جاں نثار معین

یہ کیسی صبحِ عید آئی کہ دشتِ غم ہوا آباد
نہ چہرے پر کوئی رونق، نہ دل میں ہے فرحت یاد
یہ عید بھی سیہ پوشوں کے ماتم میں ڈوب گئی
کہاں وہ چاندنی راتیں؟ کہاں وہ مسکراتے چہرے؟
ہر گلی میں سناٹا ہے بھاری، ہر آنگن میں سسکیاں
جو بچے کبھو کھلکھلاتے تھے، وہ خاک میں کھو گئے
یہ گود کیوں ہے سونی ہوئی؟ یہ رشتے کیوں ہیں ٹوٹے؟
یہ زخم کس نے دیے ہیں؟ یہ داغ کس کے ہاتھوں کے؟
یہ سرزمینِ انبیا پہ کیوں لہو ہے بکھرا ہوا؟
یہ دیسِ پاک ہمارا کیوں ظلم کی چکی میں پسا؟
مگر یقیں کی لو اب بھی سینوں میں روشن ہے
کہ حق کے راہرو کبھی منزل سے محروم نہیں
یہ دھرتی ہم نے اپنے لہو سے سینچی ہے بارہا
یہ خاکِ پاک شہیدوں کی، یہ بزمِ عاشقانِ خدا
یہاں اذانوں کی صدا توحید کی گواہی دے
یہاں چراغِ امید سے ظلمت کو چیرتے رہیں
نہ جھکنے کا ارادہ ہے، نہ تھکنے کا تصور
یہ خاکِ پاک دے گی ہمیں صبحِ نو کا پیام
یقیں کی راہ پہ چل کر ہم قربانیاں دیں گے
مگر ظالم کے آگے کبھی سر نہیں جھکائیں گے
یہ خونِ معصوم اک دن انصاف کو پکارے گا
ستمگر وقت کے تختے ضرور الٹ جائیں گے
جاں نثار! یہ صرف نوحہ نہیں، حق کی صدا ہے رسا
یہ کاروانِ مقاومت ہے، نہ رکتا نہ تھکتا ہوا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے