکن اس پروجیکٹ میں سنسکرت ، ہندی اور اردو تینوں زبانوں کو ملا کر فسٹ ، سیکنڈ اور تھرڈ انعامات رکھیے گئی ہیں۔ جب کہ ہر زبان اپنی منفرد ادبی، ثقافتی اور علمی وراثت کی نمائندہ ہے، اور ان میں اخلاقیات، سماج، سیاست، سائنس اور مذہب جیسے موضوعات پر متنوع نظریات ہیں۔
ہندی: سنسکرت اور ہندی زبانیں تحقیق و تنقید کے لیے بنیادی ذریعہ ہے، جس نے دنیا کو وید، اپنشد، مہابھارت اور گیتا جیسے کلاسیکی متون دیے۔ اس زبان میں فلسفہ، ادب، سائنس اور ریاضیات پر بے مثال تحقیق ہوئی۔ سنسکرت کی گہرائی اور وسعت نے علمی تنقید کو مضبوط بنیادیں فراہم کیں۔ ہندی میں پیش کیے گئے مقالے حسب ذیل ہیں:
1. شہرحیدرآباد کے کالج بابو جگ جیون رام گورنمنٹ ڈگری کالج(Autonomous)نارائن گُڑہ کے طلبہ نے ڈاکٹر جے۔ گنگادھر کی نگرانی میں ” ہندی میں ہے اننتھ سنبھاونائیں(Hindi Mein Hain Ananath Sambhavnaayen)” عنوان کے تحت ہندی زبان کی ادبی، ثقافتی، تکنیکی، تعلیمی اور تجارتی شعبوں میں بڑھتی ہوئی اہمیت، جدیدیت، ڈیجیٹل میڈیا اور روزگار کے مواقع پر روشنی ڈالی گئی۔
2. شہر حیدرآباد کے گورنمنٹ سٹی کالج (Autonomous)نیا پل، کے طلبہ نے ڈاکٹر راجیندرا کمار کی نگارنی میں (Bhartiya Jansanchar ke Madhyam: Lok Kalaen Aur Unki Prasangikta)” "بھارتیہ جن سنچار کے مادھیم: لوک کلائیں اور ان کی پراسنگکتا” عنوان کے تحت بھارت کی روایتی عوامی فنون، ان کے اظہار کے ذرائع اور جدید دور میں ان کی معنویت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
3. شہر حیدرآباد کے گورنمنٹ ڈگری کالج فار ویمنس(Autonomous)، بیگم پیٹ کے طلبہ ڈاکٹر افسر النساء بیگم کی نگرانی میں "سوشل میڈیا کا ہندی بھاشا پر پرابھاؤ’ عنوان کے تحت ہندی زبان کی ترویج، عوامی رسائی، تخلیقی اظہار، نئے الفاظ کی شمولیت، مقبولیت، ثقافتی اثرات اور زبان کی سادگی پر روشنی ڈالی گئی۔
4. شہر حیدرآباد کے گورنمنٹ ڈگری کالج (Autonomous)، خیرت آباد کے طلبہ نے ڈاکٹر ایس۔ جوتی کی نگرانی میں(Vaignaik aur thakniki mein Hindi ka Prayog)” "وَیَجْنَیِک اور تِکنیکی میں ہندی کا پربھاؤ” عنوان کے تحت ہندی زبان کی سائنسی اور تکنیکی شعبوں میں بڑھتی ہوئی قبولیت، ترجمہ، اصطلاحات سازی، تدریس اور تحقیق میں اہم کردار پر روشنی ڈالی گئی۔
5. شہر حیدرآباد کے اندرا پریا درشِنی گورنمنٹ ڈگری کالج فار ویمنس(Autonomous)نام پلی، کے طلبہ نے ڈاکٹر منجو کی نگرانی میں” جن سنچار میں ہندی کا مہاتوا’ عنوان کے تحت دکھایا گیا ہے کہ ہندی زبان کی عوامی رابطے میں بڑھتی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا میں ہندی کی رسائی، سادگی، اثر پذیری اور مقبولیت نے اسے قومی سطح پر ایک مضبوط عوامی رابطے کی زبان بنا دیا ہے، جو ثقافتی ہم آہنگی کو فروغ دیتی ہے۔
6. جگتیال کے گونمنٹ ڈگری کالج فار ویمنس کے طلبہ نے ڈاکٹر واسالہ وارا پراساد کی نگرانی میں ” ممتا کالیہ کی ‘ سیوا’ کہانی میں وردھ ویمرش’ (عمر رسیدہ افراد کی بحث) عنوان کے تحت یہ دکھا یا گیا ہے کہ یہ کہانی بزرگوں کی زندگی، ان کے جذبات، تنہائی اور بے قدری کو نمایاں کرتی ہے۔ خدمت کے نام پر ہونے والی سرد مہری اور جذباتی دوری کو بڑی حساسیت سے بیان کیا گیا ہے، جو معاشرتی سچائیوں کو بے نقاب کرتی ہے۔
7. جن گاؤں کے گونمنٹ ڈگری کالج کے طلبہ نے ڈاکٹر وائی آر کے اور دینا کی نگرانی میں "شنتی 2020دوارہ ہندی کا شِکشیکا” عنوان کے تحت یہ دکھا یا ہے کہ "ہندی کا شِکشیکا” کا کردار ہندی زبان کی تدریس کے ذریعے ثقافتی شناخت اور تعلیمی جدوجہد کو نمایاں کرتا ہے۔ یہ کردار زبان کے فروغ، اس کی اہمیت اور طلبہ کے ساتھ رشتے کو بڑے خلوص سے پیش کرتا ہے، جس میں تعلیم کے ساتھ سماجی قدروں کی حفاظت بھی شامل ہے۔ پر مقالہ پیش کیا۔
8. کاما ریڈی کے گونمنٹ ڈگری کالج کے طلبہ نے ڈاکٹر جی۔ سرینی واسا راؤ کی نگرانی میں” بھارتی کا آنیدی ‘ پتراکارا 5 کا h7 گدینہ” کے عنوان پر مقالہ پیش کیے۔
9. محبوب نگر کے ڈاکٹر بی ۔آر آر گورنمنٹ کالج جڈچرلا کے طلبہ نے ڈاکٹر جی۔ این۔ جگن کی نگرانی میں ‘ہندی بھاشا کے وکاس میں کروتریم بدھی متھ (AI) کا یوگدان’ عنوان کے تحت یہ دکھا یا گیا ہے کہ مشین لرننگ، نیچرل لینگویج پروسیسنگ اور آٹومیٹک ٹرانسلیشن جیسے ٹولز ہندی کو ڈیجیٹل دنیا میں فروغ دے رہے ہیں۔ AI کی مدد سے ہندی مواد کی تخلیق، ترجمہ اور تجزیہ آسان ہوا ہے، جس سے بھاشا کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے۔
10. رنگا ریڈی کے گورنمنٹ ڈگری کالج حیات نگر کے طلبہ نے ڈاکٹر اپرنا چترُ ویدی کی نگرانی میں ‘ بھارت کی آزادی میں پتراکاریتہ کی بھاگے داری” عنوان کے تحت دکھایا گیا ہےبھارت کی آزادی میں صحافت نے اہم کردار ادا کیا۔ اخبارات اور رسائل نے عوام کو بیدار کیا، آزادی کی جدوجہد کو آواز دی اور برطانوی سامراج کے خلاف رائے عامہ ہموار کی۔ بال گنگا دھر تلک، مہاتما گاندھی اور دیگر رہنماؤں نے صحافت کو ہتھیار بنایا، جس سے قومی یکجہتی مضبوط ہوئی۔۔
11. سنگاریڈی کے ڈاکٹر۔ آے ۔ پی ۔ جے۔ ابوالکلام گورنمنٹ ڈگڑی کالج، پٹن چیرو کے طلبہ نے ڈاکٹر پونم کماری کی نگرانی میں "Nyasi Shiksha Niti 2020 Ek Vishleshnatmak Adhyayan” عنوان "2020: ایک وِشلیشناتمک ادھیائن” کے تحت دکھایا گیا ہے کہ اُس سال کے اہم واقعات، سماجی، اقتصادی اور صحت سے جُڑے پہلوؤں کا گہرائی سے تجزیہ کیا جاتا ہے۔ کوویڈ-19 وبا، لاک ڈاؤن، ڈیجیٹل انقلاب اور عالمی سیاست میں تبدیلیوں نے انسانی زندگی پر گہرا اثر ڈالا، جس نے نئی چنوتیوں اور امکانات کو جنم دیا۔
سنسکرت:سنسکرت زبان و ادب بھارتی سنسکرتی، گیان اور آدھیاتم کا مول ستون ہے۔ وید، اپنشد، رامائن، مہابھارت جیسے مہاکاویہ اسی زبان میں رچے گئے، جو جیون درشن اور نیتک مولیوں کا خزانہ ہیں۔ سنسکرت کی ویاکرنک سدھارتا اور سائنسی درشتی اسے وشو کی ساب سے ادکرتشٹھ بھاشا بناتی ہے۔سنسکرت زباو ادب میں پیش کیے گئے مقالوں کی تفصیل حسب ذیل کچھ اس طرح ہے:
1. شہر حیدرآباد کے گونمنٹ ڈگری کالج (Autonomous) خیرت آباد کے طلبہ نے ڈاکٹر گنٹےپاکا سرینو کی نگرانی میں”The Bagavad Gita as Management /Leadership Subject” عنوان کے تحت پیش کیا گیا ہے کہ بھگود گیتا انتظام و قیادت (لیڈرشپ) کے حوالے سے بے مثال تعلیمات پیش کرتی ہے۔ یہ خود انضباط، اخلاقی فیصلے، بے غرض فرض شناسی اور عمل میں وضاحت پر زور دیتی ہے۔ اس سے رہنما صبر، بصیرت، جذباتی سمجھداری اور دیانت داری سے قیادت کرنے کا ہنر سیکھ سکتے ہیں، خاص طور پر مشکل حالات میں ثابت قدمی کے ساتھ۔
2. شہر حیدرباد کے ویویکا نندہ گورنمنٹ ڈگری کالج (Autonomous) ودیا نگر کے طلبہ نے ڈاکٹراے۔ مُکتا وانی کی نگرانی میں” سائنس آئنڈ سنسکرت مینس اسکرپٹ” عنوان کے تحت دکھایا گیا ہے کس طرح سنسکرت، دیوتاؤں کی زبان، اپنی نفاست اور گہرائی کے لیے مشہور ہے۔ اس کے قدیم مخطوطے علم و دانش سے بھرپور ہیں اور فلکیات، ریاضیات اور طب جیسے متعدد سائنسی شعبوں کی بنیاد رکھتے ہیں۔ یہ متون جدید سائنسی انکشافات سے پہلے کے ادوار کی دریافتوں اور اصولوں کو محفوظ رکھتے ہیں، جو ایک غیر معمولی فکری ورثے کی عکاسی کرتے ہیں۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں ان مخطوطات کا تحفظ نہایت اہم ہے تاکہ قدیم تہذیبوں کی دانش تک رسائی ممکن ہو اور یہ آئندہ سائنسی تحقیق کو مہمیز دے سکیں۔ سہت لال ایچ، اے ہریش چندر، ایس کاویا، اسما سلطانہ، بی مائتھلی، اور کے پورنیما جیسے محققین اس بے مثل ورثے کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔
3. محبوب نگر کے ایم ٹی آر گونمنٹ ڈگری کالج فار ویمنس(Autonomous)کے طلبہ نے ڈاکٹر بی۔ وینکٹ ریڈی کی نگرانی میں "The Bhagavad Geetha a for Personality Development” عنوان ایک منفرد زاویہ سے گیتا کی تعلیمات کو پیش کر یا ہے، جس میں خود آگہی، کردار سازی، اخلاقی اصول، فیصلہ سازی اور مثبت سوچ کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے۔ گیتا کے فلسفیانہ نکات جدید زندگی میں شخصیت کی تعمیر اور کامیابی کے لیے رہنمائی فراہم کرتے ہیں ۔
اس طرح ہندی میں گیا رہ مقالے پیش کیے گئیں اور سنسکرت میں تین مقالے پیش کیے گئیں اور اردو میں چھہ مقالے پیش کیے ۔ جملہ بیس مقالے پیش ہوئے ہیں ۔ لہذا انعامات بھی ہر زبان کے لیے منفرد ہونا چاہیے۔ ہر زبان کے دو دو ایکسپرسٹس کی نگرانی میں مقالے پیش کیے اور ان پر سوالات و جوابات کا سیشن بھی رکھا گیا تھا۔ آخر میں تمام طلبہ و نگراں کو سرٹیفیکٹس دئے گئے۔ تمام یکسپرٹس نے یہ اعتراف کیا ہے کہ پڑھئے گئے مقالے عمدہ ہیں اس کے باوجود تین زبانوں میں مقالے پیش ہو ئے ہیں لیکن انعامات ہر زبان کے لیے الگ ہونے کے بجائے تینوں کا ملا کر انعامات رکھے گئیں ہیں۔
محدود انعامات اس تنوع کا منصفانہ احاطہ کرنے سے قاصر ہیں۔اس پالیسی کے باعث طلبہ کی دلچسپی اور شرکت میں واضح کمی آئی ہے۔ کئی باصلاحیت طلبہ، جو منفرد تحقیقی خیالات رکھتے ہیں، مواقع کی کمی کے باعث مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں۔ یہ صورت ِحال طویل مدت میں ہمارے تعلیمی اداروں میں تحقیق کی ترقی کو متاثر کر سکتی ہے۔مقابلے کے لیے منتخب کردہ کالجوں کی تعداد میں بھی عدم توازن نظر آتا ہے۔ ہندی مضمون کے لیے حیدرآباد، جنگاؤں، کاماریڈی، محبوب نگر، میڈچل، رنگا ریڈی اور سنگاریڈی سے چار کالج منتخب ہوئے ہیں۔ سنسکرت کے لیے حیدرآباد (دو کالج) اور محبوب نگر، جب کہ اردو کے لیے محبوب نگر، حیدرآباد (دو کالج)، نرمَل، سنگاریڈی اور وقارآباد سے مجموعی طور پر چھہ کالج منتخب ہوئے ہیں۔ اس ضمن میں تلنگانہ فریڈم فائٹر جاں نثار کا مطالبہ ہے کہ ریاست بھر کے کالجوں کی وسیع شرکت کو مدنظر رکھتے ہوئے صرف تین انعامات دینا ناانصافی ہے اور طلبہ کی محنت کی مناسب قدر نہ ہونے کے مترادف ہے۔ تلنگانہ کمشنریٹ کی تحقیقی پالیسی، یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (UGC) کے رہنما اصول اور قومی تعلیمی پالیسی کے مطابق ہر زبان کے لیے الگ الگ انعامات کا اجرا ضروری ہے۔ اس اقدام سے علمی کاوشوں کا متوازن اور منصفانہ اعتراف ممکن ہوگا اور طلبہ کو تحقیق میں مزید جوش اور لگن کے ساتھ کام کرنے کی ترغیب ملے گی۔لہذا ہم پرزور اپیل کرتے ہیں کہ موجودہ انعامی ڈھانچے پر نظرثانی کرتے ہوئے ایسا جامع اور منصفانہ نظام متعارف کرایا جائے جو ہماری تعلیمی وراثت کی تنوع اور خوبصورتی کا حقیقی اعتراف کرے۔۔۔۔۔
