افسانچے

جولائی 20, 2025

محمدیوسف رحیم بیدری ، بیدر،کرناٹک 

۱۔ ضرورت مرد کی 
بازا ر میں عورتیں ہی عورتیں تھیں۔ پوچھاگیا’’مرد کہاں ہیں ؟‘‘ جواب ملا’’موبائل لئے بیٹھے ہوں گے ،دنیابھر کی ایسی ویسی خواتین کادیدار کرتے ہوئے ‘‘ تعجب سے کہاگیا’’پھر، بازار کون سنبھالے گا؟‘‘ جواب ملا’’عورتیں ہی تو سنبھال رہی ہیں، لیکن یہ بتا ؤ تمہیں مرد کی کیوں ضرورت پڑی ہوئی ہے ؟‘‘
کوئی جواب نہیں ملا۔
۲۔ بندشیں 
چالیسویں سے پہلے ہی لوگ اپنی دنیوی مصروفیتوں کے علاوہ خوشیاں منانے میں لگ گئے۔ براتو بہت لگا۔ کیاکیاجاسکتاتھا۔آئندہ کے تمام مرحومین کے گھر کی رسومات کوچالیسویں سے اٹھاکر بیسویں تک کم کردیاگیا۔ اب بیسواں ہونے لگاہے ۔ چالیسویں تک کی بندشیں ختم ہوگئی ہیں۔
۳۔ زوال کی طرف 
رشتے اس قدر تھے کہ وہ کنفیوژ ہوکر رہ گئی۔ عمر بھی کم تھی اور عقل بھی ۔ بے عقلی اپنے شباب پر ہونے کی بناپر اُسے والد کی باتیں سمجھ میں نہیں آئیں۔ پھر جو کچھ ہوا، وہ انتہائی دردناک ہے۔ لوگ دراصل خوشیوں کے عادی ہوچکے ہیں۔ اور غم یاحادثات کے ذکر سے کترانے لگے ہیں۔ اس کے والد سوچ رہے تھے کہ معاشرہ آخر کدھر جارہاہے ؟
۴۔ کھڈے والی 
آہستہ آہستہ دنیامیں بچے کم ہوتے چلے گئے۔ دنیا پہلے کے مقابلے ہلکی پھلکی ہوگئی۔ جس کی وجہ سے اس نے تواز ن کھودیااوردنیا ایک کھڈے میں گرگئی۔
۵۔ چھٹواںتجربہ 
جب اس نے پچیس سال بعد پانچواں تجربہ کیا اوراس میں ناکام ہوگیاتب اس کی سمجھ میں آیاکہ تجربات عمر کھالیتے ہیں۔ روایت ہی ٹھیک ہے مگر روایتوں نے تو صدیوں کو کھارکھاہے ؟ آخر کریں تو کیاکریں ؟ ایک سال بعد پتہ چلا کہ انفرادیت فنا کیلئے تیار ہے ۔ اسلئے چھٹے تجربہ کی تیاری کرلی گئی ہے۔
۶۔غبی کہانیاں 
جنگل راج کو اسکرین پر انسانی راج کے درمیان لاتے ہوئے خوش تھے کہ سامعین کروڑوں کی تعداد میں ان غبی کہانیوں پر فدا ہوچکے ہیں۔ جبکہ فلمی  کمانے کرنے والی کمپنی خوش تھی کہ وہ انسانی ذہن سازی میں کامیاب ہے۔
۷۔ 63سال 
’’اسلام عوام تک پہنچے اسکے لئے کوشش ہورہی ہے‘‘ اس نے کہا۔ میں نے پوچھا’’کتنے سال میں یہ کام ہوجائے گا‘‘۔و ہ بولا،’’ پتہ نہیں‘‘۔ میں نے پھر پوچھا ’’23سال کی مدت اگر مل جائے تو ؟‘‘ 23سالہ لڑکا جانے کیوں خاموش ہوگیا۔اس وقت میری عمر 40سال تھی۔ آج جب کہ میری عمر 103سال ہوچکی ہے۔ میرے قویٰ بھی جواب دے چکے ہیں لیکن مجھے پتہ ہے کہ 63سال بعد بھی اسلام عوام تک نہیں پہنچا۔افسوس کے علاوہ اور کیاکیاجاسکتاہے ؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے