محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک
۱۔شغلِ انتشار
وہ اس قدر علم رکھتاتھاکہ کہیں پربھی ، کسی کو بھی ، بآسانی بے عزت کرسکے۔
اور یہی کچھ کئے جارہاتھا۔
۲۔ دنیا کاعام شہری
اُس نے صدر امریکہ ڈونلڈ ٹرمپ کو خط لکھ کر جنگ بندی پر ان کاشکریہ اداکیا اور کہاکہ حوثیوں کوجنگ بندی پر آمادہ کرنا اور ہندوپاک کی جنگ کو ختم کروانا آپ کے کارنامے ہیں۔اسی طرح آپ کی اگریہی روش رہی تو وہ دن دور نہیں جب دنیا لڑائی سے پوری طرح پاک ہوجائے گی۔امریکہ اور چین کی ٹیرف وار بھی تین ماہ کے لئے آگے بڑھ گئی ہے۔ اس کابھی میںخیرمقدم کرتاہوں۔
جناب ِ صدر ، میں کوئی بڑا آدمی نہیں ہوں ۔ اس دنیاکا ایک عام شہری ہوں ۔ ہوائی وصوتی آلودگی ، گندہ پانی ، کم تعلیم ،خراب صحت ، گندی فلموں ، نشہ آوراشیاء ،حکومتی مظالم ، بے روزگاری ، مختلف توہمات ، دولت مندوں اور بڑی ذات والوں کی انسانی تقسیم سے گزررہاہوں ۔ دنیا لڑائی بھڑائی سے پاک ہوگی تو میری یعنی اس دنیاکے ایک عام شہری کی ترقی عین ممکن ہے۔ میں جنگ بندی اور ٹیرف وار روک دئے جانے پر عالی جناب مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ آپ کاشکریہ اداکرتاہوں۔
اس دنیاکا ایک عام شہری خط کے جواب کا منتظر ہے، اُس شہری کوصدفیصدیقین ہے کہ صدر امریکہ اس کے خط کا جواب ضرور دیں گے۔
۳۔بے بصیرت عوام
کتوں نے قبضہ کررکھاتھا۔ اس قبضے کو ہٹاتے ہٹاتے وہ لوگ تھک گئے۔ واقعی کتے اسلام کی آڑ میں اسلام پر بھونکتے اور اس کو کاٹتے بھی تھے۔ کسی کو پتہ بھی نہیں چلتاتھا۔
اسلام پسند بے بصیرت عوام دنیا کومنہ دِکھانے کے قابل نہیں تھی مگر اس کااحساس اُس بے بصیرت عوام کو نہیں تھا۔
۴۔ خدائے مہربان
گرمی کی وجہ سے رات تاخیرسے آنکھ لگی تھی لیکن اچانک ہی اس کی آنکھ کھل گئی۔ بارش ہورہی تھی۔لیٹے لیٹے بارش کی آواز سنتارہا۔ ایک گھنٹہ بعد فجر کی اذان ہوئی تو وہ نماز کیلئے اٹھ بیٹھا۔بونداباندی جاری تھی۔
مسجد جاتے ہوئے وہ سوچ رہاتھاکہ اس قدر گرمی کے فوری بعد بارش بھیجنا انسانوں سے ممکن نہیں۔ اسے یاد آیاکہ پینے کے لئے پانی مانگنے پراس کی بیوی اور تینوں بچے اس کی میز پر پانی کاایک گلاس بھی لا کر بڑی مشکل سے رکھتے ہیں۔ اس پانی کیلئے پانسات دفعہ آواز لگانی پڑتی ہے۔ اورایک تنہا ربِ کریم ہے کہ اپنے بندوں کیلئے مختلف علاقوں میںبارشیں بھیج دیتاہے۔
وہ واقعی ایک مہربان خدا ہے۔ اور اس مہربان خدا کے آگے جھک جھک کر نماز پڑھتے ہوئے بھی اس کو باربار یہی خیال آرہاتھاکہ وہ واقعی یکا وتنہا مہربان خدا ہے۔
