بیدر۔ 30؍جون (محمدیوسف رحیم بیدری): گرلز اسلامک ارگنائزیشن، کرناٹکا کے جانب سے” وقف بچاؤ ” مہم چلائی جارہی ہے۔ جس کے چلتے جی آئی او شرالکپہ میں بروزِ پیر30؍جون ناڑ کچہری شرالکپہ میں ڈپٹی تحصیلدار محترمہ Sakkamma کو میمورنڈم سونپا گیا۔ جس میں بہن مہناز تاج(ممبر جی آئی او شرالکپہ) نے بات کرتے ہوئے کہا کہ”وقف ترمیمی ایکٹ 2025 نہ صرف مذہبی آزادی کے خلاف ہے بلکہ یہ آئینی یکسانیت کے بھی منافی ہے۔”وقف جائیدادیں مسلمانوں کی فلاحی و تعلیمی ترقی کا ذریعہ ہیں، اور ان پر سرکاری گرفت دراصل ملت کو کمزور کرنے کی سازش ہے۔وقف جائیداد پر ناجائز قبضے کو قانونی تحفظ دینا سراسر ناانصافی ہے، کیونکہ یہ اصل حق داروں سے ان کی امانت چھیننے کے مترادف ہے۔محترمہ آصفہ صدیقہ (ضلع آرگنائزر GIO شموگہ) نے کہا کہ وقف مسلمانوں کی دینی و ملی امانت ہے، جس پر کسی بھی قسم کی سرکاری مداخلت ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے ریاستی اور مرکزی حکومت سے اپیل کی کہ وہ وقف ترمیمی ایکٹ 2025 کو فی الفور واپس لے اور مسلمانوں کے مذہبی، آئینی و جمہوری حقوق کا تحفظ یقینی بنائے۔ بہن محترمہ سانیہ انجم نے باقاعدہ طور پر memorandum پڑھ کر سنایا، جس کے بعد ڈپٹی تحصیلدار صاحبہ کے حوالے میمورنڈم کیاگیا۔ محترمہ ڈپٹی تحصیلدار صاحبہ نے ہماری بات کو سنا اور یقین دلایا کے آج ہی آپکی د درخواست کو آگے ذمہ داران تک پہنچائیں گے۔ محترم ‘امیرِ مقامی جناب محمد حسین ‘صاحب کا بھرپور ساتھ رہا۔ اس سیکشن کی نظامت بہن عظمیٰ ممبر جی آئی او نے نبھائی،اس موقع پر جی آئی او کیڈر موجود تھا۔
