محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک

۱۔شریف شہری 
بارشوں سے بڑے شہر تو متاثر ہیں ہی ۔ چھوٹے شہروں کو بھی تہس نہس کردیاگیاہے۔ میں اپنی ٹوٹی پھوٹی جھونپٹری کے اڑجانے پر کتناروؤں گا؟سمجھدار آدمی حالات بھی دیکھتاہے اور خود کو بھی ۔اب یہی دیکھ لو مرکزی حکومت ہماری ریاستی حکومت کو فنڈدے نہیں رہی ہے لہٰذا میری جھونپڑی کے ضائع ہونے پر مجھ تک رقم پہنچے ایسا ممکن نہیں ہے۔ بڑے شہروں کی جھونپڑ پٹیوں میں رہنے والے شہری شریف ہی ہوتے ہیں ۔ وہ سب سمجھ بوجھ کر ہی چلتے اور جیتے ہیں۔ کیوں کہ مرتے وقت ہم کوئی لفٹرا نہیں مانگتانا۔
۲۔ نیاویرینٹ
نیاویرینٹ (Variant)کا کیا مطلب ؟۔۔۔اس نے پوچھاتو بتانا پڑاکہ ۔۔۔یہ ایک آسان جھوٹ ہے جو دھڑلے سے بولاجاتاہے اوراس کی آڑ میں شہریوں کوڈرابھی دیاجاتاہے کہ دیکھو۔۔۔دیکھو۔۔۔۔ ایک نیاویرینٹ آیاہوا ہے اور اس کا تعلق ہماری پرانی وباء سے ہے ؟۔۔۔۔ سمجھ گئے نا۔۔۔وہ بولا’’ہاں سمجھ گیاجی ۔۔۔۔ یہی ناکہ وباء جھوٹ نہیں تھی اور یہ جھوٹ بولنے کیلئے دنیا بھر کامحکمہ صحت متفق ہوگیاہے‘‘
۳۔ اسپیس والااخبار 
ٍ اس کا ایک اخبار ہے اور اس اخبار میں سب کیلئے اسپیس ہے۔ معاف کرنا ، اخبار اس کا نہیں ہے۔ اخبار کامالک دوسرا کوئی ہے ۔ وہ اپنے شہر کی خبریں بھیجتاہے، اور اس کاکہناہے کہ اس کے اخبار میں سب کے لئے اسپیس ہے۔ برے آدمی کے لئے زیادہ اسپیس ہے اور اچھے آدمی کیلئے کم ۔اسی اصول کے تحت اخبار چلتاہے۔
ایک دن اس نے بتایاکہ برے آدمی کے لئے اسپیس اس لئے زیادہ ہے کہ دنیا نے بروں ہی کودنیابھر کی اہم ا ہم سیٹوں پر بٹھایاہواہے اور دنیا ہے کہ ان ہی کی کہانی سنناچاہتی ہے ۔ یہ غبن کرنے والے ،افواہیں پھیلانے والے ، جھوٹ در جھوٹ بولنے والے ،اغوا اور قتل کرنے والے ، فساد پھیلانے والے ہی سب سے زیاہ پڑھے جاتے ہیں۔ شایداس طرح دنیا ان گروہوں سے سترک (ہوشیار) رہنا چاہتی ہے۔
بہرحال ایک دن اس نے یہ بھی بتایاکہ ڈیجیٹل میڈیا اور سوشیل میڈیا کی طرف دنیا تیزی سے جارہی ہے لیکن ہمارا اخبار بھی آلودہ ہوااور آلودہ پانی کی طرح زندہ ہے ، توقع ہے کہ مررہے انسان کی طرح ہمارا اخبار بھی زندہ ہی رہے گا،بھلے ہم مرجائیں مگر اخبار چلتارہے گاکیوں کہ خبروں سے بے خبر انسان ہوجائے ایسا ممکن نہیں ہے۔ہاں یاد آیاکہ اس کے اخبار میںسبھی کے لئے اسپیس ہے ۔ پیدا ہونے سے لے کر مرنے والوں تک، سبھی اس اسپیس میں اپنے کوائف ، سرگرمیاں یاکارنامے درج کرسکتے ہیں ۔یقین نہ آرہاہوتو آزمالیں ۔ پرنٹ میڈیا زندہ باد ۔میرااخبار زندہ باد ۔
۴۔ صاف ستھری تحریریں 
پھر اس نے اپنی دودرجن سے زائد کتابیں اس کے سامنے رکھ کر کہا’’اس میں قواعداورزبان کی جہاں کہیں غلطی ہونشاندہی فرمائیں تاکہ  صاف ستھری کتابیں پیش کی جاسکیں۔ دوسال کی مسلسل محنت کے بعد اس کاکلیات تیار ہوگیااور جب شائع ہوکر بازار میں آیاتو پہلے ایڈیشن کی 500کاپیاں ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوگئیں۔
تب اس نے جاناکہ صاف ستھری تحریروں کے شائق سماج میںموجود ہیں۔ ضرورت صاف ستھری تحریروں کی ہے۔ جو شاید عنقاہیں۔
۵۔ چالاک بندر
وہ چالاک کوا تھا۔ کو انہیں بندرتھا۔ اور اکاڈمی کا پور اجنگل اس کے سامنے پڑا ہواتھا۔ا ور وہ ایک ڈال سے دوسری ڈال پر کودتاپھرتاتھا۔ البتہ اس کو کیلوں سے نفرت تھی۔ نارنگی ، موسمبی اور سیب جیسی گول مٹول چیزیں بند ر کے دل کوبھاتی تھیں ۔ انہیں دیکھ کر، ان کواستعمال کرتے ہوئے بندرلوٹ پوٹ ہوجاتاتھا۔
سنا ہے کہ ایک رات اس چالاک بند ر کو پولیس نے ایک لاج میں نارنگی ، موسمبی اور سیب کی مالکین کے ساتھ دھرلیا۔ اکاڈمی بدنام ہورہی ہے۔
۶۔ غیرحاضری 
اس نے پہلے ہی کہہ دیاتھاکہ’’ خدا کے گھر جانے والے کو وداع کرنے دورتک اس کے ساتھ جانا اوروہ بھی ہزاروں افراد کے تماشے کے ساتھ،میرے خیال میں ایساکچھ اسلام میں نہیں ہے۔ لہٰذا تم ایسا کرتے ہوتو کرو لیکن میں نہیں کرسکتا‘‘اس لئے اس کی غیرحاضری پر اس سے باز پرس نہیں کی جاتی ۔
۷۔ چیلنج
سارا معاملہ جب بغیرکسی لڑائی کے خاموشی سے نمٹ گیاتو شیطان چیخ چیخ کرخوب خوب رویا۔ وہ باربارآسمان کی جانب دیکھتا تھااور غیرغلط اشارے کرتے ہوئے روتاچلاجاتاتھا۔ گویا آسمان والے کو چیلنج کررہاہو کہ اب تو جیت اس کی ہوئی ہے لیکن آگے دیکھ لوں گا، تیرا ساتھ اسکے لئے خسارے کاسودا کہلائے گا۔
دراصل قدم قدم پر شیطانی چیلنجس کھڑے ہیں، ان کامقابلہ کرنے کیلئے نئی نسل کوتیار رہنا ہوگا۔کاش ، کہ سوشیل میڈیا سے نئی نسل باہر نکل سکے تاکہ سمجھایاجاسکے کہ تم شیاطین کے نرغے میں ہو۔
۸۔ اصلی شہری
گاوں سے آکر شہر پر قبضہ کرنے والے طاقتور افراد ہر کالونی میں دوتین یا پانسات ہیں۔ بلکہ وہی لوگ مسجد ، مندر ،بودھ دھام ، چرچ اور مٹھ کے ذمہ دارہیں اور شہری ذمہ داران میں بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب ان ہی کے بچے شہر کے نامی گرامی غنڈے ہیں۔ایک آدھ کانام رؤڈی شیٹرمیں شامل ہے۔حالانکہ انھیں اپنے اپنے باپوں کاشیلٹر ملاہواتھا، کہیں انھیں خود پولیس کاشیلٹر حاصل ہے۔اور سیاسی پارٹیاں بھی انھیں فل سپورٹ کرتی ہیں۔
انھیں اربن نکسل جدید کہاجائے تو غلط نہیں ہوگا مگر حقیقت میں ان کاتعلق مختلف دیہاتوں سے ہے۔ قصہ مختصر یہ کہ شہروں کی زندگی ان ہی سے رواں دواں ہے۔ اصلی شہری جانے کہاں چھپے بیٹھے ہیں؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے