سہارنپور( احمد رضا): تحریر۔ظفرالدین رضوی خطیب و امام رضا جامع مسجد نے ایک خاص گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ بائیس سال کے قریب ممبئی کی سرزمین پر ایک ایسی بابرکت شخصیت ہماری نگاہوں سے اوجھل ہوئی جس کی زندگی کا ہر لمحہ عشق رسول ﷺ میں ڈوبا ہوا تھا اس کی نگاہوں کے سامنے صرف اور صرف تبلیغ دین کو عشق و محبّت رسول ﷺ کی لڑی میں پرو کر عام کرنا تھا۔یہی وجہ ہے کہ اس نے اپنی تمام تر جلوہ سامانیوں کے ساتھ عشق رسول ﷺ میں ڈوبا ہوا ایک ایسا مشن تیار کیا جس میں مخدوم جہانیاں جہاں گشت حضور مخدوم سمناں کچھوچھہ شریف انڈیا اور مسلک اعلیٰ حضرت کی ساری بہاریں نظر آتی ہیں جس کی تابندگی و درخشندگی سے ممبئی و اطراف و جوانب کی سرزمین چمکنے لگی۔دراصل اس شخصیت نے اپنے کردار و عمل،زہد و تقویٰ اور عشق رسول ﷺ کے ذریعے ممبئی،ممبرا اور اس کے اطراف و اکناف کے مسلمانوں کو خوب فیضیاب کیا۔آج بھی اس کے نام کا چرچا پورے آب و تاب کے ساتھ چہار سو ہو رہا ہے!
آج میں اسی عظیم المرتبت شخصیت کی شان میں اپنے نازک قلم سے کچھ قلمبند کرنے کی سعادت حاصل کرنے کی کوشش کرنے جارہا ہوں جس کے رخ زیبا کی زیارت میں نے اپنے ماتھے کی نگاہوں سے بارہا کیا ہے۔اس کی خدمات جلیلہ کی اگر بات کروں تو ہندوستان کے اکثر حصوں میں متعدد مدارس دینیہ قائم کرکے امت مسلمہ کے نونہالوں کو علم دین مصطفیٰ ﷺ سے آراستہ و پیراستہ کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔جس میں نمایاں نام جامعہ مدرسہ قادریہ چھوٹا سوناپور ممبئی دارالعلوم غریب نواز ممبرا مدرسہ کنیزان فاطمہ ممبرا دارالعلوم قادریہ اشرفیہ نانی دمن گجرات جامعہ اشرفیہ مظہر العلوم دھانے پور گونڈہ یوپی مدرسہ اشرفیہ بسکھاری امبیڈکر نگر دارالعلوم مخدوم سمنانی گورکھپور یوپی مدرسہ معینیہ اشرفیہ کوسہ ممبرا کے علاوہ اور بھی مدارس شامل ہیں یہ مدارس اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ حضور مثنیٰ میاں علیہ الرحمہ اسلام کے نونہالوں کے تئیں کتنے ہمدرد و غمگسار تھے۔آپ اکثر اپنی محفلوں میں یہ فرمایا کرتے تھے کہ میری تو یہی خواہش ہے کہ مسلمانوں کے ہر گلی محلے میں مدرسوں کا قیام کثرت سے ہو۔تاکہ ہماری قوم کے بچے دین و سنیت کے قریب ہوں ویسے تو آپ ایک سرکاری ملازم تھے لیکن آپ کا دل و دماغ پوری طرح سے علوم دینیہ کو مسلمانوں کے گھروں تک پہنچانے میں لگا ہوا تھا
شہید راہ مدینہ عرف مثنیٰ میاں علیہ الرحمہ کے اندر نمایاں خوبی مسلک اعلیٰ حضرت سے غایت درجہ محبت تھی۔یقین جانیں کہ آپ رضوی و اشرفی کا سنگم کہلائے جاتے تھے۔آپ نے اپنی پوری زندگی دین و سنیت اور رفاہی و فلاحی کاموں کے لئے وقف کررکھی تھی رفاہی و فلاحی کاموں کے لئے لوگ آپ کی مثالیں دینے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔آپ نے جو بھی کام کیا اس میں خلوص و للہیت کارفرما تھی آپ کا دل و دماغ ہمیشہ غریبوں ضرورت مندوں کی مدد کرنے میں لگا رہا یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ آپ سے ملنے والے یہ بات کہنے پر مجبور ہوتے کہ ہم نے آج تک ایسا غمگسار رہنما اپنی آنکھوں سے دیکھا نہیں ہے ایسی انمول و بیمثال شخصیت پر جو کچھ بھی کہنے جا رہا ہوں کہ حضور مثنیٰ میاں علیہ الرحمہ کی حیات و خدمات پر کچھ لکھنے اور کہنے کی کوشش کی ہے۔ ویسے تو میری اپنی کوئی نہ علمی لیاقت ہے نا ہی قلم میں جولانی ہے۔مگر اتنا ضرور جانتا ہوں کہ جب کوئی عاشق اپنے ممدوح کے مذہبی،دینی و ملی و رفاہی و فلاحی و سماجی خدمات حسنہ کو محبت کی نگاہ سے دیکھتا اور پڑھتا ہے تو پھر اس کے عشق میں گم ہوجاتا ہے اور عالم یہ ہوتاہے کہ اس کا ممدوح اپنے عاشق پر اپنی نگہ توجہات کی بارش کرنا شروع کردیتا ہے۔مجھ جیسے کم علم نے یہ محسوس کیا کہ کیوں نہ اس عظیم پیشوا کی کچھ باتیں منظر عام پر لائی جائیں جس سے قلم و ہنر کی رعنائیاں مسکرانے لگیں۔یہی وجہ ہے کہ مجھ جیسے کم علم نے اس عظیم ہستی کی حیات و خدمات پر قلم چلانے کی سعادت حاصل کرنے کی ادنیٰ سی کوشش کی ہے۔میں نے اس ہستی کو اپنی آنکھوں سے بارہا دیکھا اور اکابرین سے سنا بھی ہے کہ شہید راہ مدینہ عرف مثنیٰ میاں نے ممبئی عظمیٰ کی سرزمین پر جو دینی مذہبی ملی مسلکی رفاہی و فلاحی کارنامہ سرانجام دیا بالخصوص اپنے اشرفی رنگ میں رہکر مسلک اعلیٰ حضرت کی نشرواشاعت جس انداز میں کی وہ سنہرے حروف سے لکھنے کے قابل ہے۔اس شخصیت کو زمانہ پیر طریقت رہبر راہ شریعت عالم باعمل شہزادۂ غوث اعظم اولاد مخدوم سمناں حضرت الحاج الشاہ سید انوار اشرف اشرفی الجیلانی عرف مثنیٰ میاں علیہ الرحمہ بانی مدارس کثیرہ کے نام سے جانتا ہے۔آپ کی پیدائش 1/جولائی 1937/بسکھاری کچھوچھہ شریف امبیڈکر نگر یوپی انڈیا میں ہوئی آپ نجیف الطرفین سید اور تارک السلطنت میر سید اوحدالدین اشرف جہانگیر سمنانی علیہ الرحمہ کے سجادہ نشین تھے۔آپ کی تعلیم بہت ہی اعلیٰ معیار کی تھی آپ نے ایم آئے ڈی،بی،ایل،ایل ڈی آئی ایم آر ٹی MI,D,B,L,L,D,I,M,R,T, کے ساتھ بورڈ الٰہ آباد یونیورسٹی سے عالم فاضل کی ڈگری حاصل کررکھی تھی۔دراصل آپ ایک مقناطیسی شخصیت کے مالک تھے آپ کی باتوں میں بڑی گہرائی وگیرائی ہوتی تھی جو سامع کے دل و دماغ پر فوراً پیوست ہوجاتی کیونکہ اس قطب ربانی کے قول وفعل پر عشق رسول ﷺ کا پہرہ تھا اس کے شب وروز کی اگر بات کروں تو وہ آفتاب و ماہتاب کے مانند ظاہر و باہِر تھے۔وہ مرد قلندر جب بولتا تو لگتا جیسے ویرانے میں گلشن آباد ہوگیا ہو جس میں ہرطرف کلیاں چٹخنے لگتیں اور رنگ برنگے پھول کھل اٹھے ہوں۔جب وہ مرد قلندر خاموش ہوتا تو لگتا جیسے کوئی اپنے وقت کا مجذوب کامل لوح محفوظ کا خط کشیدہ عبارتیں ملاحظہ کر رہاہو جب وہ مرد دو ریش بیٹھتا تو لگتا جیسے کوئی اپنے وقت کا غزالی دوراں،رشد و ہدایت کا داعئ برحق عظیم نقطہ داں ہر سوال کا جواب دینے بیٹھا ہو،وہ حلم و بردباری کا کوہ گراں جب اٹھتا تو لگتا جیسے کوئی اپنے وقت کا عظیم رہبر،قوت استقلال کا سپہ سالار اعظم اٹھ رہا ہو،عزم و استقلال کا جبل شامخ جب چلتا تو لگتا جیسے کوئی اپنے وقت کا میر کارواں بایزید بسطامی جا رہا ہو۔ہم عصروں میں اس کی موجودگی اسلاف کا نمونہ جیسے تھی اس کی گفتگو کے ہر ہر لفظ پر عشق حقیقی کا رنگ غالب تھا۔یہ حقیقت ہے کہ اس کی زندگی کا ہر ایک لمحہ اپنے جد امجد کی یادوں میں گزرا ہے۔یہی وجہ تھی کہ وہ مقبول عام و خاص تھا ہر کوئی اسے بڑی عزت و تکریم کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔اس کا اٹھنا بیٹھنا چلنا پھرنا سونا جاگنا سب اس کے نانا جان کے عشق میں ڈوبا ہوا تھا وہی عشق اسکی زندگی کا حاصل تھا اس کے پاس جو عشق تھا وہ کوئی دنیاوی نہیں بلکہ عشق رسول ﷺ تھا جو اس کے رگ رگ میں پیوست تھا اسی عشق نے اسے باطل قوتوں کے سامنے ایک مضبوط چٹان بنا رکھا تھا اس کے پاس ایسا جگر تھا جو باطل نظریات رکھنے والوں سے نہ کبھی ہارا نہ کبھی پیچھے ہٹا وہ عزم و استقلال کا کوہ ہمالہ تھا۔وہ علم و ہنر کا بے تاج بادشاہ تھا وہ تقویٰ و طہارت میں بے مثال تھا وہ سادگی پسند تھا لیکن اس کا جاہ وجلال،رعب و دبدبہ ہر کسی پر سرچڑھ کے بولتا تھا۔اس کی نشست و برخاست ایسی تھی کہ دیکھنے والوں کی زبان سے بے ساختہ کلمۂ صد آفرین نکل جاتا اور کہہ اٹھتے کہ اس پر عشق رسول ﷺ کا خمار چڑھا ہوا ہےیہ بھی حقیقت پر مبنی ہے کہ وہ دنیادار نہیں بلکہ وہ اپنے محبوب کا سچا وفادار تھا کیونکہ اس کا محبوب خود حسن و نور کا منبع ہے جس کے سامنے کائنات کا سارا حسن بیکار ہے۔اور کیوں نہ ہو کہ اسی کے حسن سے ساری کائنات کو سنوارا گیا ہے! آپ کے اساتذہ ملک کے جید علماء میں شمار کئے جاتے ہیں جن میں نمایاں نام حضرت علامہ مفتی شبیر حسن خان مصباحی حضرت مفتی نعمان خان مفتی آپ کے حسب و نسب کا سلسلہ سیدنا سرکار غوث اعظم عبدالقادر جیلانی سے جا ملتا ہے آپ کو چاروں سلاسل حقہ سے اجازت و خلافت حاصل ہے جس میں رنگ قادریہ چشتیہ بہشتیہ اشرفیہ کا رنگ غالب ہے آپ کا خانوادہ ہمیشہ سے رشد وہدایت کا مینار رہا ہے آپ خود بھی رشد وہدایت کی جیتی جاگتی تصویر ہیں آپ کے دست حق پرست پر آپ کے ارادت مندوں کی تعداد دن بدن بڑھتی جارہی ہے۔فراغت کے بعد آپ نے درس وتدریس پر اپنے رفاہی و فلاحی کاموں کو فوقیت دی. آپ نے متعدد بار حج و عمرے کی سعادت حاصل کی نیز کربلا، نجف، بغداد کے علاوہ اور بھی متبرک مقامات کی زیارت حاصل ہے!
