وقف ترمیمی قانون کے خلاف آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے زیر اہتمام اور مقامی ملی تنظیموں کی زیر سرپرستی‘ شہر رائچور میں "وقف بچاؤ، دستور بچاؤ” کے عنوان سے خواتین کا ایک منفرد، تاریخ ساز اور عظیم الشان جلسہ عام منعقد ہوا۔ 30 جون 2025 کو اتھنور فنکشن پیالس‘ رائچور میں منعقد ہ اس جلسہ عام میں تقریباً 1200 باشعور اور پرعزم خواتین نے شرکت کی۔
یہ جلسہ اپنی نوعیت میں اس لئے بھی منفرد تھا کہ یہ مکمل طور پر خواتین کی شرکت‘ان کے نظم وانصرام اور فکری بیداری کا آئینہ دار تھا۔ اس موقع پر خواتین مقررین نے وقف املاک کے تحفظ‘ آئینی حقوق کی پاسداری اور خواتین کے عملی کردار اور ملک اور باشندگان ملک کی خیرخواہی پر بصیرت افروز خطابات کئے۔
کلام پاک سے آغاز: پرنورماحول کا آغاز
پروگرام کا آغاز محترمہ ڈاکٹر مفتیہ نورِ صبا صاحبہ‘ نمائندہ اہلِ سنت والجماعت‘ کی تلاوت قرآن مجید سے ہوا۔محترمہ نے نے نہایت خوش الحانی اور پُرکیف انداز میں تلاوتِ کلامِ پاک سے سامعات کے دلوں کو منور کیا۔
افتتاحی کلمات:یہ احتجاج غیر آئینی و غیر منصفانہ اقدامات کے خلاف
بعدافتتاحی کلمات محترمہ شمیم النساء بیگم صاحبہ ‘ناظمہ شعبۂ خواتین‘جماعت اسلامی ہند رائچور نے پیش کئے۔ انہوں نے جلسے کے انعقاد کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ احتجاج کسی مخصوص فرد یا قوم کے خلاف نہیں ہے بلکہ یہ آواز ہے اُن غیر آئینی و غیر منصفانہ اقدامات کے خلاف‘ جو حکومت کی جانب سے وقف املاک جیسے مقدس ادارے پر دست درازی کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وقف ایک شرعی اور ملی امانت ہے‘ جس پر حکومت کی دستور کے خلاف قانون سازی ناقابل قبول ہے۔یہ جلسہ اس امر کا اعلان ہے کہ مسلمان خواتین اب صرف گھروں تک محدود نہیں بلکہ وہ اپنے شرعی و آئینی حقوق کے تحفظ کے لئے کمربستہ ہیں۔
مہمان خصوصی ڈاکڑ قدسیہ صاحبہ کا خطاب: خاموشی اب جرم ہے۔
اس پُروقار اجتماع کی مہمان خصوصی محترمہ ڈاکٹر قدسیہ صاحبہ‘ پروفیسر عثمانیہ یونیورسٹی‘ حیدرآباد اور رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے نہایت مدلل اور دردمندانہ انداز میں شرکاء سے خطاب فرمایااور کہا کہ موجودہ وقف ترمیمی قانون ‘ صرف ایک قانونی مسئلہ نہیں بلکہ ملتِ اسلامیہ کی دینی شناخت اور اجتماعی امانتوں کے سراسر خلاف ہے۔
محترمہ نے کہا کہ یہ قانون سازی اس بات کی عملی مثال ہے کہ کس طرح مسلمانوں کی مذہبی اقدار‘ عقائد اور وقف کی امانتوں کو قانونی لبادہ اوڑھا کر چھینا جا سکتا ہے۔یہ صرف وقف کی زمین یا جائیداد کا معاملہ نہیں‘ بلکہ امت کے تہذیبی تشخص‘ دینی ورثے اور ملی غیرت کا مسئلہ ہے۔اس قانون سازی نے درحقیقت ہمیں اٹھ کھڑے ہونے کی صدا دی ہے۔ اب خاموشی غفلت نہیں بلکہ جرم کے مترادف ہے۔ایسے نازک وقت میں پر امن‘ آئینی اور منظم احتجاج تمام باشعور مسلمان خواتین کی شرعی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔
مہمان خصوصی ایڈوکیٹ جلیسہ سلطانہ صاحبہ کا خطاب:یہ مسئلہ زمین کا نہیں‘ایمان کا ہے۔
جلسہ کی ایک اور معزز مہمان‘ محترمہ جلیسہ سلطانہ صاحبہ‘ ایڈوکیٹ ورکن آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ‘ حیدرآباد نے وقف ترمیمی قانون کے قانونی نقائص پر روشنی ڈالتے ہوئے نہایت جرأت مندانہ انداز میں اہم نکات خواتین کے سامنے رکھے۔انہوں نے کہا کہ یہ ترمیمی قانون صرف ظاہری تبدیلی نہیں‘بلکہ مسلمانوں کے مذہبی اور قانونی اختیارات پر ایک سوچا سمجھا وار ہے۔انہوں نے چند اہم سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا وقف تنازعات کا فیصلہ عدالت کے بجائے ضلعی کلکٹر کرے گا؟کیا یہ انصاف کے اصولوں کے خلاف نہیں؟ یہ فیصلہ عدلیہ کے اختیارات میں مداخلت نہیں تو اور کیا ہے؟جب مندر‘ چرچ‘ گردوارہ وغیرہ کے انتظام میں کسی دوسرے مذہب کے فرد کی مداخلت نہیں ہوتی تو مسلمانوں کے وقف میں غیر مسلموں کو شامل کرنا کیوں ضروری سمجھا گیا؟کیا یہ مسلمانوں کے مذہبی اداروں میں بے جا مداخلت نہیں؟اگر واقعی حکومت کو مسلمانوں کی بھلائی مطلوب تھی تو ملت سے مشورہ کیوں نہیں کیا گیا؟بغیر نمائندگی کے کوئی بھی قانون سازی “بھلائی” کہلانے کی مستحق نہیں۔
ان تمام سوالات کا جواب دیتے ہوئے محترمہ جلیسہ سلطانہ صاحبہ نے نہایت واضح الفاظ میں کہا:انصاف وہی ہوتا ہے جو سب کے لئے یکساں ہو اور یہ وقف ترمیمی قانون اس اصول کی صریح خلاف ورزی ہے۔پھر کہا کہ وقف صرف زمین یا جائیداد کا مسئلہ نہیں‘ بلکہ یہ امت کی دینی امانت ہے‘اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنا‘ مسلمانوں کی آزادیٔ مذہب‘ تہذیبی شناخت اور شرعی معاملات میں دستوری طور پرحاصل خودمختاری پر حملہ ہے۔
ترانہ:میرے گفتار کی دیرینہ روش زندہ ہے:
ماحول اور جلسہ عام کی مناسبت سے مقامی جی آئی او کی لڑکیوں نے مولانا عامر عثمانی ؒ مرحوم کا دلوں کو گرما دینے والا ترانہ پیش کیا:
آج بھی میرے خیالوں کی تپش زندہ ہے
میرے گفتار کی دیرینہ روش زندہ ہے
آج بھی ظلم کے ناپاک رواجوں کے خلاف
میرے سینے میں بغاوت کی خلش زندہ ہے۔
قرار داد کی منظوری:اس کالے قانون کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔
جلسہ کے اختتامی خطاب سے قبل محترمہ اُمّ حفصہ زہراوی صاحبہ‘ نمائندہ اہلِ حدیث نے جلسہ کی طرف سے ایک جامع‘ مدلل اور پُرعزم قرارداد پیش کی جسمیں موجودہ وقف ترمیمی قانون کو غیر آئینی ‘غیر شرعی اور مسلمانوں کے مذہبی حقوق کے خلاف قرار دیتے ہوئے اسکے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا گیا۔جیسے ہی قرارداد پیش کی گئی پورا ماحول اوراللہ اکبر کی صداؤں سے گونج اُٹھا۔جلسے میں شریک 1200 سے زائد خواتین نے یک زبان ہو کر‘ ہاتھ بلند کر کے اس قرارداد کی مکمل تائید کی اور مطالبہ کیا کہ:اس کالے قانون کو فوری طور پر واپس لیا جائے!
اختتامی خطاب از ناصرہ خانم صاحب: وقف املا ک پر حکومت کا کنڑول سراسر ظلم
محترمہ ناصرہ خانم صاحبہ‘ سابق معاون ناظمہ‘ شعبۂ خواتین ‘مرکز جماعت اسلامی ہند‘ دہلی نے اپنے صدارتی خطاب میں اللہ رب العزت کا شکر ادا کرتے ہوئے جلسے میں خواتین کی بھرپور شرکت اور تحفظِ دین کے شعوری جذبے کو خوب سراہا۔اور کہا کہ آج کی یہ حاضری اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ ملت کی مائیں‘بہنیں اور بیٹیاں اب پورے شعور کے ساتھ میدان عمل میں قدم رکھ چکی ہیں ۔
اپنے خطاب میں محترمہ ناصرہ خانم صاحبہ نے واضح انداز میں فرمایا:وقف کا تحفظ صرف ایک قوم یا ملت کا مسئلہ نہیں‘ بلکہ پورے دینِ اسلام کی بقاء اور اس کی امانتوں کی حفاظت کا مسئلہ ہے۔جو زمینیں اللہ کے نام پر وقف کی گئی ہوں‘ ان پر کسی حکومت یا فرد کاکنٹرول سراسر ظلم ہے۔یہ قانون محض زمینوں کی منتقلی کا معاملہ نہیں‘بلکہ دین کے شعائر‘ مسلمانوں کی خودمختاری اور ان کے مذہبی شعور کے بھی خلاف ہے۔
محترمہ نے خواتین اسلام کا ہمہ جہت کردارپر زرو دیتے ہوئے کہا کہ نازک اور چیلنج بھرے حالات میں ہمیشہ خواتینِ اسلام نے بلند عزائم اور حوصلوں اور حکمت و دانشمندی کے ساتھ تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے۔اس لئے انہوں نے خواتین کو تلقین کی کہ وہ صرف احتجاج تک محدود نہ رہیں، بلکہ اپنے گھروں اور معاشروں کو بیداری کے مراکز میں تبدیل کریں۔اپنی اولاد کی دینی و اخلاقی تربیت کریں تاکہ آنے والی نسلیں وقف، شریعت اور دین کی حفاظت کا فریضہ بخوبی نبھا سکیں۔
جلسے کے اختتام سے قبل‘ محترمہ سائرہ آپا صاحبہ‘ نمائندہ تبلیغی جماعت نے پُرسوز اور دلگداز دعا کے ذریعے محفل کو روحانی رنگ عطا کیا۔
جلسہ عام کا اختتام محترمہ شہناز لطیف صاحبہ‘ پروگرام کنوینر کے پُرجوش اور مؤثر اظہارِ تشکر کے ساتھ ہوا۔انہوں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے تمام مہمانان، مقررین اور شریک خواتین کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا۔
وقف ترمیمی قانون کے خلاف خواتین کےاس احتجاجی جلسہ عام میں حسب ذیل قرار دا د منظور کی گئی:
الحمد للہ‘آج شہر رائچور میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ‘مقامی ملی تنظیموں کے شعبہ خواتین کے زیر اہتمام منعقدہ اس پُرامن جلسۂ عام میں جمع ہو کر ہم بھارتیہ مسلمانوں کے ایک بنیادی دستوری حق – وقف – کے تحفظ کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں اور درج ذیل قرارداد منظور کرتے ہیں:
۱) وقف ترمیمی قانون نہ صرف آئین ہند کی دفعات 25 تا 30 کے خلاف ہے بلکہ اقلیتوں کے مذہبی، تعلیمی اور فلاحی حقوق کو سلب کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔
۲) یہ ترمیم مسلمانوں کی صدیوں پرانی مذہبی، تعلیمی اور رفاہی خدمات کے نظم کو حکومت کے غیر ضروری کنٹرول میں لانے کی کوشش ہے، جو جمہوریت اور سیکولرزم کی روح کے منافی ہے۔
۳) اس قانون کے ذریعے وقف املاک کے انتظام میں سرکاری مداخلت کا دائرہ بڑھا کر شرعی اصولوں اور دستوری تقاضوں کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے جو کہ نہ صرف مسلمانوں کے مذہبی جذبات کی توہین ہے بلکہ آئینی آزادیوں کی خلاف ورزی بھی ہے۔
۴) یہ ترمیم بھارت جیسے کثیر المذاہب‘ کثیر الثقافت اور کثیر اللسان معاشرہ میں عدم اعتماد‘ اختلاف اور انتشار کا باعث بن سکتی ہے۔
۵) ہم میڈیا‘ سول سوسائٹی‘ اقلیتوں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں اور انصاف پسند شہریوں سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس سلسلہ میں آواز بلند کریں اور آئینی اقدار کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔
یہ قرارداد آج بروز پیر‘ بتاریخ:30 / 06 / 2025 کوخواتین کے جلسۂ عام منعقدہ اتھنور فنکشن پیالیس ‘رائچور میں متفقہ طور پر منظور کی گئی۔اللہ تعالیٰ ہماری اس کوشش کو قبول فرمائے اور ہمیں اپنے حقوق کے تحفظ میں کامیابی عطا فرمائے۔ آمین۔
