بانگرمئو (گنج مرادآباد: محمد جنیدقاسمی ۲۱؍اگست): قصبہ بانگرمؤ محلہ غلام مجتبیٰ کے رہائشی محمد الکیف ولدسراج الحسن نے مدرسہ عربیہ مفتاح العلوم گنج مرادآباد میں ۱۴؍مہینے میں حفظ قرآن مکمل کیا،اس موقع پر مدرسہ مذکور میں تکمیل حفظ قرآن کی تقریب منعقد ہوئی ۔ تفصیلات کے مطابق مدرسہ عربیہ مفتاح العلوم گنج مرادآباد کے طالب علم حافظ محمد الکیف ولد سراج الحسن بانگرمؤ نے ۱۴؍ماہ میں حفظ قرآن کی تکمیل کی اس موقع پر ایک دعائیہ نشست کا اہمتام کیاگیا۔ دعائیہ نشست سے خطاب کرتے ہوئے مولانا رمضان جامعی امام وخطیب مسجد بلال جہدی پور نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قرآن جیسی عظیم کتاب کا یاد کرلینا نہ صرف عظیم نعمت ہے، بلکہ والدین کے لیے باعث سعادت کے علاوہ ادارے اور علاقے کے لیے اعزازکی بات ہے، قرآن کریم وہ مقدس کتاب ہے جس میں دنیا وآخرت کی کامیابی کے راز پنہا ہیں۔ حافظ قرآن اپنے سینے میں اللہ کا کلام محفوظ کرتاہے اور یہ سعادت ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی ۔ قبل ازیں مولانا مین الحق مظاہری استا ذ مدرسہ   ہٰذا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کی یہ کتاب زندۂ جاوید معجزہ ہے، یہ قیامت تک ایسے ہی باقی رہے گا۔
بعدازاں مولانا سفیان مظاہری استاذ مدرسہ  ہٰذا  نے عظمت صحابہ پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحابۂ کرامؓ کی تعظیم امت پر لازم ہے اور امت کا یہ اتفاقی فیصلہ ہے کہ صحابہ کرامؓ کی کسی بھی طرح کی بے ادبی اور گستاخی جائز نہیں ہے۔ ۔ انہوں نے کہا صحابہ، رسول اللہ کے فیض یافتہ ہیں، دین میں ان کی حیثت مثل جڑ ہے،جس طرح درخت بغیر جڑکے نہیں ،اسی طرح دین کی بنیادیں بھی صحابہ کے بغیر نہیں ۔ پروگرام کا آغاز عبدالرحمن کی تلاوت سے ہوا جبکہ نعت کا نذرانہ حافظ محمد قاسم فتحپورہمزہ نے پیش کیا۔ نظامت کے فرائض مفتی محمد جنیدقاسمی استا ذ مدرسہ ہٰذا نے انجام دیے۔اس موقع پر حافظ محمد فرقان مہتمم مدرسہ  ہٰذا  نے حاضرین کا شکریہ اداکیا ۔ تقریب میں مولانا عامل قاسمی امام مسجد غلا مجتبیٰ بانگرمؤ ، حافظ ضیاء الدین ناظم مدرسہ اصلاح العلوم غوث گنج ، مولانا شاہد جامعی،حافظ نعمان، حافظ عدنان، منشی اکرام حسین، حافظ مرسلین، منشی اشفاق ، حافظ سعید، ماسٹر یوسف، حافظ شوکت، حاجی حفیظ الرحمن، حاجی حسن احمد، افضال حسن ،ماسٹرمبین حافظ ارشاد، حافظ عارف، مہتاب عالم  بدرالدین، شریف الحسن، حافظ انس گورا، عیدالحسن،حاجی شمشاد، ضمیرالحسن،محمد ارشاد،ریاض الحسن،امتیازالحسن،صغیرا لحسن،محمد جاویدمحمد چاندخصوصی طور پر موجودرہے،ان کے علاوہ پس پردہ خواتین بھی موجود تھیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے