تعزیتی اجلاس میں علاقہ کے سرکردہ علماء کرام نے پیش کی خراج عقیدت
نان پارہ، بہرائچ (محمد رضوان گوہرندوی): آج ۲۳ صفر ١٤٤٧ مدرسہ عربیہ بحر العلوم انجمن اسلامیہ نانپارہ بہرائچ میں مفتی ذکر اللہ صاحب قاسمی رحمہ اللہ کی یاد میں ایک تعزیتی نشست کا انعقاد ہوا، جس میں مدرسہ کے سینئر استاذ قاری اسرار نوری کی تلاوت سے نشست کا آغاز ہوا، مولانا امانت اللہ قاسمی نے مفتی ذکر اللہ صاحب قاسمی رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت پر منظوم کلام پیش کیا۔ سامعین سے خطاب کرتے ہوئے علاقہ کے معروف عالم دین حضرت مولانا سلیم قاسمی مہتمم مدرسہ بدر العلوم بابا گنج نے کہا کہ حضرت مفتی صاحب باکمال، تعلق مع اللہ والے ، مخلص اور علم دوست عالم تھے، عوام و خواص سے جڑے رہتے تھے۔
مدرسہ مظہر العلوم نانپارہ کے مہتمم مولانا الیاس قاسمی نے کہا کہ حضرت مختلف صلاحیت کے مالک تھے، علاقے کے ممتاز علماء میں ان کا شمار تھا، مدرسہ عربیہ بحر العلوم انجمن اسلامیہ نانپارہ کے مہتمم مولانا محمد افضل ندوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت مفتی صاحب اس دنیا سے رخصت ہو گئے اب ہم وارثین انبیاء حضرت مفتی صاحب کے زبان و قلم اور ان کے علوم و فنون کے محافظ و امین ہیں، وہ بلا شبہ اوصاف حمیدہ اور اخلاق کریمہ کا پیکر تھے۔

کے این پبلک اسکول کے معاون منیجر محمد رضوان گوہر ندوی نے تعزیت پیش کرتے ہوئے کہا کہ مفتی ذکر اللہ صاحب میرے گھر کے بڑوں کے بڑے محسن تھے، اہل خانہ سے اکثر ان کا ذکر خیر سنا ہے، ان کے صبر و رضا اور مجاہدے کے واقعات سنے ہیں، قریب سے دیکھنے کا موقع بھی ملا ہے لیکن بات چیت اور براہ راست استفادہ کا موقع نہیں مل سکا، نیک خو، خوب رو، خندہ رو، منکسر المزاج شخصیت کے مالک تھے، ضلع بہرائچ کی بڑی نامی گرامی ہستی تھے، اللہ تعالیٰ ان کے اوصاف حمیدہ ہم سب میں منتقل فرما دے۔
مولانا وقار صاحب اور مولانا حفیظ الرحمن قاسمی اور مولانا سمیع الدین قاسمی نے بھی تعزیتی اجلاس کو خطاب کیا۔
حاضرین میں مولانا نسیم، مولانا ساجد ثاقبی ، مولانا ابراہیم سمیت مدرسہ کے دیگر اساتذہ اور شہر و مضافات کے متعدد اہل تعلق موجود تھے، جلسہ کی نظامت مولانا احمد انصار قاسمی نے کی اور مولانا سلیم قاسمی کی دعا پر جلسہ کا اختتام ہوا۔
