اسلامک سنٹر ظہیرآباد میں مولانا اعجاز محی الدین وسیم صدر و خطیب مسجد عزیزیہ مہدی پٹنم حیدرآباد کا خطاب

ظہیرآباد 2/ جون (مشرقی آوازجدید): حضرت سید نا ابراہیم کی زندگی کا اہم کارنامہ توحید خالص کو عام کرنااور شرک کی خباثتوں سے انسانیت کو بچانا ہے جس کے لئے اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کا صحیح استعمال کیا جائے اور ان حاصل نعمتوں کو اللہ کی خوشنودی کے لیے کھو دیا جائے انہوں نے ہر  آزمائش کو انگیز کیا اور باطل طاقتوں سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ وہ ثابت قدمی کے ساتھ حق کے راستے پر چلتے رہے اور بالآخر ساری آزمائشوں میں پورے اترے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں سارے انسانوں کا امام بنانے کا اعلان کیا ۔ حضرت ابراہیم کی سیرت سے یہی پیغام ملتا ہے کہ اہل حق پر آزمائشیں آئیں گی اور جو گروہ ان مصائب و مشکلات کو برداشت کرتے ہوئے بندگی رب کی دعوت دینے سے پیچھے نہیں ہٹتا اس کے لئے دنیا میں بہترین مقام و مرتبہ اور آخرت میں دائمی اجر وثواب کا مژدہ سنایا گیا۔  ذی الحجہ کے اس مبارک مہینہ میں امت مسلمہ محض رسمی طور پر قربانی اور حج کے فریضہ کو ادا نہ کرے بلکہ فلسفہ حج و قربانی کی روح کو اپنے لئے حزر جاں بنالے تو آج دنیا کا نقشہ بدلا جا سکتا ہے اور اہل ایمان دنیا کی قیادت کے منصب پر فائز ہو سکتے ہیں۔ شرط یہ ہے کہ باطل کے مکر وفریب کا شکار ہوئے بغیر اسوہ ابراہیمی کو اپنے لئے مشعل راہ بنانے کا عزم کریں۔ ان خیالات کا اظہار مولانا اعجاز محی الدین وسیم صدر وخطیب مسجد عزیزیہ مہدی پٹنم حیدرآباد  نے کل شب جماعت اسلامی ہند ظہیر آباد نارتھ کے زیر اہتمام اسلامک سنٹر لطیف روڈ ظہیر آباد پر منعقدہ خطاب عام بعنوان "سیرت ابراہیمی اورحقیقت قربانی "خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حضرت ابراہیم نے جس ماحول میں آنکھ کھولی وہ پوری طرح شرک و کفر بت پرستی، آباء پرستی میں ملوث تھا کہ انسانوں کے دل و دماغ سوچنے اور سمجھنے سے محروم اور قوم حق و باطل کی تمیز کھو چکی تھی۔ پورا معاشرہ آلودہ ہو چکا تھا۔ شرک کے  کہیں بھی توحید کی ٹمٹماتی ہوئی کوئی روشنی کی کرن تک نظر نہیں آرہی تھی۔ایسے پرخطرحالات میں اللہ تعالیٰ نےآپ کو حق کی بصیرت عطا کی۔ حکم خداوندی کے مطابق اس کارنبوت کو انجام دینے کا فیصلہ کیا تو سب سے پہلے گھر اور خاندان کی جانب سے مخالفت کا سامنا ہوا پھر قوم دشمن بن گئی اور معاملہ نمرود کے دربار تک پہنچ گیا۔ دعوت حق کو پیش کرنے کے جرم میں دہکتی ہوئی آگ میں  ڈال دیا گیا اور پھر وہ مرحلہ بھی آیا کہ اپنے جواں سال فرزند کو اللہ کے راستے میں قربان کیاجائے اور یہاں بھی چھری نے اپنا کام نہیں کیا۔ اور کہا کہ قربانی کا مقصد دراصل اپنی پوری زندگی اللہ کے لیے سونپ دینا ہے خواہشات نفس کو اللہ کی مرضی کے تابع کرنا ہے اللہ کی راہ میں جدوجہد کرتے ہو ئے جان و مال کا نذرانہ پیش کر نا ہے تمام محبتوں پر اللہ کی محبت پر ترجیح دینا ہے آج کے پروگرام کا آغاز محمد ریحان کی تلاوت قرآن وترجمانی سے ہواامیرمقامی محمد قیصر غوری نے مہمانوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے غرض وغایت پیش کی معاون امیر مقامی محمد معین الدین نے نظامت کے ساتھ ساتھ اظہار تشکر بھی پیش کیا اس موقع پر معززین ونوجوان کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔۔۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے