حیدرآباد 4/اپریل(مشرقی آوازجدید): حضرت مولانا حافظ پیر شبیر احمد صدر جمعیۃ علماء تلنگانہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ رمضان میں اللہ تعالیٰ نے دین و دنیا اور آخرت کے خزانوں کے منہ ہمارے لئے کھول دیئے، ہم نے ذرہ مانگا ، اس نے پہاڑ دے دیئے، ہم نے قطرہ مانگا، اس نے سمندر بہا دیئے اور بیش بہا انعامات سے مالا مال کر دیا۔ اس نے ہمیں دیتے ہوئے یہ بھی نہیں دیکھا کہ کس کا رمضان اعمال کے اعتبار سے کتنا وزنی یا بھاری ہے، نہ اس نے نیک دیکھا ، نہ بد ، نہ عابد وزاہد، نہ گناہ گار ، بس وہ تو رمضان میں اپنے بندوں پر اپنی رحمتیں برساتا رہا، مغفرتیں عطا کرتا رہا نعمتوں سے نوازتا رہا، ہمیں دوزخ سے آزاد کرتا رہا، جنت میں داخل کرتا رہا۔ بلا شبہ، رمضان کے اختتام پر ہمیں اللہ کی جانب سے گناہوں سے پاکی، نجات اور خلاصی کا پروانہ مغفرت کی شکل میں عطا ہوا۔ یادرکھیے جس کے پاس جتنا قیمتی سرمایہ ہوتا ہے ، وہ اس کی حفاظت کے لئے اتنا ہی فکرمند، چوکس اور ہوشیار ہوتا ہے۔ کسی قیمتی شے کو پالینے سے زیادہ مشکل کام اس کی حفاظت ہوتا ہے۔ بعض اوقات تو اس کی حفاظت ہی زندگی کا مقصد بن جاتا ہے۔ بعینہ دنیا کی کسی بھی قیمتی شئے سے زیادہ قیمتی اور اہم ہماری وہ نیکیاں ہیں، جو ہم نے رمضان میں کیں اور انعام الہی کے طور پر پائیں۔ ہم
نے بے توفیق الہی رمضان کے روزے رکھے، نماز میں ادا کیں، تراویح پڑھی، تہجد ادا کی، تلاوت قرآن کی، اعتکاف کیا، طاق راتوں میں شب قدر کے حصول کے کے لئے شب بیداری کی، نوافل ادا کیے، استغفار کی، کلمہ طیبہ کا ورد کیا ، درود شریف پڑھا، اس سب کے ساتھ اپنے بھائیوں کے ساتھ ہم دردی و غم گساری کا برتاؤ کیا، زکوۃ ادا کی، صدقہ و خیرات اور انفاق کیا۔ صرف یہی نہیں، بلکہ ہم نے رمضان اور روزے میں ہر اس چیز کو بدرجہ اولی ترک کیا، جسے اللہ نے حرام کیا ہے ۔ ہم نے ہر وہ کام چھوڑ دیا ، جسے اللہ نے نا پسند کیا ہے۔ ہم نے رمضان اور روزے کی حالت میں جھوٹ، غیبت، بد نظری، رشوت، کم تولنا، ملاوٹ کرنا اور ذخیرہ اندوزی جسے تمام فتیح کاموں کو ترک کیا۔ ہم نے چھوٹے بڑے، کھلے اور چھپے ہر گناہ سے کنارہ کشی اختیار کی مگر اس سب کے باوجود یا درکھیے کہ ہمارا دشمن ہماری نیکیوں کو لوٹنے والا ڈاکو لٹیرا یعنی شیطان ہم سے مایوس نہیں ہوا ہے۔ وہ ہمیں رمضان
میں نیکیوں سے روکنے پر تو قادر نہیں ہو سکا لیکن وہ ہماری ان نیکیوں کو چاند رات کو آزاد ہوتے ہی ضائع کرنے کی سرتوڑ کوششوں میں مصروف رہا، ابزار مضان کی ان نیکیوں اور تقویٰ کو شیطان کے ہاتھوں ضائع ہونے سے بچانا اس وقت ہمارا اہم ترین ہدف ہونا چاہیے۔ رمضان کی اس قیمتی روزہ مشقت و محنت اور ری فریشر کورس کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ہم اپنی زندگی کے آئندہ گیارہ مہینوں میں حرام اشیاء اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے منع کردہ تمام امور سے اسی طرح اجتناب کریں جیسے ہم نے روزے کی حالت میں اجتناب کیا تھا۔ اسی کا نام تقویٰ ہے، جو روزے کا اولین مقصد الہی ہے۔ رمضان کے بعد ہمیں خود کو شیطان سے محفوظ رکھتے ہوئے رمضان کی نیکیوں کی حفاظت بھی کرنی ہے اور ایمان کی سلامتی کے ساتھ ہدایت و تقوی یعنی قانون خدا ندی کی اطاعت وفرماں برداری کے ساتھ زندگی کے اس روشن راستے پر چلنا ہے کہ جس پر ہم رمضان میں گامزن رہے۔ اگر ہم یہ جانا چاہتے ہیں کہ ہمارے رمضان کے روزے نمازیں، تراویح تہجد، ذکر، استغفار، مناجات، عبادات، زکوۃ، صدقات اللہ کی بارگاہ میں قبول ہوئے کہ نہیں، تو اسکا بہت آسان طریقہ رسول اللہ ﷺ کی حدیث مبارکہ ہے کہ اگر جانا چاہتے ہو کہ تمہاراحج قبول ہوا کہ نہیں تو تم اگر حج کے بعد سید ھے راستے پر گامزن رہو تو تمہاراحج اللہ کے ہاں مقبول ہوا۔ پس اگر ہم رمضان کے بعد بھی اس انداز میں تقوی و احکام الہی کی اطاعت میں زندگی بسر کریں، جیسے رمضان میں سر کر رہے تھے تو ہماری رمضان کی ساری عبادات بارگاہ خداوند میں قبول ہی الہ عالی ہم کو یہ علم و علم کی توفیق عطا فرمائیں آمین۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے