تلنگانہ فریڈم فائٹر ڈاکٹر جاں نثار معین کا صحافتی بیان
ظہیرآباد 8/ جون(مشرقی آواز جدید): تلنگانہ میں حالیہ وزارتی توسیع کے دوران جب ریاستی کابینہ میں تین نئے وزراء کو شامل کیا گیا تو اسے کانگریس کی جانب سے "سماجی انصاف” کا نام دیا گیا۔ تاہم یہ سماجی انصاف اس وقت کھوکھلا محسوس ہوتا ہے جب ریاست کی دوسری بڑی آبادی، یعنی مسلمانوں، کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ ریاست کی تاریخ میں کابینہ میں کسی بھی مسلمان کو جگہ نہیں دی گئی، جو نہ صرف حیران کن بلکہ جمہوری اصولوں کے خلاف بھی ہے۔
ریاست تلنگانہ میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب 13 سے 14 فیصد کے درمیان ہے، جب کہ بعض اضلاع میں یہ شرح 20 فیصد سے بھی زائد ہے۔ ایسے میں ان کی مکمل غیر موجودگی محض اتفاق نہیں ہو سکتی۔ یہ ایک واضح پیغام ہے کہ سیاسی شرکت کے نعروں کے باوجود مسلمانوں کو اقتدار کی میز سے دور رکھا جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں یہ سوال جنم لیتا ہے کہ کیا مسلمان اس قدر نااہل ہو چکے ہیں کہ انہیں کابینہ میں نمائندگی کے لائق نہیں سمجھا گیا؟ یا پھر یہ فیصلہ محض ووٹ بینک کی سیاست کا شاخسانہ ہے؟
ماضی میں ایسی صورت حال نہیں تھی۔ آندھرا پردیش کے دور میں کانگریس نے کئی مرتبہ مسلمانوں کو وزارتی عہدے دیے۔ ڈاکٹر اے بی عبداللہ، محمد علی شبیر، فاطمہ رشید اور دیگر شخصیات نے صحت، تعلیم، اقلیتی بہبود جیسے اہم شعبوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔ 2004 میں ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے اپنی کابینہ میں دو مسلمان وزراء کو شامل کیا۔ بعد میں جب ٹی آر ایس اقتدار میں آئی تو محمد محمود علی کو نائب وزیر اعلیٰ بنایا گیا، جو اگرچہ علامتی حیثیت رکھتا تھا، مگر ایک سیاسی توازن قائم رکھتا تھا۔
موجودہ صورتحال میں کانگریس کا نعرہ "جتنی آبادی، اتنی شرکت” صرف ایک انتخابی ہتھکنڈہ ثابت ہوا ہے۔ اگر واقعی اس نعرے کو عملی جامہ پہنایا جاتا تو کم از کم ایک مسلمان کو کابینہ میں شامل ضرور کیا جاتا۔ یہ معاملہ صرف مسلمانوں کی نمائندگی کا نہیں، بلکہ جمہوری توازن، شمولیت اور انصاف کی اصل روح کا ہے۔ اگر ریاست میں موجود 13 فیصد آبادی کو مکمل طور پر نظرانداز کیا جائے تو یہ سماجی انصاف کی تعریف کے برخلاف ہے۔
مسلمانوں کی سیاسی بے وزنی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ اکثر محض سیاسی سرگرمیوں میں شامل ہو کر رہ جاتے ہیں، لیکن فیصلہ سازی کے مراکز سے دور رہتے ہیں۔ انہیں پارٹیوں کی کلیدی کمیٹیوں میں شامل نہیں کیا جاتا، ٹکٹ دینے کے وقت پیچھے رکھا جاتا ہے، اور اکثر اُن پر صرف جلسے، ریلی اور ووٹنگ کے دن متحرک ہونے کی ذمہ داری ڈال دی جاتی ہے۔ ایسے میں اگر وہ خود تنظیم سازی نہ کریں، قیادت پیدا نہ کریں اور اپنی سیاسی اہمیت کو منوائیں نہیں، تو ان کا کردار ہمیشہ ایک خاموش تماشائی کا ہی رہے گا۔
یہ صورتحال صرف ایک سیاسی محرومی نہیں، بلکہ سماجی توازن کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ اقلیتوں کو صرف تحفظات کے دستاویزات میں جگہ دینا کافی نہیں ہوتا، انہیں اقتدار میں شریک کرنا، ان کی آواز کو سننا اور انہیں فیصلہ سازی کا حصہ بنانا لازمی ہے۔ بصورت دیگر جمہوری اقدار محض نعروں تک محدود ہو کر رہ جاتی ہیں۔
آج کا المیہ یہی ہے کہ مسلمان اپنی قیادت کی تشکیل سے غافل ہو گئے ہیں۔ وہ صرف دوسرے کی حمایت پر بھروسہ کر کے سیاسی سائے میں کھڑے ہیں، جب کہ انہیں چاہیے کہ وہ اپنی چھاؤں خود پیدا کریں۔ انہیں سیاسی، فکری اور تنظیمی میدان میں قدم رکھنا ہوگا، اپنی جماعتیں بنانا ہوں گی، مضبوط نمائندے کھڑے کرنے ہوں گے، اور صرف ووٹ دینے والے نہیں بلکہ پالیسی بنانے والے بننا ہوگا۔
غالب کا شعر ایسے موقع پر بے حد موزوں ہے:
"عمر بھر غالب یہی بھول کرتا رہا
دھول چہرے پہ تھی اور آئینہ صاف کرتا رہا”
اب وقت آ گیا ہے کہ مسلمان آئینے کو نہیں، اپنے چہرے کو صاف کریں — اور اپنی سیاسی پہچان ازسرنو تراشیں۔ بصورت دیگر، انہیں اقتدار کے ایوانوں میں صرف بطور تماشائی ہی دیکھنے کی عادت ڈالنی پڑے گی۔۔۔۔۔
