سدھارتھ نگر(پریس ریلیز):  رمضان کا بابرکت مہینہ ہمارے سروں پر سایہ فگن ہے، یہ سراپا خیر و برکت، رحمت و مغفرت اور جہنم سے آزادی کا مہینہ ہے، تاہم بعض اہلِ علم ایک ضعیف روایت کا سہارا لےکر یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے رمضان کو تین حصوں میں تقسیم فرمایا ہے: پہلا حصہ رحمت، دوسرا حصہ مغفرت اور تیسرا حصہ جہنم کی آگ سے آزادی اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہر حصہ کی مخصوص دعا بھی ہے، چناں چہ پہلے حصہ میں : ” اللهم ارحمني يا أرحم الراحمين ” اور دوسرے حصہ میں : *” اللهم اغفر لي ذنوبي يا رب العالمين” اور تیسرے حصہ میں: ” اللهم اعتقني من النار وأدخلني الجنة ” پڑھا جائے۔

ضلعی جمعیت اہل حدیث، سدھارتھ نگر کے ناظم مولانا وصی اللہ مدنی نے ان خود ساختہ دعاؤں اور مزعومہ خیالات کی عالمانہ تردید کرتے ہوئے کہا کہ رمضان کو تین مختلف عشروں میں تقسیم کرنا اور اسے نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب کرنا از روئے دلیل درست نہیں ہے، کیوں کہ قائلین حضرات نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی روایت پر اعتماد کرکے ماہ رمضان کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے، وہ حدیث ضعیف ہے۔ حضرت سلمان فارسی سے مروی ہے:”

( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں شعبان کے آخری دن خطبہ ارشاد فرمایا جس میں یہ فرمایا: لوگو! تم پر عظمت اور برکت والا مہینہ سایہ فگن ہورہا ہے، ایسا مہینہ جس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے، اس کے روزے اللہ تعالیٰ نے فرض قرار دیے ہیں اور اس کی رات کا قیام نفل ہے، جس نے بھی اس مہینے میں نیکی کی وہ ایسے ہے جس طرح عام دونوں میں فریضہ ادا کیا جائے اور جس نے رمضان میں فرض ادا کیا گویا کہ اس نے رمضان کے علاوہ ستر فرض ادا کیے، یہ ایسا مہینہ ہے جس کا اول رحمت اور درمیان مغفرت اور آخری حصہ جہنم سے آزادی ہے ۔۔۔ الحدیث )

اس حدیث کو امام ابن خزیمہ نے صحیح ابن خزیمہ ( 3 /191 ) حدیث نمبر (1887 )

اور المحاملی نے امالیه (293) میں اور بیہقی نے شعب الایمان (7 / 216 ) اور فضائل الأوقات (ص 146 ) نمبر ( 37 ) اور ابوالشیخ ابن حبان نے کتاب ” الثواب ” میں روایت کیا ہے، ناقدین حدیث نے اس کو دوعلتوں کی بنا پر ضعیف کہاہے اور وہ علتیں یہ ہیں :

1 – اس کی سند میں انقطاع ہے، کیوں کہ سعید بن مسیب کا سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ سے سماع ثابت نہیں۔

2 – سند میں علی بن جدعان ہے جس کے بارے میں ابن سعد کا کہنا ہے کہ فيه ضعف ولايحتج به، یعنی ضعیف ہے، اسے حجت نہیں بنایا جاسکتا۔

اور اسی طرح امام احمد، ابن معین، امام نسائی، ابن خزیمہ اور جوزجانی وغیرہ نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی ” سلسلة الأحاديث الضعيفة الموضوعة” (2/ 262) حدیث نمبر (871) میں اس کو منکر کہا ہے۔

اس طرح اس حدیث کی سند ضعیف ہے اور اسی طرح اس کی سب متابعات بھی ضعیف ہیں۔

ماہِ رمضان مکمل طور پر اللہ کی رحمت ہے، اسی طرح مکمل مہینہ ہی بخشش اور جہنم سے آزادی کا مہینہ ہے، چناں چہ اس ماہ کے کچھ حصے کو کسی خاص چیز کے ساتھ مختص کرنا درست نہیں ہے۔

اللہ ہم تمام مسلمانوں کے صیام، قیام، طاعات و عبادات، صدقہ و خیرات اور دیگر اعمال صالحہ کو قبول فرمائے اور ہر قسم کی آفات و بلیات اور مہلک بیماریوں سے تا ابد محفوظ رکھے۔ آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے