مکرمی!
آج میں ایک ایسے ایرپورٹ کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہتاہوں جس کا اصلاً قیام ایرفورس کے لئے ہوا تھا مگر سیروسیاحت کے تقاضوں کے پیش نظریہاں سے پبلک سروس شروع ہوئی جو ایک مدت سے جاری ہے، پہلے تو ہفتہ میں صرف ایک جہاز کی آمد ورفت ہوتی تھی، مگر آج ایک درجن سے زائد پروازوں کی آمدورفت ہورہی ہے مگر یہاں سے سفر کرنے والوں کی حالت یتیموں سے بھی بدتر ہے، ایرپورٹ کے باہر نہ کوئی شیڈ ہے، نہ پینے کا پانی، نہ طہارت خانہ اور نہ سیٹنگ کا کوئی نظم اور نہ موسم کے ستم ظریفیوں سے بچنے کا کوئی انتظام، گویا یہاں سے سفر کرنے والوں کو یرغمال بنا کر رکھ دیا جاتا ہے جو دردر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوتے ہیں جبکہ اچھی خاصی رقم لگاکر ٹکٹ خریدتے ہیں مگر راحت رسانی اور سہولیات کا ایرپورٹ سے باہر کوئی نظم نہیں ہے۔
یہ ایرپورٹ ریاست مشرقی یوپی گورکھپور میں واقع ہے یہ صورتحال خود ہمارے وزیراعلیٰ کے وطن اور پارلیمانی حلقہ کا ہے، اسی ہفتہ کا واقعہ ہے جب ایرپورٹ مینجمنٹ کے خراب اتنظامات کی پول کھل کر آئی ہےـ ’’انڈیگو ایر‘‘ جہاز کے مسافر ایرپورٹ پہنچنے کے ڈیڑھ گھنٹہ بعد جہاز سے باہر نکل سکے، جہاز میں موجود ۲۰۰ مسافروں میں مرکزی وزیر مملکت بی ایل ورما بھی شامل تھے، اس ایر پورٹ کے بدتر نظم و ضبط کا معاملہ اس سے پہلے بھی ظاہر ہوتا رہا ہے،۲۶؍مارچ،۱۱؍مارچ اور ۹؍ اپریل کو بھی مسافروں کو اس خراب سسٹم کا سامنا کرنا پڑچکا ہے۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب یہاں کا رن وے چھوٹا ہے مسافروں کے لئے سہولیات کا فقدان ہے تو پھر یہاں سے درجنوں پروازیں کیوں؟
جب کہ اس سے قریب محض ۶۰ کیلو میٹر پر کشی نگر میں بین الاقوامی ایرپورٹ بن کر تیار ہوچکا ہے جس کا رن وے اور دائرہ اس سے چار گنا ہے تو پھر یہا ں سے پبلک سروس کیوں نہیں؟
وزیر سیر و سیاحت سے مطالبہ ہے کہ گورکھپور ایرپورٹ کو صرف فورس کی خدمات تک محدود رکھا جائے اور پہلی فرصت میں پبلک سروس کشی نگر ایر پورٹ سے شروع کیا جائے تا کہ صارفین کو پریشانیوں سے نجات مل سکے۔
مولانا اے۔ کے۔ رحمانی
قومی نائب صدر مسلم پولٹیکل کاونسل آف انڈیا
حجاز منزل ، کسیا،کشی نگر،یوپی

