لکھنؤ: بتاریخ:١٥/جون ٢٠٢٥ءبروزاتواربہ وقت ١٠:٣٠ صوبائی جمعیت اہل حدیث مشرقی یوپی، لکھنؤ کی آفس میں صوبائی جمعیت کے معزز ارکانِ عاملہ کی ایک میٹنگ منعقد ہوئی جس کی صدارت صوبائی جمعیت کے نائب امیر جناب مولانا محمد ابراہیم مدنی/حفظه الله نے فرمائی اور کاروائی صوبائی جمعیت کے ناظم اعلی جناب مولانا شہاب الدین مدنی نے چلائی، میٹنگ کا آغاز صوبائی جمعیت کے نائب ناظم جناب حافظ کلیم اللہ سلفی صاحب کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔اس کے بعد یکے بعد دیگرے میٹنگ کے تمام ایجنڈوں پر مشارکین و مدعوئین خصوصی نے خوش گوار ماحول میں گفتگو فرمائی:
ایجنڈہ کے پہلے دفعہ:”رپورٹ ناظم اعلی” کے تحت صوبائی جمعیت کے ناظم اعلی جناب مولانا شہاب الدین مدنی نے تمام شرکائے اجلاس کا خیرمقدم اور والہانہ استقبال کرتے ہوئے بصمیمِ قلب شکریہ ادا کیا اور اپنی گذشتہ کارکردگی کی تفصیلی رپورٹ پیش کی:
جس میں تلخ و شیریں حقائق اور معاندینِ سلفیت کی کرم فرمائیاں شامل تھیں۔ آپ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ جن اضلاع میں ضلعی جمعیات کی میقات ختم ہوگئی تھی، وہاں دستور کے مطابق جدید انتخاب عمل میں لایا گیا ہے۔ بعض ضلعی جمعیات بطورِ خاص جھانسی کی جمعیت میں بعض غیر منہجی افراد کی شرکت و شمولیت کے باعث کافی انتشار و خلفشار ہے، ممکنہ کوشش اور حکمت و دانائی کے ساتھ سب کو متحد اور باہم شیر و شکر کرنے کی کوشش جاری ہے۔دوران گفتگو آپ نے ایک اہم اور اصولی بات کی طرف رہنمائی کرتے ہوئے فرمایا کہ”تجربات اس بات پر شاہد ہیں کہ ضلعی جمعیات کے انتخاب میں جذباتی ہونے کے بجائے سنجیدگی اور ہوش مندی کی شدید ضرورت ہے، کہیں بھی اور کسی بھی صورت میں ہمیں اپنے عقیدہ و منہج سے سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے، کسی غیر منہجی شخص کو جمعیت میں داخل نہیں کرنا چاہیے اور جمعیت کی تشکیل کے لیے ایڈہاک کمیٹی تشکیل دی جائے” ضلع سنت کبیرنگر میں خودہی لوگوں نے جمعیت کا انتخاب کرلیا تھا، جب مجھے اس کی اطلاع ملی تو میں نے اس انتخاب کو کالعدم قراد دے کر شیخ محمد ابراہیم مدنی کو بطورِ مشاہد بھیج کر جدید انتخاب کرایا۔
کان پور کی جمعیت میں شدید اختلاف تھا، کوشش بسیار کے بعد وہاں کا انتخاب جدید عمل میں آیا۔
گورکھپور کی جمعیت مکمل طور پر جمود و تعطل کا شکار ہے، آپسی انتشار ہے، ایڈہاک کمیٹی بنادی گئی ہے، چند مہینوں میں انتخاب ہو جائے گا۔ ان شاءاللہ۔
مشرقی یوپی کے تمام اضلاع میں صوبائی جمعیت کی سرپرستی میں ہونے والے تمام دعوتی، اصلاحی اور تعلیمی بیداری پروگراموں اور کانفرنسوں میں شرکت کرتا ہوں۔
لکھنؤ میں بعض مقامات پر ماہانہ اور چوپٹیاں کی حنفی مسجد میں پندرہ روزہ درس کا اہتمام ہوتا ہے۔
صوبائی جمعیت نے شیخ عزیزالحق عمری رحمہ اللہ کے قرآن کریم کا ہندی ترجمہ کی آڈیو جناب حمزہ رئیس کی زبان میں تیار کرایا ہے جسے "نداء القرآن” سائٹ پر آپ سن سکتے ہیں۔
راہ دعوت میں معترضین کے اعتراض سے گھبرانا نہیں چاہیے اور جذباتیت کے بجائے شعور و آگہی، حکمت دانائی اور سلیقہ مندی سے کام لینا چاہیے۔
ایجنڈہ کے دوسرے دفعہ”ضلعی جمعیت کی کارکردگی کا جائزہ” کے تحت تمام ضلعی جمعیات کے نظماء کو اپنی کارکردگی کی رپورٹ تحریری شکل میں جمع کرنے کی گزارش کی گئی، البتہ تمام اضلاع کی نمائندگی کے لیے ضلعی جمعیت اھل حدیث سدھارتھ نگر کے ناظم مولانا وصی اللہ عبدالحکیم مدنی کو دعوت دی گئی، جنھوں نے جمعیت کی دعوتی، تبلیغی، علمی، تنظیمی، رفاہی، سماجی سرگرمیوں کو تحریری طور پر تفصیل سے پیش کیا اور ضلعی جمعیت کی علمی نمایاں حصول یابیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ سالِ گذشتہ ڈاکٹر بدرالزمان نیپالی، مدنی کی کتاب”علماء اہل حدیث بستی و گونڈہ ” کی طباعت و اشاعت ہوئی ہے۔
سالِ رواں کے حالیہ مہینے کے اوائل میں رئیس القلم استاد محترم علامہ محمد رئیس ندوی رحمہ اللہ جو جماعت کے غیور عالم دین اور ناقدینِ حدیث میں تھے، ان کی حیات و خدمات پر 640 صفحات پر مشتمل دستاویزی کتاب مسمی "علامہ محمد رئیس ندوی رحمہ اللہ: حیات و خدمات” زیور طباعت سے آراستہ ہوگئی ہے، جسے مقالہ نگاران، یونیورسٹیوں کی جنرل لائبریریوں، معاہد و مراکز اور دوسرے باذوق علماء کی خدمت میں بھیجنے کی سنجیدہ کوشش جاری ہے۔
شرکائے اجلاس بطورِ خاص جناب مولانا عطاء الرحمن سعیدی، مدنی نے ضلعی جمعیت کی نمایاں سرگرمیوں کو سن کر اپنی مسرت و شادمانی کا اظہار کرتے ہوئے پرخلوص دعاؤں سے نوازا۔
ضلعی جمعیت اہلِ حدیث پرتاب گڑھ کے ناظم جناب محمد مرتضیٰ صاحب نے زبانی طور اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے وہاں کے بعض داخلی مصائب و مشاکل، آپسی اختلافات، ذہنی آوارگی اور چمن اسلام کے بارے میں معاندینِ کتاب وسنت کی سازشوں کو بیان کیا اور مرکزی و صوبائی جمعیت کے اہم ذمہ داروں سے خصوصی توجہ مبذول کرنے کی درخواست کی۔
ضلعی جمعیت اہلِ حدیث ،بلرام کے ناظم مولانا زبیر احمد مدنی کی نیابت کرتے ہوئے جناب مولانا عطاء الرحمن سعیدی صاحب نے زبانی رپورٹ پیس کی، جس میں انھوں نے خطبات جمعہ، مکاتب و مدارس کا معائنہ اور بعض دیگر امور کو بیان کیا۔
صوبائی جمعیت اہل حدیث مشرقی یوپی کے خازن جناب الحاج وکیل احمد (بھدوہی) صاحب نے اپنے توجیہی اور ناصحانہ کلمات میں اقامتِ صلوة کی پابندی، اختلافات سے دوری اور لوگوں کی خوبیوں پر نگاہ رکھنے کی عاجزانہ اپیل کی۔
ایجنڈہ کے تیسرے دفعہ”موجودہ حالات اور لائحہ عمل پر غور و خوض” وقت کی تنگ دامانی کے باعث اس دفعہ پر تفصیلی گفتگو نہیں ہوسکی، البتہ ملک کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر صوبائی جمعیت کے نائب امیر مولانا محمد ابراہیم مدنی نے مساجد و مکاتب کے تمام کاغذات کی درستگی اور اصول وضوابط کو سختی سے فالو کرنے کی دردمندانہ اپیل کی۔
ایجنڈہ کے چوتھے دفعہ”صوبائی کانفرنس کے انعقاد پر غور و خوض” کے تحت ناظم صوبائی جمعیت مولانا شہاب الدین مدنی صاحب نے گذشتہ کانفرنسوں کے حسین اثرات اور فوائد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے پیغام مثبت اور تعمیری ہوتے ہیں۔
باتفاق رائے یہ بات طے پائی کہ صوبائی کانفرنس کا انعقاد سرزمین لکھنؤ اور نومبر٢٠٢٥ءکے ابتدائی ہفتہ میں کیا جائے۔
کانفرنس کے مرکزی موضوع اور اس کے ذیلی عناوین کا انتخاب اور بجٹ کا تخمینہ اور اس کی فراہمی پر گفتگو آئندہ ماہ دوسری میٹنگ میں ہوگی۔
ایجنڈہ کے پانچویں دفعہ”جمعیت کے مالی استحکام پر غور و خوض” کے تحت ناظم صوبائی جمعیت نے کہا کہ صوبائی جمعیت کا پین کارڈ حاصل کر لیا گیا ہے، جلد ہی اس کا اکاؤنٹ کھول کر بار کوڈ حاصل کر لیا جائے گا پھر بآسانی جمعیت کا مالی تعاون بھیجا جاسکتا ہے۔ان اضلاع کے امراء و نظماء کو یاد دلایا گیا جو صوبائی جمعیت کا اپنا بقایا مالی تعاون اب تک کسی وجہ سے جمع نہیں کرسکے ہیں۔
ایجنڈہ کے آخری دفعہ "دیگر امور باجازت صدر” کے تحت جگہ جگہ دعوتی سینٹروں کے قیام کے مضر اثرات پر گفتگو ہوئی اور باھمی مشوروں سے یہ بات طے پائی کہ جمعیت انہی دعوتی مراکز کو تصدیق نامہ جاری کرے گی جو تصدیق نامہ کے وضع کردہ اصول وضوابط کو پورا کریں۔
صوبائی جمعیت کے امیر حافظ عتیق الرحمن طیبی کی دعائیہ کلمات پر مجلس کے اختتام کا اعلان کیا گیا۔ بعد نمازِ ظہر تمام شرکاء نے کھانا تناول فرمایا۔
میٹنگ میں اضلاع سے امراء، نظماء اور دیگر نمائندگان نے کثیر تعداد میں شرکت فرمائی۔
اس پروگرام کے انتظام و انصرام اور حُسنِ ضیافت میں مولانا فریدالدین فیضی، مولانا تقی الدین حجازی اور حافظ عبدالکریم سلفی صاحبان کی کاوشیں قابلِ قدر رہیں۔
